سوشل میڈیا اداروں کیلئے پاکستان میں جلد از جلد دفاتر قائم کرنا لازمی قرار

0
24

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے سوشل میڈیا رولز 2021 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے تحت سوشل میڈیا اداروں کو پاکستان میں جلد از جلد دفاتر قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔قوانین کے بارے میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی امین الحق کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ رولز کے تحت پاکستانی صارفین کو آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی صارفین اور سوشل میڈیا اداروں کے درمیان رابطوں کے لیے رولز اہم کردار ادا کریں گے، سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستانی قوانین اور سوشل میڈیا صارفین کے حقوق کی پاسداری کرنا ہوگی۔

نئے قوانین میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں

 انتہا پسندی، دہشت گردی، نفرت انگیز، فحش اور پرتشدد مواد کی لائیو اسٹریمنگ پر پابندی ہوگی۔

 سوشل میڈیا ادارے پاکستان کے وقار و سلامتی کے خلاف مواد ہٹانے کے پابند ہوں گے۔

 اخلاق باختہ اور فحش مواد کی تشہیر بھی قابل گرفت جرم ہوگا۔

 سوشل میڈیا ادارے اور سروس پرووائیڈرز کمیونٹی گائیڈ لائنز تشکیل دیں گے۔

 گائیڈ لائنز میں صارفین کو مواد اپ لوڈ کرنے سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔

 کسی بھی شخص سے متعلق منفی مواد اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا۔

 دوسروں کی نجی زندگی سے متعلق مواد پر بھی پابندی ہوگی۔

 پاکستان کے ثقافتی اور اخلاقی رجحانات کے مخالف مواد پر پابندی ہوگی۔

 بچوں کی ذہنی و جسمانی نشونما اور اخلاقیات تباہ کرنے سے متعلق مواد پر پابندی ہوگی۔

 یو ٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، ٹوئٹر، گوگل پلس سمیت تمام سوشل میڈیا ادارے قوانین کے پابند ہوں گے۔

 نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد سوشل میڈیا اداروں پر جلد از جلد پاکستان میں دفاتر قائم کرنا لازم ہوگا۔

 سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے لیے اپنا مجاز افسر مقرر کریں گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے اختتام پر وفاقی کابینہ نے گزشتہ سال متعارف کرائے گئے متنازع ڈیجیٹل میڈیا قوانین میں ترامیم کی منظوری دی تھی۔نومبر 2020 میں منظور شدہ سوشل میڈیا رولز کو ڈیجیٹل حقوق کے نمائندوں، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز آف پاکستان اور ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ٹیکنالوجی کمپنیوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر قواعد میں ترمیم نہ کی گئی تو پاکستان میں اپنی سروسز میں بند کردیں گے کیونکہ ان قواعد و ضوابط کے تحت ان کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔قوانین کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا تھا، درخواست پر ایک سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت قواعد پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔مارچ میں وزیر اعظم عمران خان نے متنازع سوشل میڈیا قوانین کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین وزارتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی نے قواعد اگست تک تیار کیے تھے اور انہیں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی سے 23 ستمبر کو منظور کر لیا گیا تھا۔تاہم انٹرنیٹ کمپنیوں نے ترمیم شدہ قانون کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ زیادہ پریشانی کا باعث بننے والی دفعات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے ڈان کو بتایا کہ ایشیا انٹرنیٹ کولیشن اور اس کی رکن کمپنیاں مجوزہ نظرثانی اور قوانین پر مایوسی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی مہینوں تک انڈسٹری کی جانب سے بار بار آرا دیے جانے کے باوجود مسودے کے قواعد میں اب بھی متعدد پریشان کن دفعات شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here