Jenin, Palestinian Territories: Veteran Al Jazeera journalist Shireen Abu Akleh was shot dead by Israeli troops Wednesday as she covered a raid on Jenin refugee camp in the occupied West Bank, the network said.Al Jazeera said Abu Akleh, 51, a prominent figure in the channel’s Arabic news service was shot “deliberately” and “in cold blood,” by Israeli troops

The Israeli army confirmed it had conducted an operation early Wednesday in Jenin refugee camp in the northern West Bank.

It firmly denied, however, that it had deliberately targeted journalists.

“The (army) of course does not aim at journalists,” a military official told AFP.

“There is an ongoing inquiry into this event. We offered and want to conduct a joint investigation with the Palestinians.”

The army said there was an exchange of fire between suspects and security forces and that it was “investigating the event and looking into the possibility that journalists were hit by the Palestinian gunmen.”

An AFP photographer at the scene said Abu Akleh was wearing a press flak jacket when she was shot.

‘Intentional’

Al Jazeera called on the international community to hold Israeli forces accountable for their “intentional targeting and killing” of Abu Akleh.

“In a blatant murder, violating international laws and norms, the Israeli occupation forces assassinated in cold blood Al Jazeera’s correspondent in Palestine,” it said.

Another Al Jazeera journalist, producer Ali Al-Samudi, was wounded during the clash, the broadcaster added.

In recent weeks, the Israeli army has stepped up operations in Jenin, an historic flashpoint in the Israeli-Palestinian conflict.

The Palestinian Authority called Abu Akleh’s killing an “execution,” and part of an Israeli effort to obscure the “truth” about its occupation of the West Bank.

An official of Hamas, which controls Gaza, called the incident “a premeditated murder.”

Media and press institutions should move to expel Israel and consider it an enemy of the freedom of the press,” said Ghazi Hamad of Hamas’s political bureau.

‘Shot in the head’

While the circumstances of Shireen Abu Akleh’s death were not clear, but videos of the incident show that she was shot in the head, according to the network.

“What we know for now is that the Palestinian Health Ministry has announced her death. Shireen Abu Akleh, was covering the events unfolding in Jenin, specifically an Israeli raid the city, which is north of the occupied West Bank, when she was hit by a bullet to the head,” Al Jazeera’s Nida Ibrahim said, speaking from the Palestinian city of Ramallah.

“As you can imagine, this is a shock to the journalists who have been working with her.”

Speaking through tears, Ibrahim said Abu Akleh was a “very well respected journalist” who has been working with Al Jazeera since the beginning of the second Palestinian Intifada in

افطار ڈنر میں ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو مسٹر کینتھ گبز سینئر نائب صدر ڈگلس جابلوں کے علاوہ کونسل ویمن شاہانہ حنیف عرب امریکن کونسل کے صدر حبیب‘میئرایرک آدم کے سینئر ایڈوائزر احسن چغتائی‘میئر آفس آف امیگرنٹ افیئرز کے کمشنر فریڈ کریذمین بروکلین بارو کے صدر مسٹر انتھونیوریانوسو‘کمیونٹی بورڈ 14کے چیئرمین مسٹر ایڈپاول کے علاوہ پاکستانی امریکن کمیونٹی اور عرب نژاد امریکنزکی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی

بروکلین‘ نیویارک (مجیب ایس لودھی سے)بروکلین دسویں ایونیو پر واقع اور بین الاقوامی سطح پر 5ویں ہارٹ ہسپتال میمونائیڈز ہسپتال کی جانب سے بروکلین میں رہائش پذیر مسلمانوں اور پاکستان کے اعزاز میں سالانہ افطار ڈنرمیمونائیڈز میڈیکل سنٹر کی جانب سے دیئے گئے اس گرینڈ افطار ڈنر میں ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو مسٹر کینتھ گبز سینئر نائب صدر ڈگلس جابلوں کے علاوہ کونسل ویمن شاہانہ حنیف عرب امریکن کونسل کے صدر حبیب‘میئرایرک آدم کے سینئر ایڈوائزر احسن چغتائی‘میئر آفس آف امیگرنٹ افیئرز کے کمشنر فریڈ کریذمین بروکلین بارو کے صدر مسٹر انتھونیوریانوسو‘کمیونٹی بورڈ 14کے چیئرمین مسٹر ایڈپاول کے علاوہ پاکستانی امریکن کمیونٹی اور عرب نژاد امریکنزکی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کینتھ گبز کا کہنا تھا کہ میمونائیڈز ہسپتال علاقے کے مسلمانوں کی طبی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم فریضہ ادا کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میمونائیڈزہسپتال مسلمانوں اور پاکستانیوں کیلئے ایک گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔مسلمانوں کے اس مقدس مہینے میں باہمی رواداری اور محبت کے جذبے کے تحت ہسپتال انتظامیہ باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے اس اہم ترین مہینے میں افطار ڈنر کا انعقاد کرتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بے رج کے علاقے میں جلد ایک نئے میڈیکل سنٹر کا آغاز کیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کو علاج معالجہ کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔افطار ڈنر میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی کثیر تعداد کے علاوہ عرب امریکن کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔عرب امریکن کونسل کے سابق صدر محمد جبران مرحوم کی بیوہ کو ان کی خدمات کے اعزاز میں شیلڈ بھی پیش کی گئی۔جبران مرحوم نے پاکستان کے دیہی علاقوں میں صاف پانی کے نلکے بھی لگوائے۔کونسل ویمن شاہانہ حنیف کے علاوہ میئر آفس آف امیگرنٹ افیئرز کے کمشنر فریڈکریذمین‘بروکلین بارو کے صدر انتھونیوریانوسو‘میئر آفس کے سینئر ایڈوائزراحسن چغتائی سمیت سینکڑوں افراد کی شرکت۔مہمانوں کوتحائف میں خوبصورت وال کلاک اورجائے نماز بھی دی گئیں۔

