سپریم کورٹ نے میڈیا کی آزادی کے معاملے میں سب کو نوٹس دینے کا فیصلہ کرلیا

0
26

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ہر ریاستی ادارے کو نوٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں احساس دلایا جائے کہ عدالت جائرہ لے رہی ہے اور ان میں سے ہر ایک سے انکوائری کرے گی کہ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کا آئینی فرض کیوں پورا نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار نے اپنی درخواست واپس لے لی لیکن جسٹس منیب اختر نے ریماکس دیے کہ عدالت ازخود نوٹس لے کر سماعت جاری رکھے گی یہاں تک کہ اگر کمرہ عدالت خالی ہو گا تب بھی، اس میں صحافیوں کے بنیادی حقوق شامل ہیں۔عدالتی ریمارکس ایسے وقت پر سامنے آئے جب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کو آئندہ سماعت (15 ستمبر) کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، تاکہ سپریم کورٹ کی پریس ایسوسی ایشن (پی اے ایس) کے تحفظات کا جائزہ لیا جا سکے۔عدالتی دفتر کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اسی طرح کے کیس میں کارروائی کی مکمل رپورٹ اور درخواست کی ایک کاپی جو ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اسے حاصل کیا جائے۔عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے آزادی صحافت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرنے اور پی اے ایس کے صدر امجد بھٹی سے کہا کہ وہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کی مخصوص کیسز کے ساتھ مکمل فہرست پیش کریں۔اس دوران جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریماکس دیے کہ ججوں کی طرح صحافیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ سیاست میں ملوث نہ ہوں اور اپنے پیشے کو شائستگی اور اخلاقیات کے ساتھ جاری رکھیں۔اس سے قبل سینیئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو قیامت کے دن انصاف ملے گا جنہوں نے ان پر ظلم کیے اور جب ظالموں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے سزا ملے گی۔عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ میں درخواست واپس لے رہا ہوں کیونکہ 20 سے 26 اگست تک گزشتہ ہفتے کے واقعات ملک کی عدالتی تاریخ میں افسوسناک تھے۔اسی طرح سینیئر صحافی عامر میر نے لاہور میں ایک صفحے کی درخواست میں لکھا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں ملے گا کیونکہ ’پوشیدہ‘ عناصر، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو دھمکانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایف آئی اے سے زیادہ طاقتور ہیں جنہوں نے انہیں اغوا اور گرفتار کیا اور انہیں دو برس سے ہراساں کر رہے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریماکس دیے کہ یہ غیر ضروری ہے کہ درخواست گزاروں نے اپنی درخواست واپس لے لی ہے کیونکہ چیف جسٹس کی جانب سے معاملے کو اٹھائے جانے کے بعد عدالت نے صورتحال کا نوٹس لیا تھا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت درخواست گزاروں کے بیان کا خیر مقدم کرے گی اور اگر وہ (مؤقف پیش نہیں کرتے) تو عدالت ریاستی عہدیداروں سے جواب طلب کرے گی کہ آئین کے تحت شہریوں اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی جارہی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر درخواست دہندگان کارروائی کے ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہتے تو یہ ان کی مرضی ہے کیونکہ یہ ایک آزاد ملک ہے اور انہیں عدالت سے رجوع کرنے یا نہ کرنے کی آزادی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here