اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے پر اظہار تشکر کی شاندار تقریب

0
136

 اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ووٹ ڈالنے کا حق موجود ہے‘ 1992ء میں امریکی یاسمین نامی خاتون نے پاکستانیوں کو سپریم کورٹ سے ووٹ کا حق لیکر دیا‘ تحریک انصاف کا خاصا رہا اس نے تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر جوائنٹ سیشن بلا کر اوورسیز کے ووٹ کا بل پاس کر دیا‘داؤد غزنوی
 آج کی تقریب اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی کامیابی ہے‘ میاں ذاکر نسیم نے 2003ء میں اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ (ق)کی حکومت سے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ووٹ ڈالنے کے حق کیلئے مطالبے کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کی میتوں کو فری پاکستان بھجوانے کا مطالبہ بھی کیا تھا‘چوہدری آصف
 تاریخ میں پہلی مرتبہ اوورسیز پاکستانیو ں کو پاکستان کی سیاست میں عملی کردار کا موقع ملا جس کی وجہ سے اوورسیز پاکستانی پاکستانی نظام حکومت میں براہ راست کردارا دا کریں گے‘امجد نوازصدیقی“ اوورسیز ووٹنگ رائٹس بل ہماری نسلوں کیلئے نیک شگون ثابت ہو گا‘چوہدری پرویز ریاض امراء
آج اوورسیزپاکستانی جس مقام پر کھڑے ہیں وہ حکومتی اتحادی پارٹیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی مشترکہ جدوجہدکا نتیجہ ہے‘کمیونٹی کی خدمات کا مشن جاری رکھیں گے‘میاں ذاکر نسیم
(منظور حسین سے)
بروکلین‘نیویارک:___  حکومت پاکستان کی اتحادی پارٹی اور پاکستانی سیاست میں آنے والے اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والی مسلم لیگ (ق)یو ایس اے کے صدر معروف پاکستانی امریکن بزنس مین میاں ذاکر نسیم کے بروکلین میں واقع خوبصورت اور وسیع وعریض دفتر میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق)کی مشترکہ جدوجہد اور کوششوں سے دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کو وطن عزیز کے انتخابی نظام میں ووٹ ڈالنے کے حقوق کے ملنے کی خوشی میں ایک دلکش تقریب کا انعقاد کیاگیا جس میں اووسیز خصوصی طور پر امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق اور اس میں حالیہ قومی اسمبلی سے پاس کئے جانے والے تاریخی بل اور دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں سے منسلک اس بل کی تحریک کے بانی اور دنیا بھر کے پاکستانیوں کو متحرک کرنے والی نوجوان شہرہ آفاق شخصیت  بیرسٹر داؤد غزنوی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماء اٹارنی چوہدری آصف اور ہر مکتبہ فکر کے افراد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں ذاکر نسیم نے کہا کہ وہ آنے والے مہمانوں کومبارکباددیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔آج اوورسیزپاکستانی جس مقام پر کھڑے ہیں وہ حکومتی اتحادی پارٹیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی مشترکہ جدوجہدکا نتیجہ ہے۔کمیونٹی کی خدمات کا مشن جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر اوورسیز ووٹنگ کے حقوق کیلئے پاس ہونے والے بل کے محرکات کے حوالے سے حاضرین کو بتاتے ہوئے بیرسٹر داؤد غزنوی کا کہنا تھا کہ قومی سطح کی تحریک کو انسان اکیلا نہیں چلا سکتا۔آج کی کامیابی ہماری اجتماعی کامیابی ہے۔بیرسٹر داؤد غزنوی کا کہنا تھا کہ ووٹ ڈالنے کی اجازت تو اوورسیز پاکستانیوں کو مل گئی مگر ووٹ ڈالنے کیلئے جومیکنزم اختیار کیا گیا ہے اور جس کیلئے اوورسیز میں بسنے والے میاں ذاکر نسیم کی اس اہم میکنزم میں کردار کویاد رکھا جائے گااورچوہدری آصف جیسے قابل فخر شخصیات کی محنت کی بدولت پاکستان کی سپریم کورٹ میں 18کروڑروپے کی لاگت سے تیار ہونے والا ووٹ کاسٹ کرنے والا میکنزم تیار کرایا۔جسے آئی ووٹ کا نام دیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ 99فیصد لوگوں کو معلوم نہیں کہ دیار غیر میں بیٹھ کر ووٹ ڈالنے کا نظام موجود ہے جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم کردار ہے۔ داؤد غزنوی کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ووٹ ڈالنے کا حق موجود ہے اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 1992ء میں امریکی یاسمین نامی خاتون نے پاکستانیوں کو سپریم کورٹ سے ووٹ کا حق لے کر دیا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا خاصا رہا کہ اس نے تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر جوائنٹ سیشن بلا کر اوورسیز کے ووٹ کا بل پاس کر دیا اس موقع پر چوہدری آصف نے نقابت کے فرائض بخوبی ادا کرتے ہوئے اپنے مدبرانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی کامیابی ہے ان کا کہنا تھا کہ میاں ذاکر نسیم نے 2003ء میں اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ (ق)کی حکومت سے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ووٹ ڈالنے کے حق کیلئے مطالبے کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کی میتوں کو فری پاکستان بھجوانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ان کا یہ مطالبہ مان لیا گیا اور یوں اس تحریک کا آغاز ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی اتحادی جدوجہد کے نتیجے میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔چوہدری آصف کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت 15ملکوں میں رہائش پذیر پاکستانیوں نے مشترکہ پٹیشن اس مخصوص بل کیلئے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس میں میاں ذاکٹر اورمیں بذات خود بھی شامل تھا جہاں سپریم کورٹ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا مگر اس وقت کی حکومتوں نے اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کا حق دینے سے اجتناب کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی اوورسیز پاکستاانیوں سے محبت کے نتیجے میں آج ہمیں ووٹ کا حق ملا۔اس موقع پر تحریک انصاف کے ڈائی ہارڈرہنماء امجد نواز صدیقی نے کہا کہ آج اوورسیز پاکستانی مبارکباد کے مستحق ہیں۔امجد نواز کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اوورسیز پاکستانیو ں کو پاکستان کی سیاست میں عملی کردار کا موقع ملا جس کی وجہ سے اوورسیز پاکستانی پاکستانی نظام حکومت میں براہ راست کردارا دا کریں گے۔امجد نواز کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی پاکستانی اپنے فارن ایکسچینج اور اپنی تعلیم کی وجہ سے وطن عزیز کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا جذبہ اور کوشش رہی کہ ہم ایک تابناک پاکستان کیلئے جدوجہد کرتے رہیں۔آج عمران خان کا وژن کامیاب ہوا۔ امجد نواز کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کودوہری شہریت رکھتے ہوئے انتخاب لڑنے کا موقع بھی دیا جائے یہ نہ ہو کہ ہماری امریکہ میں پیدا ہونے والی نسل پاکستان سے اپنا رشتہ منقطع کر لے جس کا انہیں اندیشہ ہے اور انہیں یہ اندیشہ ہے کہ اگر دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو وطن عزیز میں انتخابات میں حصہ لیکر۔دیار غیر میں بسنے والی نئی نسل اور پاکستان کے درمیان ایک اہم پل بننے کا کردار ادا کرنے سے روکاگیاتونتیجتاًاس کا اثر فارن ایکسچینج پر بھی پڑے گا جس سے ملکی معیشت کو نقصان ہو گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری پرویز ریاض امراء نے کہا کہ اوورسیز ووٹنگ رائٹس بل ہماری نسلوں کیلئے نیک شگون ثابت ہو گا۔ریاض امراء کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی اوورسیز پاکستانیوں سے محبت کیوجہ سے یہ بل پاس ہوا۔انہوں نے اوورسز ووٹنگ بل کے پاس ہونے میں بیرسٹرداؤد عزنوی کی کاوشوں کو سراہا۔ اتحادی جماعتوں کو اس بل کے پاس ہونے کا سہرا جاتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد رضا رانجا نے کہا کہ آج سے ایک دہائی قبل قومی اسمبلی کے سابق سپیکر گوہر ایوب کواوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کیلئے جو خط لکھا گیا وہ میری طرف سے تھا۔شاہد رانجھا کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اوورسیزونگز انتہائی دیانت داری قابل اور پڑھے لکھے لوگ ہیں یہ زندگی کے اتار چڑھاؤ اور بغیر پیسے کے بہتر زندگی گزارنا جانتے ہیں جس سے پاکستان کے سیاستدان خوفزدہ ہیں اسی وجہ سے وہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتے جس کا انہیں اندیشہ ہے اور انہیں یہ بھی اندیشہ ہے کہ اگر دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو وطن عزیز میں انتخابات میں حصہ لے کر دیار غیر میں بسنے والی نئی نسل اور پاکستان کے درمیان ایک اہم پل بننے کا کردار ادا کرنے سے روکا گیا تو نتیجہ میں نئی نسل شائد اس تعلق میں جاری سلسلے کے کم ہونے سے اوورسیز سے بھیجے جانے والے فارن ایکسچینج پر بھی اثر پڑے گا جس سے ملکی معیشت کو نقصان ہو گا۔تقریب میں شہزاد‘شاہدکامریڈ‘قمر دین‘سلیم احمد‘امام احمد‘سائرہ سیار‘غلام فریدلنگڑیال‘ افتخار بٹ اور ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here