 

 

 

 

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا انسداد دہشت گردی اور بارڈر سیکیورٹی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہتا ہے۔

 پاکستان کے لیے امریکی سیکیورٹی امداد کی بحالی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ واشنگٹن، اسلام آباد کے ساتھ کچھ شعبوں میں تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دوطرفہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہم ان شعبوں میں مل کر کام جاری رکھنا چاہتے ہیں جہاں ہمارے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ باہمی مفادات ہیں، اس میں انسداد دہشت گردی بھی شامل ہے، اس میں اس کے ساتھ ساتھ بارڈر سیکیورٹی بھی شامل ہے۔افغانستان کی صورتحال سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے نیڈ پرائس نے گزشتہ ماہ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کی نشاندہی کی جس میں تین چینی اور ایک پاکستانی ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم نے کراچی یونیورسٹی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی تھی، ہم آج بھی اس مذمت کا اعادہ کرتے ہیں۔نیڈ پرائس نے کہا کہ کہیں بھی دہشت گرد حملہ ہر جگہ انسانیت کی توہین ہے لیکن کسی یونیورسٹی یا مذہبی مقام پر دہشت گرد حملہ کرنا انسانیت کی حقیقی توہین ہے۔ایک اور صحافی نے انہیں یاد دلایا کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے حال ہی میں بھارت کو باقاعدہ ضابطہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی اور پوچھا کہ کیا اس سفارش پر عمل کیا جائے گا۔انہوں نے جواب دیا کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ایک آزاد کمیشن ہے، یہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے، یہ امریکی حکومت کو سفارشات اور رہنمائی فراہم کرتا ہے، جب ہم دنیا بھر میں مذہبی آزادی یا اس کی کمی کے حوالے سے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہم باریک بینی سے دیکھتے ہیں۔

ریاض: مسجد نبوی (ﷺ) کے امور کی انتظامیہ نے مردوں اور خواتین کے لیے ریاض الجنہ میں نماز ادا کرنے کے اوقات کار کا اعلان کردیا۔

العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ مردوں کے لیے ریاض الجنہ میں نماز کے لیے دن میں دو اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ پہلے دورانیے میں نصف شب سے لے کر نماز فجر تک جبکہ دوسرا دورانیہ بعد نماز ظہر سے لے کر نماز عشاء تک ہوگا۔خواتین کے لیے پہلا دورانیہ بعد نماز فجر سے لے کر ظہر سے پہلے تک اور دوسرا دورانیہ نماز عشاء سے لے کر نصف شب تک ہو گا۔دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اوقات کی بکنگ “اعتمرنا” ایپ کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے۔اس سے قبل سعودی وزارت حج اور عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب آنے والے غیر ملکی عازمین کیلئے عمرہ سیزن کا اختتام 30 شوال اور انگریزی تاریخ کے مطابق 31 مئی کو ہوگا۔

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی موجودہ ترجمان جین ساکی 13 مئی کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گی ان کی جگہ پر صدر جوبائیڈن نے نائب ترجمان کیرین ژاں پیئر کو ترقی دیکر ترجمان مقرر کردیا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے فرانسیسی نژاد تارکین وطن گھرانے میں پیدا ہونے والی 44 سالہ کیرین ژاں پیئر کو وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان مقرر کردیا ہے۔ موجودہ ترجمان جین ساکی 13 مئی کو عہدہ چھوڑ دیں گی۔

