پینڈورا باکس کھل گیا ‘ کابینہ سمیت قریبی ساتھی ملوث

0
12

پینڈورا پیپرز

پانامہ پیپرز کے بعد نئے مالیاتی سکینڈل ”پنڈورا پیپرز“ کی ہوشربا تفصیلات جاری کردی گئیں‘وزیراعظم عمران خان کی کابینہ اور ان کے خاندان کے کچھ افراد شامل، خفیہ طور پر لاکھوں ڈالر کی کمپنیوں کے مالک ہیں
وزیر خزانہ شوکت ترین،مونس الٰہی،علیم خان اور فیصل واوڈا قابل ذکر ہیں‘ خسرو بختیارکے بھائی،فوجی افسران اور کچھ کاروباری اور بینکاری شخصیات کے نام بھی شامل‘عالمی رہنماء‘سیاستدان اور ارب پتی بے نقاب
گزشتہ 7 برسوں میں فن سین فائلز، دی پیراڈائز پیپرز، پانامہ پیپرز اور لکس لیکس جیسے لیک ہونیوالے دستاویزات کی کڑی میں یہ تازہ ترین ہے‘ان دستاویزات کا جائزہ دنیاکے 650 سے زائد رپورٹروں نے لیا
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی رہنماؤں، سیاستدانوں اور ارب پتی افراد کی خفیہ دولت اور مالی لین دین کی تفصیلات ایک بڑے مالی سکینڈل سے متعلق دستاویزات کے سامنے آنے سے بے نقاب ہو گئی ہیں۔مالی معاملات سے متعلق ان دستاویزات میں جن افراد کی خفیہ دولت اور مالی معاملات کا انکشاف ہوا ہے ان میں 35 موجودہ اور سابق عالمی رہنماؤں سمیت تقریباً 300 ایسے عوامی نمائندے شامل ہیں جن کی آف شور کمپنیاں تھی۔ ان دستاویزات کو پینڈورا پیپرز کا نام دیا گیا ہے۔ان دستاویزات میں اردن کے بادشاہ کی خفیہ طور پر امریکہ اور برطانیہ میں 70 ملین پاؤنڈز کی جائیدادوں کا انکشاف کیا ہے۔اس کے علاوہ ان دستاویزات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقے میں شامل افراد، جن میں ان کی کابینہ اور ان کے خاندان کے کچھ افراد شامل ہیں، خفیہ طور پر لاکھوں ڈالر کی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ان دستاویزات میں یہ بھی افشا کیا گیا ہے کہ کیسے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی اہلیہ نے لندن میں دفتر خریدتے وقت سٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں تین لاکھ 12 ہزار پاونڈز بچائے تھے۔ اس جوڑے نے ایک آف شور کمپنی خریدی تھی جس کی ملکیت میں یہ عمارت تھی۔پینڈورا پیپرز نامی لیک ہونے والے ان دستاویزات میں روسی صدر ولادمیر پوتن کے موناکو میں خفیہ اثاثوں کا بھی ذکر ہے اور ان دستاویزات میں جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم اندریج بابس کی خفیہ آف شور انوسٹمنٹ کمپنی کو بھی ظاہر کیا گیا ہے جس کے ذریعے انھوں نے جنوبی فرانس میں 12 ملین پاؤنڈز مالیت کے دو ولاز خریدے۔واضح رہے کہ جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم اگلے ہفتے انتخابات لڑ رہے ہیں اور انھوں نے اپنی یہ خفیہ آف شور انوسٹمنٹ کمپنی ڈیکلیئر نہیں کی ہوئی۔گذشتہ سات برسوں کے دوران فن سین فائلز، دی پیراڈائز پیپرز، پانامہ پیپرز اور لکس لیکس جیسے لیک ہونے والے دستاویزات کی کڑی میں یہ تازہ ترین ہے۔ان دستاویزات کاہ جائزہ اور چھان بین انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹیگیٹو جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) نے کی ہے جس میں دنیا بھر سے 650 سے زائد رپورٹروں نے حصہ لیا۔پانامہ پیپرز کے بعد نئے مالیاتی سکینڈل ”پنڈورا پیپرز“ کی ہوشربا تفصیلات جاری کردی گئی ہیں جس کے مطابق700سے زائد پاکستانی بے نقاب ہوگئے،جن میں پاکستان سے شوکت ترین،مونس الہیٰ،شرجیل میمن،عبدالعلیم خان،فیصل واوڈا،اسحاق ڈارکے بیٹے علی ڈار،شعیب شیخ،سابق معاون خصوصی وقار مسعود کے بیٹے کے علاوہ کچھ فوجی افسران کے نام بھی شامل ہیں جبکہ اردن کے شاہعبداللہ بھی آف شور کمپنی کے مالک نکلے۔پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے پر شادیانے بجانے والے اب خود ہی اس جال میں پھنس گئے جنہیں اب چپ لگ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈل ”پینڈورا پیپرز“ کو سامنے لے آئی جن میں دنیا بھر کے متعدد سربراہان مملکت، سیاست دانوں، صنعت کاروں، بیورو کریٹس، ریٹائرڈ افسران کی آف شور کمپنیاں نکل آئیں، ان افراد میں 700 پاکستانی بھی شامل ہیں۔عالمی دنیا میں ہلچل مچانے والے پانامہ پیپرز کی طرز پر ایک اور عالمی سکینڈل پنڈورا پیپرز کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں،ان تفصیلات کیمطابق 700سے زائد پاکستانی بے نقاب ہوگئے ہیں جن میں وزیر خزانہ شوکت ترین،مونس الہیٰ،علیم خان اور فیصل واوڈا قابل ذکر ہیں جبکہ دیگر میں خسرو بختیارکے بھائی عمر بختیارعارف نقوی،راجہ نادر پرویز،محمد علی ٹبہ،میر خالد آدم، کچھ کاروباری اور بینکاری شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔ پاک فضائیہ کیسابق سربراہ عباس خٹک کے2 بیٹوں کینام آف شور کمپنیاں نکل آئیں جبکہ جنرل(ر)خالد مقبول کے داماداحسن لطیف،کاروباری شخصیت طارق سعیدسہگل،جنرل (ر)شفاعت اللہ کی اہلیہ کے نام شامل ہیں۔عمر بختیار نے آف شور کمپنی کے ذریعہ ایک ملین ڈالر کا اپارٹمنٹ اپنی والدہ کے نام پر منتقل کیا،عمر بختیار نے 2018 میں لندن کے علاقے چیلسی میں اپارٹمنٹ والدہ کے نام پر منتقل کیا۔ پاکستانی شخصیات میں شوکت ترین اور ان کے خاندان کے نام 4آف شور کمپنیاں نکلی ہیں۔ علیم خان کی 1،شرجیل میمن کی 3،علی ڈار کی 2،مونس الٰہی کی2،فیصل واوڈا کی ایک آف شور کمپنی نکلی ہے۔یوکرین،کینیا، اور ایکواڈور کے حکمرانوں،اردن کے بادشاہ عبداللہ اورقطر کے حکمرانوں کے نام پر بھی آف شور کمپنیاں نکل آئیں جبکہ چیک ری پبلک اورلبنان کے وزرائے اعظم آف شورکمپنیوں کے مالک،سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے نام بھی آف شورکمپنی،کچھ کاروباری شخصیات اور بینکاروں کے نام پر بھی آف شور کمپنیاں نکل آئیں جبکہ گلوکارہ شکیرا، سابق بھارتی کرکٹرسچن ٹنڈولکر کے نام بھی آف شورکمپنی رجسٹرڈ ہے، روس اور آذربائیجان کے صدور، برطانوی ہاؤس آف کامن کے لیڈر جیکب ریز موگ کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم، آذربائیجانی صدر کے بچے، سابق بحرینی وزیر اعظم شیخ خلیفہ بن سلمان کے نام پر بھی آف شور کمپنیاں نکلیں جکبہ پانامہ کے تین سابق صدور کے نام بھی پنڈورا پیپرز میں سامنے آگئے ہیں۔یہ تفصیلات آئی سی آئی جے نے گیارہ اعشاریہ 9ملین دستاویزات شائع کرکے جاری کی ہیں۔ اس عالمی تحقیقات میں 117 ممالک کے 600 صحافیوں، 150میڈیا تنظیمیوں نے حصہ لیا۔آئی سی آئی جے کے مطابق پنڈورا پیپرز کے نام سے پروجیکٹ میں 117 ممالک کی اہم شخصیات کی مالی تفصیلات شامل ہیں۔ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں پاکستان کے بھی دو صحافی شامل ہیں، پنڈورا پیپرز میں کئی پاکستانی شخصیات کی مالی تفصیلات بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ اس وقت کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔فائل سے معلوم چلتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔ ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک امریکی لکھ پتی کو جعلی مالکی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتملہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here