پاکستان میں مستحقین کی امداد کیلئے امریکا میدان میں آگیا، ڈالروں کی بارش کر دی ،

0
39

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا پاکستان کو غریب اور مستحق افرادکی معاونت کیلئے70 لاکھ ڈالر فراہم کرے گا، رقم احساس پروگرام کے تحت بےروزگاروں میں تقسیم کی جائے گی، یہ رقم ایشیائی ترقیاتی بینک کے پراجیکٹ کے تحت پاکستان کو ملے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے تحت امریکا پاکستان کو70 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم فراہم کرے گا۔یہ رقم ایشیائی ترقیاتی بینک کے پراجیکٹ کے تحت پاکستان کو دی جائے گی۔ امریکی امداد سے غریب نادار اور مستحق افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، ان افراد میں ایسے لوگ بھی شامل ہوں گے جو کورونا وباء کے دوران بےروزگار ہوگئے تھے۔ امریکی رقم احساس پروگرام کے تحت غریب نادار، مستحق افراد اور بے روزگاروں میں تقسیم کی جائے گی۔بتایا گیا ہے کہ اس حوالہ سے اسلام آباد میں معاہدہ پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں یو ایس ایڈ کی مِشن ڈائریکٹر جُولی کوئنین اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر یونگ یی نے شرکت کی۔یوایس ایڈ کی جانب سے دیے جانے والے70 لاکھ ڈالر کے عطیات ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان میں کورونا وبا کی وجہ سے متاثر ہونے والے خاندانوں میں بطور نقد امداد فراہم کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔یہ امداد حکومتِ پاکستان کے بینظیر انکم سپورٹ فنڈ پروگرام کے زیرانتظام فعال احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت تقسیم کی جائے گی۔ مزید برآں یو ایس ایڈ کی اعانت مستحقین کے لیے کفالت پروگرام کی کارکردگی ، احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی اور انتظامی معاونت بھی فراہم کرے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر جُولی کوئنین نے کہا کہ کورونا وبا کے خلا ف جدوجہد میں وسائل کی وسیع تر دستیابی اور اُس کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتوں، سول سوسائٹی، نجی شعبہ ہائے جات، مُخیر تنظیموں،کثیر الجہتی اداروں اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان ہنگامی بنیادوں پر اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ کی جانب سے اےڈی بی کو دیے جانے والے عطیات کورونا وبا کے دوران کاروبار کی بندش اور بیروزگاری کا شکار ہونے والے کم مراعت یافتہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی خاندانوں کو حکومت ِپاکستان کے احساس پروگرام کے تحت براہ راست نقد معاونت فراہم کرنے کے لیے خرچ ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here