دنیا کو وائرل حملے کیلئے تیار ہونا ہو گا نئی لہرتباہ کن ہو گی‘ ماہرین

0
50

مستقبل کی وبائی بیماریاں کورونا سے زیادہ مہلک ہو سکتی ہیں‘دنیا اگلے وائرل حملے کیلئے تیار رہے‘سائنسدان‘کورونا اب تک دنیا بھر میں 52لاکھ افراد کی زندگیاں لے چکا ہے‘ اگلی لہر انتہائی تباہ کن ہو گی‘سارہ گلبرٹ
2020ء کے دوران دنیا بھر کے ملکوں میں کوروناوباء کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیاء کی طلب میں کمی واقع ہوئی‘ کووڈ کی بیماری نے دنیا بھر میں معیشت کو شدید کمزور کیالیکن ہتھیارسازی کا شعبہ پھلتا پھولتا رہا
100 بڑی اسلحہ بیچنے والی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 531 بلین ڈالر یا469 بلین یورو کے ہتھیار بنائے اور فروخت کیے‘ اسلحہ ساز کمپنیوں میں 41 فیصد کا تعلق امریکا سے ہے‘پروڈکشن اور فروخت کا حصہ 54 فیصد ہے

برسلز‘ واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین تیار کرنے والی ٹیم میں شامل ایک سائنسدان نے کہا ہے کہ مستقبل کی وبائی بیماریاں کورونا وائر س سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتی ہیں -دنیا کو اگلے وائرل حملے کیلئے تیار رہنا چاہئے-جان ہابکنز یونیورسٹی کے مطابق کورونا وائرس اب تک دنیا بھر میں 52لاکھ افراد کی زندگیاں لے چکا ہے-پروفیسر سارہ گلبرٹ کا کہنا ہے کہ اگلی لہر انتہائی تباہ کن ہو گی-دنیا بھر میں ایک جانب کورونا وائرس نے عالمی معیشت کو متاثر کر کے رکھا ہوا ہے لیکن دوسری جانب دنیا کی ہتھیار سازی کی ایک سو بڑی کمپنیوں نے پانچ سو اکتیس بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ 2020ء کے دوران کورونا وبا میں عالمی معیشت کو متاثر کیا لیکن ہتھیاروں کی فروخت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔سن 2020 کے دوران دنیا بھر کے ملکوں میں کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے اشیا کی طلب میں کمی واقع ہوئی اور صارفین میں بیزاری و پریشانی کا عنصر نمایاں رہا۔ کووڈ انیس کی بیماری نے دنیا بھر میں معیشت کو شدید کمزور کیا اور عالمی اقتصادی صورت حال میں گراوٹ دیکھی گئی۔ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود ایک ایسا بھی شعبہ ہے جس میں کاروبار پھیلتا پھولتا رہا۔ یہ شعبہ ہتھیار سازی اور اس کی فروخت کا شعبہ ہے۔ اس شعبے سے وابستہ دنیا کی ایک سو بڑی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوا۔تھنک ٹینک سپری کی محقق الیگزانڈرا مارکشٹائنر نے بتایا کہ سن 2020 کورونا وبا کا پہلا مکمل سال تھا اور اس میں سب سے حیران کن بات یہ دیکھی گئی کہ عالمی معیشت کی شرح میں 3.1 فیصد سکڑاؤ پیدا ہوا لیکن اسلحے اور ہتھیاروں کے کاروبار کو وبا کے دور میں بھی فروغ حاصل ہوا۔ مارکشٹائنر کے مطابق اس شعبے میں 1.3 فیصد کی وسعت پیدا ہوئی۔سالِ گزشتہ میں ایک سو بڑی اسلحہ بیچنے والی کمپنیوں نے مجموعی طور پر پانچ سو اکتیس بلین ڈالر یا چار سو انہتر بلین یورو کے ہتھیار بنائے اور فروخت کیے۔ یہ مالیت بیلجیم کی اقتصادی پیداوار سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ان اسلحہ ساز کمپنیوں میں اکتالیس فیصد کا تعلق امریکا سے ہے اور ان کا اسلحے کی پروڈکشن اور فروخت کا حصہ چون فیصد کے قریب ہے۔ ان میں سب سے اہم امریکا کی بڑی ہتھیار ساز کمپنی لاک ہیڈ سب سے نمایاں ہیں، جس نے اٹھاون بلین کا اسلحہ تیار کیا اور بیچا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان اسلحہ ساز کمپنیوں کو سیاسی قوتوں کا سہارا بھی حاصل ہے۔ بون انٹرنیشنل سینٹر برائے مطالعاتِ تنازعات کے پولیٹیکل سائنٹسٹ کارکوس بایر کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار بنانے والی کمپنیاں بعض معاملات میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ انہوں نے ایک امریکی غیر حکومتی تنظیم ”اوپن سیکرٹ“کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، جس میں بیان کیا گیا کہ آرمز کمپنیاں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔تھنک ٹینک سپری کی محقق الیگزانڈرا مارکشٹائنر کا کہنا ہے کہ بعض امریکی کمپنیوں کو وبا کے دوران بھی امریکا کی وزارتِ خارجہ کی مخصوص حمایت بھی حاصل رہی ہے۔جرمن شہر فرینکفرٹ میں قائم تھنک ٹینک پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں آرمز کنٹرول ایکسپرٹ سیمونے ویسوٹسکی کا کہنا ہے کہ اسلحے کی دوڑ میں گلوبل ساؤتھ کی کمپنیوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور انہوں نے اس میں بھارت کا حوالہ دیا ہے۔ ویسوٹسکی کے مطابق ایک سو بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں بھارت سے تعلق رکھنے والی تین ہتھیار ساز کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کی فروخت مجموعی فروخت کا 1.2 فیصد ہے اور یہ جنوبی کوریائی کمپنیوں کے مساوی ہے۔بھارت کے شمالی ہمسایہ ملک چین میں اسلحہ سازی کی کئی فیکٹریاں ہیں۔ ان میں پانچ کو چین کی فوج کو جدید بنانے کے پروگرام کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ چین کا ہتھیاروں کی کْل فروخت میں حصہ تیرہ فیصد بنتا ہے اور یوں اسے براعظم ایشیا میں پہلا مقام حاصل ہے۔کورونا ویکسین بنانے والی کمپنی ایسڑا زینیکا نے کہا ہے کہ مستقبل میں آنے والی وبائیں کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسینالوجی کی پروفیسر سارہ گلبرٹ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وائرس نے ہماری زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ یہ ہے کہ اگلی وبا سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ وہ زیادہ پھیل سکتی ہے یا زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے یا یہ دونوں چیزیں ہو سکتی ہیں۔جس صورتحال سے ہم اب گزر رہے ہیں ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے جو پیش رفت کی ہے اور جو علم حاصل کیا ہے اسے رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔پروفیسر سارہ گلبرٹ نے کہا کہ اومی کرون ویریئنٹ تبدیل ہوتا ہے جس کی وجہ سے وائرس زیادہ پھیلتا ہے۔کچھ اضافی تبدیلیاں ہیں جن کا مطلب ہے کہ ویکسین سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز اومی کرون سے بچانے میں کم موثر ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہمیں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوتیں ہمیں محتاط رہنا چاہیے اور کورونا کی نئی قسم کو روکنے کیلیے اقدامات کرنے چاہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here