کشمیری انسانی حقوق کے کارکن کو رہا کیا جائے، اقوام متحدہ

0
43

اس سے قبل بھی انسانی حقوق کے کاموں کے لیے انہیں نشانہ بنایا جا چکا ہے

نیویارک (نیوز ڈیسک)بھارت نے حال ہی میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن خرم پرویز کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تفتیش کا بھی مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک سرکردہ کارکن خرم پرویز کی، ’انسداد دہشت گردی‘ جیسے سخت قوانین کے تحت گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ’کمشنر برائے انسانی حقوق‘ (او ایچ سی ایچ آر) نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہمیں کشمیری انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز کی انسداد دہشت گردی جیسے بھارتی قانون (یو اے پی اے) کے تحت گرفتاری پر گہری تشویش ہے۔کشمیر میں لاگو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت کسی بھی شخص کو مہینوں بغیر کسی سماعت کے جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ بھارت میں بھی کئی حلقوں کی جانب سے اس سخت قانون پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے اور اب اقوام متحدہ نے بھی اس قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ادارے کے ترجمان روپرٹ کولوائل کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے ابھی لا علم ہیں کہ خرم پر کس نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم یہ سچ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے ایک سچّے محافظ ہیں اورا س سے قبل بھی انسانی حقوق کے کاموں کے لیے انہیں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ 2016ء میں بھی جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل کے سفر کے لیے انہیں روک دیا گیا تھا اور ایک متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈھائی ماہ تک انہیں حراست میں رکھا گیا تھا۔ پھر جب جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیا تب انہیں رہا کیا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here