پاکستانی وبین الاقوامی مسیحی تنظیموں کا جبری مذہب تبدیلی‘جبری شادی کیخلاف سیمینار

0
35

جہانیاں میں مسیحی تنظیموں وائس آف نیڈی فیملیز‘ امریکہ کی صف اول کی بین الاقوامی مسیحی تنظیم پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن‘ کرسچن الائنس یورپ اور وائس آف جسٹس یورپ کے زیر انتظام پاکستان بھر میں مسیحی خواتین کو جبری طو رپر مسلمانوں کے نکاح میں لانے‘ کم عمر مسیحی بچیوں کیساتھ جبری نکاح‘زنابالجبر اور انہیں ورغلا پھسلا کر کلمہ پڑھانے کیخلاف سیمینار کا انعقاد کیاگیا

ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی‘ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم‘اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جہانیاں محمد ابرار سلمان‘ امریکہ سے آئے ہوئے سینئر صحافی منظور حسین‘ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور کے کوآرڈی نیٹر یاسر طالب‘ ایم پی اے اقلیتی امور قیصر سورایا سمیت کرسچن کمیونٹی کے عہدیدار اور ہندو کمیونٹی کے عہدیدار راج موہن سمیت مرد وخواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی

پاکستان میں بسنے والے اقلیتوں سمیت تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں‘ اس میں رنگ ونسل‘ مذہب کے حوالے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں‘پاکستان کا آئین‘ قانون برابری کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے‘ ضلعی انتظامیہ کے دروازے آپ کے مسائل کے حل کیلئے ہر وقت کھلے ہیں‘کسی بھی شرپسند کو اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا حق نہیں‘ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی

آپ کی جان ومال عزت اور مذہبی املاک کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے‘ آپ اپنی مرضی سے اپنی زندگیاں گزار سکتے ہیں‘مٹھی بھر شرپسند ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ان کا مقابلہ ہم سب ایک پاکستانی ہو کر کریں گے‘ آپ یہاں پر دوسرے شہریوں کی طرح مکمل آزاد ہیں کوئی آپ کے ساتھ جبر نہیں کر سکتا‘ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم

پاکستان میں بسنے والے اقلیتوں کو پاکستان کا قانون اور اسلام مکمل آزادانہ زندگیاں بسر کرنے کی ضمانت دیتا ہے‘اگر کوئی شرپسند اس قسم کا گھناؤنا جرم کرتا ہے تو ہم سب نے مل کر قانون کی حکمرانی کیلئے اس کا مقابلہ کرنا ہے‘جو پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے ہم سب نے ایک پاکستانی بن کر اس انتہا پسند فسادی ٹولے کا مقابلہ کرنا ہے‘سینئر صحافی منظور حسین

جہانیاں خانیوال ” اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرینگے‘ضلعی انتظامیہ”

