ٹی ایل پی کا شیخ رشید پر جھوٹ بولنے کا الزام، اسلام آباد مارچ کے دوبارہ آغاز کا اعلان کردیا

0
33
A covey of supporters of Tehreek-e-Labiak Pakistan, a banned radical Islamist party, moves toward Islamabad during a protest march, on the outskirts of Lahore, Pakistan, Saturday, Oct. 23, 2021. Thousands of supporters of the banned radical Islamist party Saturday departed the eastern Pakistan city of Lahore, clashing for a second straight day with police who lobbed tear gas into the crowd, a party spokesman and witnesses said. (AP Photo/K.M. Chaudary)

کیا یہ ریاست مدینہ کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے قاصر ہیں؟ کیا یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اتنے غلام بن چکے ہیں، رہنما ٹی ایل پی

کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی مرکزی کمیٹی نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید پر حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاملات طے پانے کے بارے میں جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین اب جلد ہی مریدکے سے اپنی اعلان کردہ منزل اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔تنظیم کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ٹی ایل پی کے رہنما سید سرور شاہ سیفی نے کہا کہ ’شیخ رشید نے کل جھوٹ بولا کہ معاملات طے پاگئے ہیں، انہوں نے رات 8 بجے (ہم سے) رابطے کے بارے میں بھی جھوٹ بولا، ان کی طرف سے اب تک کوئی بھی سرکاری اہلکار بشمول شیخ رشید کے، نے ہم سے رابطہ نہیں کیا ہے‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’پوری قوم حکومت کی بدنیتی کو دیکھ لے‘۔واضح رہے کہ گزشتہ روز شیخ رشید نے کہا تھا کہ حکومت کو ٹی ایل پی کے مطالبات پر کوئی ’تحفظات‘ نہیں ہیں اور تنظیم کے ساتھ بات چیت کے تمام معاملات پر اتفاق ہے سوائے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے معاملے پر۔

 اسلام آباد، راولپنڈی کے علاقے مارچ کو روکنے کے لیے سیل

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت اور ٹی ایل پی دیگر تمام معاملات پر ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں اور وہ رات 8 بجے دوبارہ تنظیم سے رابطہ کریں گے۔

’فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں‘

شیخ رشید کی جانب سے ٹی ایل پی کے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کو پورا نہ کرنے کے اعلان کے بعد ٹی ایل پی نے کہا تھا کہ اس کے کارکن اب اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ملک بدری کے حوالے سے سرور شاہ سیفی نے کہا کہ فرانس نے حکومتی سطح پر توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا اور اسی طرح ٹی ایل پی موجودہ حکومت سے سرکاری ردعمل کی توقع کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’کیا یہ ریاست مدینہ کے دعویدار فرانس کو جواب دینے سے قاصر ہیں؟ کیا یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اتنے غلام بن چکے ہیں؟‘ٹی ایل پی کے بیان میں حکومت سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے اپنے معاہدے کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس تنظیم نے معاہدے کی پاسداری کی اور 40 جانیں گنوانے کے باوجود 3 دن کا وقت دیا۔سرور سیفی نے کہا کہ اگر مزید خون بہایا گیا تو مطالبات بڑھ جائیں گے اور قوم کو ’اس بے ایمان، جھوٹی اور منافق حکومت سے نجات دلائی جائے گی‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here