امریکی صدر کی جانب سے مقرر کردہ وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان کیرین ژاں پیئر اعلانیہ ہم جنس پرست ہیں۔ کیرین ژاں پیئر وائٹ ہاؤس کی پہلی ہم جنس پرست اور پہلی ہی سیاہ فام خاتون ترجمان بھی ہوں گی۔کیرین ژاں پیئر نے صدر جوبائیڈن کی بااعتماد ساتھی ہیں اور انھوں نے 2020 کے صدارتی الیکشن میں جو بائیڈن کی انتخابی مہم کے دوران کافی محنت کی تھی اور اس سے پہلے وہ صدر بارک اوباما کے دور میں بھی وائٹ ہاؤس میں اہم ذمہ داریاں سنبھال چکی ہیں۔دونوں سابق صدور نے کیرین کو ہنر مند اور دیانتدار ساتھی قرار دیتے ہیں۔جین ساکی نے اپنا عہد چھوڑنے کی وجہ نہیں بتائی ہے تاہم ان کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ امریکی نیوز چینل ’’ایم ایس این بی سی‘‘ جوائن کر رہی ہیں۔

Under an Order with the FTC, California, Frontier Must Back up Speed Claims, Allow Customers to Drop Service without Penalty

The Federal Trade Commission has moved to stop internet service provider Frontier Communications from lying to consumers and charging them for high-speed internet speeds it fails to deliver. Under a proposed order with the FTC and two California law enforcement agencies, Frontier will be prohibited from tricking consumers about its slow internet service and required to support its speed claims. Frontier must also provide current customers with free and easy cancellations when it fails to deliver the promised speeds.

“Frontier lied about its speeds and ripped off customers by charging high-speed prices for slow service,” said Samuel Levine, Director of the FTC’s Bureau of Consumer Protection. “Today’s proposed order requires Frontier to back up its high-speed claims. It also arms customers lured in by Frontier’s lies with free, easy options for dropping their slow service.”

“My office will not stand by while businesses take advantage of consumers by failing to provide them with the services they have purchased,” said Los Angeles County District Attorney George Gascón. “We will continue to work together with our law enforcement partners to make sure that companies fulfill their promises to consumers and that they refrain from making false statements in their advertisements.”

Connecticut-based Frontier advertises and sells digital subscriber line (DSL) internet service in several plans, or tiers, based on download speed. In a complaint first filed in May 2021, the FTC alleged that Frontier advertised that it could provide various speeds of DSL internet service based on the type of plan consumers purchased. Many of the subscribers to Frontier’s DSL service are in rural areas where they may only have one choice, or very limited choices, for internet service.

The FTC alleged, however, that Frontier failed to provide many consumers with the maximum speeds they were promised and the speeds they actually received often fell far short of what was touted in the plans they purchased. Some customers complained that it was difficult to engage in typical online activities that should have been possible under the plan they purchased.

In addition to prohibiting the conduct outlined in the complaint, other provisions of the proposed order:

  • require Frontier to substantiate its internet speed claims at a customer-by-customer level for new and complaining customers and notify customers when it is unable to do so;
  • require Frontier to ensure it can provide the internet service speeds it advertises before signing up, upgrading, or billing new customers;
  • prohibit Frontier from signing up new customers for its DSL internet service in areas where the high number of users sharing the same networking equipment causes congestion resulting in slower internet service; and
  • require the company to notify existing customers who are receiving DSL internet service at speeds lower than was advertised and allow those customers to change or cancel their service at no charge.

Frontier also will be required to pay $8.5 million in civil penalties and costs to the Los Angeles County and Riverside County District Attorneys’ offices on behalf of California consumers as well as $250,000 that will be distributed to Frontier’s California customers harmed by the company’s practices. In addition, the company must discount the bills of California customers who have not been notified that they are receiving DSL service that is much slower than the highest advertised speed. Frontier is required to deploy fiber-optic internet service, which is generally much faster than DSL, to 60,000 residential locations in California over four years—at an estimated cost of $50 million to $60 million.

The Commission vote approving the stipulated final order was 4-0. Commissioner Noah Joshua Phillips issued a concurring statement. The FTC filed the proposed order in the U.S. District Court for the Central District of California.

Workers Fired Due to COVID-19 Crisis to Receive Additional Severance Pay

 New York Attorney General Letitia James today announced an agreement with Marriott International, Inc. that will provide hundreds of previously terminated workers with more than $2.9 million in undelivered severance pay. Management at the Marriott Marquis Hotel in Times Square promised non-unionized employees the same or better benefits as unionized hotel workers, but when more than 800 workers were fired in March 2021, non-unionized former employees received less severance pay than those who were members of a union. As part of the agreement, Marriott will pay $2.95 million to more than 500 individual workers who would have received greater amounts of severance had they been unionized.

