وہائٹ ہاؤس کابل حملے کی تحقیقات جاری رکھے گا

0
20

وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ ماہ دس افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والا ڈرون حملہ ایک المیہ تھا اور مکمل تفتیش جاری رہے گی۔امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے پیر کے روز نامہ نگاروں سے کابل حملے کے بارے میں گفتگو کی۔ فوج نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی۔محترمہ ساکی کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کا ردعمل یہ ہے کہ یہ ایک المیہ ہے اور ہر نقصان ایک المیہ ہوتا ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بائیڈن جس قدر تیزی کے ساتھ ممکن ہو سکے اسے آگے لے جانے کی کوشش اور ایک مکمل تفتیش کی حمایت کرتے ہیں۔جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ آیا کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا یا نہیں، محترمہ ساکی نے کہا کہ اس امر پر توجہ دینا بھی اہم ہے کہ جب حملہ ہوا تو کیا حالات تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکی دستوں کے خلاف زمین پر براہِ راست خطرات تھے اور وہ یہ پیشگوئی نہیں کریں گی کہ کیا اثر ہوگا۔امریکی فوج نے کہا ہے کہ اُسے یقین ہے کہ وہ 26 اگست کے حملے میں ایک اسلامی انتہاء پسند کو ہدف بنا رہی تھی جس میں سات بچوں سمیت 10 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here