خانیوال /جہانیاں (ملک نثار اعوان/منظور حسین سے)خانیوال کی تحصیل جہانیاں میں مسیحی تنظیموں وائس آف نیڈی فیملیز‘ امریکہ کی صف اول کی بین الاقوامی مسیحی تنظیم پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن‘ کرسچن الائنس یورپ اور وائس آف جسٹس یورپ کے زیر انتظام پاکستان بھر میں مسیحی خواتین کی بے حرمتی‘انہیں جبری طو رپر مسلمانوں کے نکاح میں لانے‘ کم عمر مسیحی بچیوں کے ساتھ جبری نکاح‘زنابالجبر اور انہیں ورغلا پھسلا کر کلمہ پڑھانے کیخلاف جہانیاں اور خانیوال کے 24اضلاع میں رہائش پذیر مسیحی تنظیموں نے ایک بڑے سیمینار کا انعقاد کیا-اقلیتوں کے حقوق کو سلب کرنے کیخلاف منعقد کئے جانے والے اس اہم سیمینار میں خانیوال کے ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی‘ ڈی پی او خانیوال محمد علی وسیم‘ اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جہانیاں محمد ابرار سلمان‘ڈی ایس پی جہانیاں محمد مرتضی کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور مسیحی برادری کو یقین دلایا کہ ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں گی-تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال تحصیل جہانیاں میں اقلیتوں کے حقوق‘جبری مذہب تبدیلی‘ جبری شادی‘ اغواء اور تشدد کے موضوع پر وائس آف نیڈی فیملی‘ اوورسیز پاکستانی کرسچن الائنس یورپ اور وائس آف جسٹس یورپ کے اشتراک سے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی‘ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم‘اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جہانیاں محمد ابرار سلمان‘ امریکہ سے آئے ہوئے سینئر صحافی منظور حسین‘ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور کے کوآرڈی نیٹر یاسر طالب‘ ایم پی اے اقلیتی امور قیصر سورایا سمیت کرسچن کمیونٹی کے عہدیدار اور ہندو کمیونٹی کے عہدیدار راج موہن سمیت مرد وخواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے چیف آرگنائزر شہزاد سیموئل مل اور زاہد سہوترا تھے۔ تقریب کا باقاعدہ آغازکرسچن کمیونٹی نے اپنی مذہبی دعااور پاکستان کے ملی نغمے سے شروع کیا جس میں ملک کی سلامتی‘ترقی وخوشحالی اور امن وسکون کیلئے خدا سے دعا کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ خانیوال کے سربراہ ڈی سی اوظہیر عباس شیزاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے اقلیتوں سمیت تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں۔ اس میں رنگ ونسل‘ مذہب کے حوالے سے کوئی امتیازی سلوک نہیں۔پاکستان کا آئین‘ قانون برابری کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔اقلیتوں کے جان ومال سمیت عزت کا تحفظ پاکستان کا آئین ہے جو اقلیتوں کو مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ تمام اقلیتوں کوکوٹہ سسٹم کے تحت ہر سرکاری محکمے میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپیرئیر ملازمت سی ایس ایس میں بھی آپ کے بچے جا سکتے ہیں ضلعی انتظامیہ کے دروازے آپ کے مسائل کے حل کیلئے ہر وقت کھلے ہیں۔کسی بھی شرپسند کو اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا حق نہیں۔ہمارا قانون اور آئین کے ساتھ آہنی شکنجے کے ساتھ نمٹتا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم نے کہا ہے کہ آپ کی جان ومال عزت اور مذہبی املاک کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ آپ اپنی مرضی سے اپنی زندگیاں گزار سکتے ہیں۔مٹھی بھر شرپسند ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ان کا مقابلہ ہم سب ایک پاکستانی ہو کر کریں گے۔ آپ یہاں پر دوسرے شہریوں کی طرح مکمل آزاد ہیں کوئی آپ کے ساتھ جبر نہیں کر سکتا۔امریکہ سے آئے ہوئے سینئرصحافی منظور حسین نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کے ساتھ جبری شادی یا جبری مذہب تبدیلی ایک بھیانک وخوفناک جرم تصور کیا جاتا ہے۔جس معاشرے میں ایسا فعل ہو وہ ایک ڈریکونین معاشرہ کہلاتا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے اقلیتوں کو پاکستان کا قانون اور اسلام مکمل آزادانہ زندگیاں بسر کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔اگر کوئی شرپسند اس قسم کا گھناؤنا جرم کرتا ہے تو ہم سب نے مل کر قانون کی حکمرانی کیلئے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔جو پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے ہم سب نے ایک پاکستانی بن کر اس انتہا پسند فسادی ٹولے کا مقابلہ کرنا ہے۔ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور اعجاز عالم کے کوآرڈی نیٹر یاسر طالب نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے پاکستان کی حکومت‘آئین اور عوام اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سلسلے میں کم عمر شادی کے حوالے سے ایک قانونی ڈرافٹ جلد صوبائی اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا جس کا ڈرافٹ تیار کر لیاگیا ہے جس میں کم سے کم شادی کی عمر 18سال کی جا رہی ہے۔پروگرام کے چیف آرگنائزر سابقہ کوآرڈی نیٹر جنوبی پنجاب مینارٹیز کنونیئرجنوبی پنجاب پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن یو ایس اے شہزاد سیموئل نے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی‘ جبری شادی کے خلاف ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔ان شرپسندوں کا مقابلہ ہم حکومت اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ مل کر کرتے رہیں گے۔ہمیں ہمارے ملک کا آئین اور قانون مکمل آزادی دیتا ہے ہم جس طرح چاہیں اپنی مرصی سے آزادی سے ایک آزاد معاشرے میں ایک آزادانہ زندگی گزار سکتے ہیں ہم ان مٹھی بھر شرپسندوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ہمارے بزرگوں نے یہ ملک اصل کرنے کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔سابقہ ایم پی اے قیصر سورایا نے کہا کہ پورا پاکستان کرسچن کمیونٹی سے محبت کرنے والوں سے بھرا ہوا ہے۔ہسپتالوں میں اس وقت ہماری مسیحی بہنوں کی خدمت سے بھرا ہوا ہے۔مذہب کی بنیاد پر سلوک سے ملک کھوکھلا ہو تا ہے جو ہمارے دشمنوں کی سازش ہے ہم اس سازش کو ناکا م بنائیں گے۔پاکستان کے ہر چرچ میں ملک کی سلامتی‘امن وسکون کیلئے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں یہ ملک ہمارا ہے۔اوورسیز پاکستانی کرسچن الائنس یورپ کے نمائندے زاہد سہوترا نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ یہاں کی ضلعی انتظامیہ اقلیتوں کی خود آواز بنے ہوئی ہے۔ہم سب حکومت کے ساتھ مل کر ایسے شرپسند عناصر کا مقابلہ کریں گے۔ وائس آف جسٹس یورپ کے نمائندے شاہد سیموئل نے کہا کہ اب یہ وقت نہیں ہے کہ کسی کی آزادانہ زندگی کو زبردستی غلامانہ زندگی بنائی جا سکتی ہو۔پاکستان کی حکومت اور اعلی عدالتیں قانون کی حکمرانی کیلئے کسٹوڈین ہے جو اپنے فرائض بحسن خوبی سرانجام دے رہے ہیں اقلیتی امور کے راج موہن نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آزادی ہے لیکن چند تنگ ذہن کے لوگ اپنی مذموم کارروائی کیلئے معصوم لوگوں کو اکساتے ہیں جس سے ملک کے اندر انتشار پیدا ہوتا ہے ایسے عناصر کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔ چنو رام نے کہا کہ قدیم مندروں کو کھنڈر بننے سے بچایا جائے۔حکومت اس سلسلے میں اقداما کرے۔پروگرام کے شروع میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کی آمد پر مسیحی برادری اور مسلمانوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جہاں انہیں گلدستے پیش کرنے کے علاوہ ہار بھی پہنائے گئے-تقریب کے آخر میں انتظامیہ کی جانب سے شرکاء محفل کو کھانا بھی پیش کیاگیا۔

پروگرام کے چیف آرگنائزر سابقہ کوآرڈی نیٹر جنوبی پنجاب مینارٹیز کنونیئرجنوبی پنجاب پی سی اے یو ایس اے شہزاد سیموئل، وائس آف جسٹس یورپ اوورسیز پاکستانی کرسچن الائنس یورپ کے نمائندے زاہد سہوترا، شاہد سیموئل نے کہا کہ جبری مذہب تبدیلی‘ جبری شادی کے خلاف ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔ان شرپسندوں کا مقابلہ ہم حکومت اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ مل کر کرتے رہیں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here