“Marriott fired hundreds of employees last year due to the pandemic and to add insult to injury, deprived them of the financial security they needed during that critical time,” said Attorney General James. “No individual should ever feel the hopelessness that these workers felt when Marriott failed to deliver the severance pay they were promised. I will always protect the fair, equal treatment of New York’s workers and ensure they get the benefits they are entitled to.”

The Marriott Marquis announced plans to furlough 1,000 employees in March 2020 due to COVID-19’s impact on New York City and the New York hotel business. The hotel fired more than 800 workers in March 2021, and in April 2021, the Office of the Attorney General (OAG) launched an investigation into the firings. Through interviews conducted with Marriott’s former employees, OAG found that managers and supervisors at the Marriott Marquis promised their hourly employees equal or better benefits than unionized employees at other New York City hotels. However, when Marriott fired the workers, Marriott offered severance that was capped at 10 weeks of pay, while the severance available to unionized workers is not capped. By not fulfilling Marriott’s promise of same or better benefits as unionized workers, Marriott violated section 63(12) of the Executive Law, which gives OAG the authority to investigate allegations of civil fraud.

The agreement with Marriott requires the company to pay $2.95 million to workers who would have received greater amounts of severance had they been unionized.

“We would like to thank New York Attorney General Letitia James, her office’s Labor Bureau, and our attorney Richard Corenthal for all the hard work that they put in, and for reaching the agreement providing for additional severance to hundreds of workers laid off from the Marriott Marquis in Times Square during the pandemic,” said Piotr Szewczyk, a former worker at Marriot Marquis. “By requiring Marriott to pay more fair severance that the company initially promised to its long time, dedicated laid-off workers, Attorney General James has let the greedy corporations know that they must keep their promises and treat their hard-working employees fairly.”

“As one of the many non-Unionized workers in New York City who have very few protections when working for large corporations, I would like to thank New York Attorney General Letitia James, her office, Richard S. Corenthal, and the office of Archer Byington Glennon & Levine LLP for helping the terminated workers of the Marriott Marquis negotiate a proper severance agreement,” said Jonathan Peter Dorton, a former worker at Marriot Marquis. “It restores my faith that we do have a voice and it’s our right as citizens of the United States of America and as a New Yorker to stand up and fight for what we were promised.”

“It is notoriously difficult for low-wage workers to recover lost and stolen wages, particularly when they work outside of the protection of a collective bargaining agreement,” said State Senator Jessica Ramos. “I’m grateful that those workers have the unwavering support of our attorney general. Management at Marriott Marquis employed a nefarious strategy, pitting union and non-union employees against each other and making both groups of workers more vulnerable to exploitation in the process. That will not stand in New York. The Attorney General’s office and I are committed to ensuring that no employer pads their bottom line with wages stolen from working people.”

“This agreement is a massive win for workers across New York and sends a strong message to corporations who do business in our state: You will be held accountable,” said State Senator Brad Hoylman. “Attorney General Letitia James is a champion of the law and our working populations, and this victory is entirely hers and the workers who advocated for themselves throughout this process.”

“Wage theft is a problem endemic in New York state, and each year workers are deprived of $1 billion of wages they are owed,” said State Assemblymember Linda B. Rosenthal. “I applaud Attorney General Letitia James for ensuring that workers at the Marriot Marquis did not fall into the category of workers who were stiffed. Corporations should realize that actions that break the law will be noticed by our attorney general.”

The agreement announced today marks Attorney General James’ most recent effort to ensure that New Yorkers receive the pay they deserve. Last week, Attorney General James recovered $175,000 for employees of Gotham Pizza who were cheated out of their pay. Earlier in April, Attorney General James secured nearly $900,000 for more than 200 NYCHA construction workers who were underpaid by Lintech Electric. In March, she announced agreements with two home health agencies for cheating employees out of wages and submitting false Medicaid claims. That same month, she secured an agreement with Sanford Apt. Corp (Sanford), a cooperative residential apartment building in Flushing, Queens that refused to pay its superintendents for their work.

The OAG’s Labor Bureau enforces worker protection laws that protect workers from wage theft and other exploitation and investigates alleged violations of minimum wage, overtime, prevailing wage, and other labor laws throughout the state. If anyone has questions or believes that they have been a victim of wage theft or other labor law violations, please contact OAG at 212-416-8700 or [email protected].

This matter was handled by Assistant Attorney General Anielka Sanchez Godinez, Civil Enforcement Section Chief Fiona J. Kaye, and Investigator Robert Pompey-Goodman, under the supervision of Deputy Labor Bureau Chief Julie Ulmet and Labor Bureau Chief Karen Cacace. The Labor Bureau is a part of the Division for Social Justice, which is led by Chief Deputy Attorney General Meghan Faux and overseen by First Deputy Attorney General Jennifer Levy.