میانمار میں قید امریکی صحافی کو معافی دے کر رہا کردیا گیا

0
83

میانمار میں مئی سے قید امریکی صحافی کو معافی دے کر ملک سے بےدخل کردیا گیا۔امریکی صحافی کی بےدخلی غداری اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے سے ایک روز قبل سامنے آئی، ان الزامات کے تحت انہیں عمر قید کی سزا ہوسکتی تھی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق مقامی نگراں گروپ کا کہنا ہے کہ فروری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میانمار میں آزادی صحافت بدترین دباؤ کا شکار ہے جہاں جمہوریت کے حامیوں پر کریک ڈاؤن کے خلاف آواز اٹھانے والے درجنوں صحافیوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ ایک ہزار 200 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔مقامی اخبار ’فرنٹیئر میانمار‘ کے لیے کام کرنے والے ڈینی فینسٹر کو مئی میں امریکا روانگی سے چند گھنٹے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔انہیں گزشتہ ہفتے میانمار کی عدالت نے غیرقانونی روابط اور وابستگی، فوج کے خلاف اُکسانے اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی پر 11 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ انہیں منگل کو غداری اور دہشت گردی کے الزامات میں عدالت میں پیش ہونا تھا۔تاہم جنتا نے کہا کہ امریکی صحافی کو ’انسانی بنیادوں‘ پر معاف اور رہا کیا گیا جس کے بعد ان کے نوآبادیاتی دور کی جیل میں گزارے گئے 176 دن ختم ہوئے، جہاں میانمار کے بہت سے مشہور مخالفین کو رکھا گیا ہے۔سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی تصاویر میں ڈینی فینسٹر کو کمزور حالت میں امریکی حکام کے ساتھ دیکھا گیا اور ان کے ہاتھ میں موبائل فون موجود تھا۔رچرڈسن کی تنظیم نے بیان میں کہا کہ 37 سالہ امریکی صحافی کی رہائی سابق امریکی سفارت کار بِل رچرڈسن اور جنتا کے سربراہ مِن اونگ ہائنگ کے درمیان دو بدو مذاکرات کے بعد عمل میں آئی۔رچرڈسن سینٹر نے کہا کہ ڈینی فینسٹر اگلے ایک سے ڈیڑھ دن میں قطر کے ذریعے امریکا روانہ ہوں گے۔بیان میں رچرڈسن کا مدد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’ہم بہت خوش ہیں کہ ڈینی فینسٹر کو رہا کردیا گیا اور وہ اپنے گھر جارہے ہیں جبکہ ہم ان سے بغل گیر ہونے کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں‘۔فرنٹیئر میانمار میں ڈینی کے ساتھی اینڈریو نشیمسن کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈینی کے خاندان اور دوستوں کے لیے بہت خوشی کی خبر ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here