فرینڈز آف کشمیراور پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک کے زیراہتمام کشمیرسیک اٹینشن فورم کا انعقاد

0
314

کشمیری عوام اور کشمیری لیڈرز کی تمام باتوں کو سپورٹ کرتی ہوں‘ کشمیر کیلئے ایجنڈا سیٹ کرنے کی ضرورت ہے‘ پاکستانی لیڈرشپ اور مقامی کشمیری رہنماء کشمیر کاز کیلئے متحرک ہیں‘کانگریس کےعلاوہ ہرفورم پرجدوجہد آزادیء اورکشمیر کیلئے انتھک محنت اس عظیم کاز کو آگے بڑھانے کی اشد ضرورت ہے‘ عائشہ علی

بھارت سے کشمیر کی آزادی تک تمام کشمیری تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہو گا نیویارک اور واشنگٹن سے اٹھنے والی تحریکیں منطقی انجام تک پہنچیں‘جدوجہدآزادی ء کشمیر کی تاریخ بھی آزادی سے ہمکنار ہوگی‘کشمیر کی آزادی کیلئے سب پارٹیوں اور تمام جماعتوں کو متحدہوکر آگے بڑھنا ہو گا تاکہ ظلم وجبر کی چکی میں پھنسے بہن بھائیوں کو آزادی نصیب ہو‘غزالہ حبیب

جب تک جسم میں جان ہے آزادی ء کشمیر کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے‘ بھارت اور اس کا ظالم حکمران دہشت گرد مودی سن لے بہنوں پر ہونے والے ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے‘ اپنی بساط میں جو ہو گا وہ کریں گے‘ ظلم کی اندھیری رات ختم ہو کر رہے گی‘ محمد تاج

سترسال سے ظلم وستم برداشت کررہے ہیں‘اب یہ سب برداشت سے باہر ہے‘ دنیا اگر کشمیریوں کو آزادی نہیں دلا سکتی تو ہمیں بتا دیا جائے‘ظلم کے خلاف تیار ہیں‘ سردار امتیاز
برصغیر کی تقسیم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی‘ہندونظریات کی بنیاد پر ہندوستان اور اسلام کی بنیاد پر پاکستان الگ ہوئے‘ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے ہندوستان میں ضم ہونے تھے مگر تاریخ نے دیکھا کہ بڑی طاقتوں نے ایسا نہیں ہونے دیا‘سردار سوار خان

پاکستان امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک تمام کشمیری رہنماؤں اور پاکستانی لیڈر شپ کے اس اہم فورم میں شرکت پر شکریہ اداکرتی ہے‘کشمیر کاز اور جدوجہد آزادیء کشمیر کیلئے کشمیر بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں‘چوہدری اسلم ڈھلوں

بروکلین‘ نیویارک (منظور حسین سے)

جدوجہد آزادی ء کشمیر اور پچھلے 70سالوں سے زائد بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں ظلم وستم سہنے والے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کو انکاحق دلوانے اور ان کی آواز کو اقوام متحدہ اور دنیاکے دیگر فورمز پر اٹھانے کیلئے کام کرنے والی صف اول کی بین الاقوامی امریکی نان فار پرافٹ تنظیم ”فرینڈز آف کشمیر“ اور نیویارک کی مقامی تنظیم پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک  کے زیرانتظام گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 کی تبدیلی اور کشمیریوں پر زمین تنگ کرنے کے خلاف کشمیر سیک اٹینشن کے نام سے ایک عظیم الشان فورم کا انعقاد انتہائی سنجیدگی سے کیاگیا۔ فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن ممتاز کشمیری خاتون رہنماء غزالہ حبیب اور پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک کی جانب سے منعقد کئے گئے اس فورم میں نیویارک ٹرائی اسٹیٹ ایریا میں بسنے والی اور پچھلی دو دہائیوں سے زائد امریکی سرزمین پر کشمیر کاز کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے علاوہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں اور پاکستانی امریکن کمیونٹی نے بھرپور طریقے سے شرکت کی۔امریکی ریاست ہیوسٹن سے تشریف لائی ہوئی فرینڈز آف کشمیر کی سرپرست اعلی غزالہ حبیب اور نیویارک میں پاکستان کے بہتر تشخص کیلئے کام کرنے والی پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن نیویارک (پانی)کے زیر انتظام ہونے والے اس فورم میں قونصل جنرل عائشہ علی‘پانی کے صدر اسلم ڈھلوں‘کشمیری و پاکستانی رہنماؤں سردار سوار خان، سردار امتیاز خان، بازہ روحی،،سردار نیازحسین، محمد تاج خان،معاذ صدیقی، راجہ مختار،ضیغم عباس، اسدچوہدری،عطیہ شہناز اور راجہ رزاق سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں سیاسی و سماجی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فرینڈز آف کشمیر کے پلیٹ فارم پر یکجا ہیں اور اور مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اجاگر کرنے اور اس مسئلے کے حل کے لیے مربوط اور موثر حکمت عملی پر کام کرنے کے لئے متحد ہیں۔مقررین نے بھارتی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 72 سالوں سے کشمیری قوم ظلم و جبر کی چکی میں پس رہی ہے لیکن اب غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا وقت آ چکا ہے۔آج کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے بہانے کشمیریوں کو ان کے گھروں میں بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔پوری کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے۔ مودی کے ہندوتوا کے جنون اور کشمیر پر بزور طاقت قبضے کی خواہش کی وجہ سے پوری کشمیری وادی ایک انسانی جیل کی صورت اختیار کر چکی ہے۔انڈیا کشمیر میں ڈیموگریفک تبدیلی لانے کے لئے دن رات جعلی ڈومیسائل جاری کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کشمیری اور پاکستانی ڈائس فوراکو وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے انتہائی متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے فرینڈز آف کشمیر کے پلیٹ فارم سے مشترکہ اور جارحانہ حکمت عملی کو ترتیب دینے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ اس موقع پر قونصلر جنرل عائشہ علی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی اور اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔پاکستانی قونصلیٹ کے دروازے کشمیریوں کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔آخر میں فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے مشترکہ کمیٹی میں شامل ناموں کا اعلان کیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔چوہدری اسلم ڈھلوں نے کہا کہ پاکستان امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک تمام کشمیری رہنماؤں اور پاکستانی لیڈر شپ کے اس اہم فورم میں شرکت پر شکریہ اداکرتی ہے‘کشمیر کاز اور جدوجہد آزادیء کشمیر کیلئے کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

اس موقع پر مقررین جن میں فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب، پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک کے صدر اسلم ڈھلوں، قونصل جنرل عائشہ علی،آج تحریک آزادی کشمیر کے انتہائی نازک موڑ پر تمام سیاسی اور سماجی جماعتوں کی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے اور مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے تمام کشمیری اور پاکستانی سیاسی وسماجی جماعتیں مل جل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس حوالے سے فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل اور پاکستانی امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک کے زیر اہتمام نیویارک میں ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں امریکہ میں موجود تمام نمائندہ کشمیری اور پاکستانی سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت قونصل جنرل نیویارک عائشہ علی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here