اومی کرون کا پھیلاؤ‘ ڈبلیو ایچ او کا نیا انتباہ” نئے سال کی تقریبات منسوخ

0
37

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جس کے بعد یورپ اور امریکا سمیت متعدد ممالک میں نئی پابندیاں متعارف امریکا میں پونے دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ‘خوف وہراس
اومی کرون نے کرسمس کی چھٹیوں کی خوشیاں افسردگی میں تبدیل کر دیں‘ہزاروں پروازیں منسوخ‘ لوگ وبائی مرض کے بدترین مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، اومی کرون ہم سبھی کے گھروں پر دستک دینے والا ہے‘بل گیٹس
ایک ایونٹ منسوخ کرنا ایک زندگی ختم کرنے سے بہتر ہے‘ آج جشن منا کر کل غم منانے سے بہتر ہے ہم کل ہی جشن منائیں، اومی کرون ویرینٹ کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے‘سربراہ ڈبلیو ایچ او 

واشنگٹن:___ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی وبا اومیکرون اور بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی نئی لہر کی وجہ سے نئی پابندیاں متعارف کرا دی گئیں‘اومیکرون ویریئنٹ نے کرسمس کی چھٹیوں کی خوشیاں بھی افسردگی میں تبدیل کر دیں۔ مختلف ہوائی کمپنیوں کی ساڑھے چار ہزار سے زائد پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا‘کئی ممالک میں نئے سال کی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا۔اومی کرون کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث امریکہ میں ہر طرف خوف وہراس پایا جاتا ہے-کورونا وائرس کی قسم اومی کرون کے باعث کرسمس اور ویک اینڈ کی چھٹیوں پرائیرلائن انڈسٹری کا کاروبار ایک بار پھر ٹھپ ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق اومی کرون کے خوف کے باعث دنیا بھرمیں تقریباً 8 ہزار پروازیں منسوخ ہوئیں۔اس کے علاوہ ہزاروں پروازیں تاخیرکا شکار ہوئیں، متعدد ائیرلائنز کے پائلٹس اور دیگر عملہ کورونا میں مبتلا ہوچکا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے اومی کرون کے بارے میں نیا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ کے پیش نظر تقریبات کو ملتوی کردینا چاہیے۔ اومی کرون ویرینٹ پر قابو پانے کیلئے ہالیڈے ایونٹس کو موخر یا منسوخ کردینا چاہئے، کیونکہ ایک ایونٹ منسوخ کرنا ایک زندگی ختم کرنے سے بہتر ہے۔ آج جشن منا کر کل غم منانے سے بہتر ہے کہ ہم کل ہی جشن منائیں، شواہد موجود ہیں کہ اومی کرون ویرینٹ کورونا کے ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ایک بیان میں مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے متنبہ کیا تھا کہ لوگ اب وبائی مرض کے بدترین مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، اومیکرون ویرینٹ ہم سبھی کے گھروں پر دستک دینے والا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کیسز کی تعداد ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جس کے بعد یورپ اور امریکا سمیت متعدد ممالک میں نئی پابندیاں متعارف کرادی گئی ہیں۔ امریکا میں پونے دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ امریکی شہرنیویارک میں کورونا سے متاثربچوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کے ہسپتالوں میں کورونا سے متاثربچوں کی تعداد میں چارگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ ہسپتال میں داخل بچوں کی بڑی تعداد کو ویکسین نہیں لگی ہے۔نیویارک کے حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں نیویارک کے قریبی علاقوں سے بھی بچے لائے گئے ہیں۔ نیویارک اورنواحی علاقوں میں اومیکرون ورینٹ بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔نیویارک کے قائم مقام ہیلتھ کمشنرکا کہنا ہے کہ کورونا سے بچوں کوحقیقی خطرہ لاحق ہے۔ صورتحال کومزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے والدین اورحکام کومل کراقدامات اوراحتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔پیرس نے پہلے ہی نئے سال کی تقریبات کو منسوخ کردیا جبکہ جرمنی نے ان تقریبات میں لوگوں کی تعداد کو 10 لوگوں تک محدود کردیا ہے جبکہ نائٹ کلب بند کرتے ہوئے فٹبال میچز سمیت بڑے مجمعوں اور تقریبات پر پابندی لگا دی ہے۔جرمن چانسلر اولف شولز نے کہا کہ یہ کئی تقریبات یا یا کئی لوگوں کے ساتھ پارٹیز منانے کا وقت نہیں ہے۔ آسٹریا میں نئی پابندیاں لاگو کرتے ہوئے رات 10 بجے کے بعد کاروبار کھولنے اور لوگوں کی بلاضرورت نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔دوسری جانب ایکسپو2020 میں جاپانی پویلین سے منسلک سوشیرو ریسٹورنٹ کے 10 ورکرز میں وائرس میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ایکسپو کے عملے کی روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی ٹیسٹنگ میں ان افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی اور عملے کے وائرس کی زد میں آنے کے بعد ریسٹورنٹ کو بند کردیا گیا۔سنگاپور نے قرنطینہ کے بغیر ٹکٹ کی فروخت کے پروگرام کو بند کرتے ہوئے 23دسمبر سے ملک میں آنے والے تمام مسافروں کے لیے قرنطینہ کو لازمی قرار دے دیا۔اس کے علاوہ سنگاپور نے نئی ٹکٹوں کی فروخت کا سلسلہ بھی ایک ماہ کے لیے موخر کردیا اور ان کا کہنا تھا کہ خطے میں وائرس کی صورتحال کو دیکھنے کے بعد وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔اومیکرون ویریئنٹ نے کرسمس کی چھٹیوں کی خوشیاں افسردگی میں تبدیل کر دیں۔ مختلف ہوائی کمپنیوں کی ساڑھے چار ہزار سے زائد پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا۔دنیا بھر میں کرسمس کے دن یعنی پچیس دسمبر کو دو ہزار کے قریب پروازیں منسوخ کی گئیں اور اتوار کو مزید 500 پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا گیا۔فلائٹ اویئر ڈاٹ کام ٹریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق کرسمس سے ایک دن قبل جمعہ چوبیس دسمبر کو مختلف ہوائی کمپنیوں نے دو ہزار چار سو پروازوں کو منسوخ کیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ کرسمس سے قبل کا دن ہوائی کمپنیوں کے لیے ایک انتہائی مصروف دن تصور ہوتا ہے لیکن رواں برس کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے پھیلاؤ نے ہوائی کمپنیوں کے عملے کے کئی افراد کو بھی بیمار کر دیا اور اس باعث پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔امریکا کے اندر اور بیرون امریکا پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ ویک اینڈ پر مجموعی پروازوں کا ایک چوتھائی منسوخ کر دیا گیا۔ امریکی ہوائی کمپنیوں یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ڈیلٹا ایئر لائنز نے تین سو سے زائد پروازیں شیڈول سے اس بنیاد پر ہٹائیں کہ فضائی ملازمین کی قلت کے علاوہ کووڈ انیس کی نئی انفیکشنز میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یونائیٹد ایئرلائنز نے تو واضح طور پر اومیکرون ویرئینٹ کے پھیلاؤ کو اپنے بیان میں شامل کیا ہے۔ ان امریکی ہوائی کمپنیوں نے پروازوں کی منسوخی کے بعد مسافروں کو مطلع بھی کیا ہے۔برطانیہ میں کئی کارخانوں میں اسٹاف کی کمی کی وجہ کووڈ انیس کا دوبارہ پھیلاؤ خیال کیا گیا وہاں ہوائی کمپنیوں کے ملازمین کو بھی علالت کا سامنا ہے اور بیمار ورکرز قرنطینہ میں ہیں۔جرمن ہوائی کمپنی لفتھانزا نے چوبیس دسمبر کو بتایا تھا کہ اس نے کئی پروازیں اس بنیاد پر منسوخ کر دی ہیں کہ کہ پائلٹ علیل ہو گئے ہیں اور وہ قرنطینہ میں ہیں۔ جرمنی میں کرسمس کے موقع پر کورونا انفیکشنز میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ادھر آسٹریلیا کی ایک ہوائی کمپنی جیٹ اسٹار ایئر لائنر نے اومیکرون کے خدشے میں اپنے ملازمین کے کورونا ٹیسٹ شروع کر دیے ہیں اور جن ملازمین میں انفیکشنز پایا گیا، انہیں قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے کئی پروازیں آخری وقت میں منسوخ کر دی گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی اور کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔رواں برس بھی کووڈ انیس وبا کا پریشان کن سایا کرسمس کی خوشیوں پر چھایا رہا۔ بیت لحم سے فرینکفرٹ اور لندن سے بوسٹن تک گرجا گھروں میں عبادت گزاروں کے داخلے کو محدود رکھا گیا۔جرمنی میں گرجا گھر سخت پابندیوں کے ضوابط کی گرفت میں تھے اور اس باعث کم تعداد میں عبادت گزار کرسمس کی دعائیہ تقریبات میں شامل ہو سکے۔ فرینکفرٹ کیتھڈرل میں بارہ سو افراد کی گنجائش ہے لیکن صرف ایک سو سینتیس عبادت گزار کرسمس کا واعظ سننے پہنچے۔بیلہجیم میں لوگوں نے اپنے کرسمس ٹری کھڑکیوں میں الٹے لٹکا کر ثقافتی مقامات میں داخلے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا۔ البتہ بیت لحم میں ہزاروں مقامی اور غیر ملکی زائرین کرسمس کی تقریبات میں ضرور شریک ہوئے۔ اس مرتبہ بیت لحم میں گہما گہمی گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here