امریکی حکومت کی یہودی بستیوں کی توسیع پر اسرائیل کی سرزنش

0
44

واشنگٹن:___ جو بائیڈن انتظامیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کے اسرائیلی منصوبوں پر عوامی سطح پر اب تک کی سخت ترین تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن امکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’ہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے بدھ کے روز آباد کاروں کے ہزاروں گھروں کو توسیع دینے کے منصوبے پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جن میں سے اکثر مغربی کنارے میں ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم بستیوں کی توسیع کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو تناؤ کو کم کرنے اور امن کی کوششوں سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے‘۔خیال رہے کہ اتوار کے روز اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1300 نئے گھروں کا ٹینڈر شائع کیا تھا اور حکام کے مزید 3 ہزار گھروں کی تجاویز پر بھی بات چیت کرنے کا امکان تھا۔ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن، سینئر اسرائیلی حکام کے ساتھ براہ راست اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا۔خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان واشنگٹن کی حمایت سے ہونے والے امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے، زیادہ تر ممالک اسرائیل کی مغربی کنارے میں آباد کاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی امریکی کوششوں کے ساتھ اسرائیل کی آباد کاری کی سرگرمیاں تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان اختلاف کا ایک ذریعہ ہیں۔جب سے جو بائیڈن نے جنوری میں عہدہ سنبھالا ہے امریکی حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقبوضہ سرزمین، جسے فلسطین اپنی مستقبل کی ریاست کے طور پر دیکھتے ہیں اس میں یہودی بستیوں کی مزید توسیع کے خلاف ہیں۔قبل ازیں رواں ماہ امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ اسرائیل ایسے اقدامات سے باز رہنے کی ضرورت کے بارے میں امریکی حکومت کے نقطہ نظر سے واقف ہے جنہیں ’اشتعال انگیز‘ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور دو ریاستوں کے طویل حل کے حصول کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here