حکومت سے مذاکرات کامیاب، پیٹرولیم ڈیلرز کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

0
54

اسلام آباد /  کراچی: حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان معاہدہ طے پاگیا جس کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ہڑتال نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

 پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات طے پاگئے ہیں جس کے بعد پمپ مالکان ہڑتال ختم کرنے پر راضی ہوگئے جس کا باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے وزارت توانائی نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ڈیلر مارجن میں 99 پیسے فی لیٹر اضافے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے 99 پیسے اضافے کی منظوری لے گی جب کہ 6 ماہ بعد مارجن میں مہنگائی کے تناسب سے ردو بدل پر بھی اتفاق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے دوران ڈیلرز کو حتمی جواب دیا تھا کہ وہ 99 پیسے سے زیادہ مارجن نہیں بڑھا سکتے اب مزید ہڑتال جاری رکھنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلرز ایسوسی ایشن حکومت کے اس جواب کے بعد ہڑتال ختم کرنے پر راضی ہوگئی۔ذرائع کے مطابق حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن پر ششماہی بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، ڈیزل پر مارجن 3.30 سے بڑھا کر 4.13 روپے مقرر کیا جائے گا جب کہ  پیٹرول پر مارجن 3.91 روپے  4.90 روپے سے بڑھکردیا جائے گا۔اس حوالے سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے اپنی رہائش گاہ پرایسوسی ایشن کی عہدے داران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی پریشانی کا احساس تھا اور بہت مجبوری میں یہ قدم اٹھانا پڑا، ہم نے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے موقف میں لچک دکھائی اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم۔ڈیلرز کا مارجن 4.4 فیصد کرنے کی یقین دہانی کی بعد ہڑتال ختم کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے مارجن میں اضافہ کی سمری میں پیٹرول اور ڈیزل پر موجودہ مارجن میں 25.20 فیصد اضافہ کی تجویز دی ہے جس کے مطابق  پیٹرولیم ڈیلرز کا پیٹرول پر مارجن 3.91 روپے سے بڑھ کر 4.90 روپے جبکہ ڈیزل پر 3.30 سے بڑھ کر 4.13 روپے مقرر کرنے کی حکومتی یقین دہانی کرائی گئی ہے، پیٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن پر ششماہی بنیادوں پر نظر ثانی کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔دریں اثنا ہڑتال ختم ہونے کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں پٹرول پمپس کھلنا شروع ہوگئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here