پروگریسو امریکن کمیونٹی امپاورمنٹ کی جانب سے “کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے”  کے حوالے سے‘ایک خوبصورت ڈائلاگ

0
322

Progressive American Community Empowerment

 پروگریسو امریکن کمیونٹی امپاورمنٹ کی جانب سے نیو یارک سٹی میں اپنے نوعیت کے اس خوبصورت ڈائیلاگ میں قونصل جنرل محترمہ عائشہ علی سمیت پاکستانی کمیونٹی اور شہر بھر میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کی بھر پور شرکت

کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے‘ہمارا شہر کراچی ایک اکنامک ہب ہے‘سعید حسن
کوٹہ سسٹم کے نظام کو ختم ہونا چاہیے اور کراچی کو صوبے کا درجہ ملنا چاہیے‘عطیہ شہناز

ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنانے میں بہت سی قربانیاں دیں اور ہمیں اپنے اباؤاجداد کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا‘نوشین وسیم

نیو یارک (منظور حسین سے))

امریکی سر زمین پر پاکستانی امریکن کمیونٹی خصوصاً پاکستان کے بہتر تشخص کیلئے کام کرنے والی نان پرافٹ تنظیم پیس پروگریسو امریکن کمیونٹی امپاورمنٹ کی جانب سے (کراچی پاکستان کا شہر)کے عنوان سے ایک خوبصورت ڈبیٹ کا انعقاد انتہائی دلکش طریقے سے کیا گیا۔پیس کے صدر معروف پاکستانی امریکن بزنس مین سعید حسن کی جانب سے منعقد کی گئی اس اہم تقریب میں جہاں نیو یارک میں مقیم پاکستان کی قونصل جنرل محترمہ عائشہ علی نے خصوصی شرکت کی وہاں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ نیویارک شہر میں کام کرنے والی پاکستانی نان پرافٹ تنظیموں‘کمیونٹی کے سرکردہ رہنماؤں اور سعودی عرب سے نوشین وسیم نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں پیس کے صدر سعید حسن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں تمام شرکاء کا شریک ہونا خوشی کا مقام ہے پاکستان کے حوالے سے اس دیار غیر میں کوئی بھی اجتماع ہو ہماری قونصل جنرل محترمہ عائشہ علی دائمے درمے سخنے ہمارا ساتھ دے رہی ہیں جن کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے اس طرح ہمارے نبی کریم ؐ کے شہر سعودی عرب سے محترمہ نوشین وسیم اس اجلاس میں تشریف لائیں ہیں۔ آج ہم یہاں ایک مکالمہ کیلئے جمع ہوئے ہیں جسکا موضوع ہے کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے‘ہمارا شہر کراچی ایک اکنامک ہب ہے اسی طرح ہمارے دوسرے شہر بھی اہمیت کے حامل ہیں مگر کراچی ہمارے قائد کا شہر ہے محبت کا شہر ہے ہم سب کا شہر ہے پاکستان زندہ باد۔قونصل جنرل عائشہ علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کمیونٹی کے جو بھی ایونٹ ہوتے ہیں ان کا فوکس مختلف اشوز پر ہوتا ہے اور آج کراچی جو کہ ایک میٹروپولٹن سٹی ہے اس پر اس ایونٹ کے انعقاد پر جس کا مقصد کرچی کے مختلف اشوز کو اجاگر کرنا،اس ایونٹ میں مختلف طبقہ فکر کے حضرات جس میں دانشور بھی ہیں بزرگ بھی اور خواتین بھی شامل ہیں اور اس ایونٹ کے انعقاد پر سعید حسن مباکباد کے مستحق ہیں۔تقریب سے خطاب میں نوشین وسیم نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنانے میں بہت سی قربانیاں دیں ہیں ہم تو پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئے مگر ہمیں اپنے اباؤاجداد کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں سعودی نیشنل ہوں مگر میری پیدائش کراچی میں ہوئی لہذا کراچی کے حوالے سے اتنا ہی کہونگی کہ کراچی کو ہم اپنے خون سے نہیں نکال سکتے اور ہمارے صوبہ سندھ کے دیہات میں پینے کے پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کیلئے ہم سندھ میں پانی کے کنویں کھدوارہے ہیں اب تک140کے قریب لگ بھگ کنویں کھدوا چکے ہیں لاس اینجلس میں محترمہ نوشابہ اس سارے معاملے کو ہینڈل کر رہی ہیں جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں وہاں کی غریب عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں ان کا کردار بہت نمایاں ہے۔اس موقع پر عطیہ شہناز نے کہا کہ میں نے بھی کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر وہیں پڑھانا شروع کیا۔کراچی میں لیکچرار شپ کے دور میں میں نے دیکھا کہ ہماری فوج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے بلکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیوں کے طالبعلموں کو بھی سنبھالتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوٹہ سسٹم کے نظام کو ختم ہونا چاہئے ہمیں چاہیے کہ کراچی اور سند ھ کی جو لوکل آرگنائزیشن ہیں ہمیں ان کو بھرپور سپورٹ کرنا چاہئے تاکہ وہ آگے بڑھیں اور کراچی کے مسائل میں حکومت اور فوج کا ساتھ دیں۔ایک مزاحیہ شعر
دل کو کراچی سمجھ رکھا ہے تم نے
آتے ہو جلاتے ہو اور چلے جاتے ہو
سناتے ہوئے کہا کہ جو بھی آتا ہے کراچی کو استعمال کرتا ہے اور چلا جاتا ہے کراچی پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہاں اردو بولنے والوں کو بھی صوبے کا حق ملنا چاہیے۔مکالمہ کے شرکاء جن میں سید وسیم، نوشابہ ناز بٹ، نوشین مغل، نوشین بیگ، سید عدنان بخاری، سمیرا نور، ثمینہ حیدر، حناء صدیقی، حناء رحمن، محمد اشرف اعظمی، جمال محسن، ناہید بھٹی، ہمایوں شیخ، شکیل زاہد، احمد وحید، مہر جمال، خواجہ آصف جمال، راجہ رزاق، فاطمہ خان ارشد خان وقار علی خان اور کمیونٹی کے افراد نے کراچی اوراس کے مختلف مسائل اور اُن کے حل پر دل کھول کر روشنی ڈالی۔

Progressive American Community Empowerment

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here