نادرا کے ویکسین سرٹیفکیٹ برطانیہ میں قابل قبول قرار

0
11

برطانیہ پیر سے کورونا وائرس سے متعلق قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ‘ایمبر لسٹ’ مکمل طور پر ختم کردے گا اور لندن کی منظورشدہ 4 ویکسین لگوانے والے افراد کو بغیر قرنطینہ اور آئسولیشن کے برطانیہ آنے کی اجازت ہوگی۔علاوہ ازیں برطانیہ میں پاکستانی ویکسین سرٹیفکیٹ بھی قابل قبول ہو گا البتہ چینی ویکسین لگوانے والوں کو تاحال اجازت نہیں دی گئی۔ پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی۔برطانیہ ریڈ لسٹ میں شامل نہ کیے گئے ممالک کے ان مسافروں کو اجازت دے گا جنہوں نے ایسٹرازینیکا، جونسنز اینڈ جونسنز، موڈرنا یا فائزر ویکسن لگوائی ہو۔یاد رہے کہ پاکستان کا نام سفری پابندی کی فہرست ‘ریڈ لسٹ’ سے 22 ستمبر کو نکالا گیا تھا۔تاہم پہلے کی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ برطانیہ اپنی منظور شدہ ویکسین سمیت پاکستان میں لگائی جانے والی کوئی بھی ویکسین قبول نہیں کرتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستانی 10 روز تک قرنطینہ کریں گے لیکن یہ اب تبدیل کردیا جائے گا۔کرسچن ٹرنر کا کہنا تھا میں صرف دو بیوروکریسیوں کو ایک دوسرے کے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کو تسلیم کرنے کی باضابطہ اجازت دینے کے عمل سے گزر رہا ہوں اور اس میں مزید کچھ دن لگ سکتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘لیکن بنیادی طور پر آپ اکتوبر میں لندن آسکیں گے اور اگر آپ ان (منظور شدہ) میں سے کوئی ویکسین لگوا چکے ہیں تو اپنا نادرا سرٹیفکیٹ ظاہر کریں جو بالکل ٹھیک ہے’ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں کہ یہ ویکسین کہاں سے لگوائی گئی ہے، آپ کے پاس یہاں اچھے سرٹیفکیٹس ہیں، آپ ایسے ظاہر کریں یہ ایک بڑی تبدیلی ہوگی اور سب کچھ مزید بہتر ہوگا’۔برطانوی ہائی کمشنر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کا ریڈلسٹ میں رہنا ‘انتہائی مایوس کُن’ تھا، جس کی وجہ سے دو ممالک کے افراد کے درمیان رابطے ختم ہوگئے تھے اور ہر ایک کو ‘مشکلات کا سامنا’ کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ لیکن دونوں ممالک کے صحت عامہ کے اداروں کے درمیان پاکستان میں وائرس کی اقسام کا سراغ لگانے کی صلاحیت پر ‘ایک حقیقی سائنسی اختلاف’ رہا۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی تشویش خاص طور پر بیٹا ویرینٹ کے بارے میں ہے جس کا ارتقا جنوبی افریقہ میں ہوا اور وہ ‘ایسٹرا زینیکا ویکسین کے اثر کو کمزور کر سکتا ہے’۔برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ ‘اگر بیٹا ویرینٹ ہماری برادریوں خاص طور برطانیہ اور پاکستان کو ملانے والی بڑی اور اہم برادری میں واپس آجاتا تو ہمیں صحت عامہ کی بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا اور یہ ہماری ویکسینیشن کے عمل کو کمزور کردیتا ‘۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دو صحت عامہ کی سائنس ٹیموں کے درمیان انتہائی تفصیلی گفتگو کی، جس میں پاکستان سے ڈاکٹر فیصل سلطان نے سربراہی کی تاکہ درحقیقت اس بات کو سمجھا جاسکے کہ ہم بیٹا کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں جس نے ہمیں ریڈلسٹ تبدیل کرنے کا اعتماد دیا’۔انہوں نے ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت نیشنل کمانڈ اور کنٹرول سینٹر اور طبی ٹیم کو سراہا ‘جنہوں نے عالمی وبا کو ختم کرنے میں بہت غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا’۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here