طالبان اب حکمران ہیں ، اس حقیقت کو سب تسلیم کرلیں : افغان وزیر خارجہ

0
13

امریکا بڑا ملک دل بھی بڑا ہونا چاہیے ، انخلا میں تعاون پر تعریف کی بجائے اثاثے منجمد کردئیے :مولوی امیر خان متقی ، دنیاامداد سیاسی عزائم سے مشروط نہ کرے ،نامکمل ترقیاتی منصوبے مکمل کرے ، سفارتکار کام جاری رکھیں:پریس کانفرنس

کابل(نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے ۔عہدہ سنبھالنے کے بعد کابل میں پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ جن ملکوں نے افغانستان کی مدد کی ان کے شکر گزار ہیں، افغانستان کی مدد کرنے والے ملکوں سے تعاون کریں گے ، مہاجرین کی واپسی کیلئے بھی کوشش کریں گے ۔انہوں نے اپیل کی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں جبکہ ڈونرممالک سے بھی درخواست ہے کہ افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں،وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں نامکمل پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے فنڈز بحال کیے جائیں،امیر خان متقی نے کہا مطلوبہ دستاویز رکھنے والے افغان شہریوں کوبیرون ملک سفرکی اجازت ہوگی، ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے ، ہم چاہتے ہیں دوسرے ممالک افغانستان پر دباؤ نہ ڈالیں، دباؤ سے افغانستان کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی ان ممالک کو جبکہ سب ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، طالبان نے امریکا سمیت غیرملکیوں کے کابل سے انخلا میں بھرپور تعاون کیا لیکن طالبان کی تعریف کی بجائے امریکا نے ہمارے قومی اثاثے منجمد کرکے مشکلات پیدا کیں، امریکا بڑا ملک ہے اس کا دل بھی بڑا ہونا چاہیے ،امریکا سمیت عالمی برادری کو معلوم ہوناچاہیے کہ انتشارکی پالیسی کارگر نہیں ہوگی، عالمی برادری کو اپنی امداد سیاست کی نذر نہیں کرنی چاہیے ،تمام سفارت خانوں کو پیغام بھیج دیا گیا ہے کہ سفارت کار اپنا کام معمول کے مطابق جاری رکھیں، طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے ، افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق منفی اور تعصب پرمبنی پالیسیوں کاخاتمہ ہوناچاہیے ،جنیوا کانفرنس سے متعلق افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ جنیواعالمی کانفرنس میں مدد کا اعلان کرنے والے ملکوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، امداد کا اعلان کرنے والے ممالک کی فراہم کردہ رقم افغان بینک سے مستحقین تک پہنچائی جائے گی، صحت، تعلیم اور شہروں میں انفراسٹرکچر میں مدد کی ضرورت ہے امید ہے کہ عالمی برادری افغانستان کو امداد سیاسی عزائم ومقاصد سے مشروط نہیں کرے گی،ان کا کہنا تھاکہ جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے ہیں انہیں چاہیے کہ مکمل کریں، موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں افغانستان کے تمام گروہوں کو نمائندگی دی جائے گی لیکن ضروری نہیں وسیع قومی حکومت میں سابق حکومت کے وزراکوبھی شامل کیاجائے ،سابق حکومت کے افغان عوام کے مفادمیں طے شدہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کریں گے ،افغانستان میں غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق ملا امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ افغانستان میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کو کوئی خطرات درپیش نہیں، چین کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے افغان عوام کوروزگار ملے گا جبکہ تاجراور سرمایہ کار اپنے کاروبار شروع کریں، خود بھی منافع کمائیں اور عوام کو بھی فائدہ دیں،عبوری وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ بیرون ملک گئے ہوئے افغان شہری باحفاظت اور وقار کے ساتھ واپس لوٹ سکتے ہیں،ان کا کہنا تھاکہ افغانستان سے جانے یا آنے والوں کے پاس سفری دستاویزات ہونی چاہئیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here