کرپشن کے مقدمات سیاسی انتقام کا نشانہ ہیں‘فرزانہ راجہ

0
235

بروکلین‘نیویارک (منظور حسین سے):___بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سابقہ سربراہ ڈاکٹر فرزانہ راجہ نے کہاہے کہ وہ پاکستان سے اپنی کتاب لکھنے کیلئے صرف تین ماہ کیلئے آئیں تھیں اور جب میں پاکستان سے آٹھ سال قبل امریکہ آئی تو میرے اوپر کسی قسم کا کوئی کیس نہیں تھا اور نہ ہی انکوائری تھی اور نہ ہی میں مفرور قرار دی گئی تھی۔ میں دیگر پاکستانیوں کی طرح امریکہ کچھ ماہ کیلئے اپنے ذاتی کام سے آئی تھی جہاں میرے سابقہ شوہر عمار ترابی نے مجھے اپنے بھائی سلمان ترابی اور نسیم ترابی کے پاس ٹھہرایا۔ڈاکٹر فرزانہ راجہ کا کہنا تھا کہ اچنبے کی بات ہے کہ نیب نے 2مارچ 2020ء میں میرے خلاف کیس قائم کیا۔ دس سال بعد میرے خلاف کیس بنانے کا کیا جواز ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فرزانہ راجہ نے پاکستان کے پانچ ملین گھرانوں کو تاریخ میں پہلا سوشل پروٹیکشن پروگرام کیا۔اس پروگرام کے تحت پاکستان کے چار کرور غریب لوگوں کے چولہے جلے جبکہ یہ پروگرام 5سو ارب کا تھا جس میں ورلڈ بنک‘ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘امریکی ادارہ

USCID

‘برطانوی ادارہ

DFID

نے شرکت کی اور ہیلری کلنٹن نے پروگرام کی شفافیت پر بات کی۔برطانوی وزیراعظم تھراسمے نے اس پروگرام کی ٹرانسپیرنسی پر بات کی یہاں تک کہ برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن اور اقوام متحدہ کی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کود نیا میں

Replicate

ہونا چاہئے۔ڈاکٹر فرزانہ راجہ کا کہنا تھا کہ اس پروگرام اور اس سے منسوب فرزانہ راجہ کو کرپٹ کہنا فرزانہ راجہ کی توہین نہیں یہ پاکستان کے ان پانچ ملین لوگوں کی توہین ہے جن کیلئے یہ پروگرام متعارف کرایا گیا۔ڈاکٹر فرزانہ راجہ کا کہنا تھا کہ

IMF

جیسے ادارے نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بند نہ کرنے کے حوالے سے حکومت پاکستان کنڈیشن لگائی اور کہا کہ اس کے پیسے بڑھائے جائیں گے اگر یہ پروگرام غیر شفاف ہوتا تو آئی ایم ایف سے منظور شدہ یہ پروگرام آج تک نہ چل رہا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور عمران خان کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نہیں چلانا چاہتے تھے مگر انہوں نے اس پروگرام کی شفافیت اور آئی ایم ایف کے اصرار پر اس پروگرام کو جاری رکھا کیونکہ اس میں کرپشن نہیں تھی۔ ذاتی حیثیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میں ڈومیسٹک وائلنس اور چائلڈ ایڈز کا شکار ہوئی ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان لا کر جان سے مارنے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے قومی احتساب بیورو کی شفافیت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس کورٹ کو ساری دنیا جانتی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کو انتقامی نشانہ بنانے کیلئے وجود میں لایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ شوکت ترین اور عشرت حسین ان کے تمام فیصلوں میں شریک تھے۔ڈاکٹر فرازانہ راجہ کی پریس کانفرنس کا انعقاد پاکستان پیپلزپارٹی یو ایس اے کے سینئر رہنماء ڈیموکریٹ چوہدری سرور نے کیا جس میں ڈاکٹر فرزانہ راجہ کی وکیل بیتھ این سمتھ کے علاوہ پاکستانی صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ان سے دھواں دار سوالات کئے۔فرزانہ راجہ کی اٹارنی

Beth Ain Smith

کا کہنا تھا کہ فرزانہ راجہ ڈومیسٹک وائلنس کے جس برے حالات سے گزریں ان کا بیان کرنا مشکل ہے۔یہی حالات ان کی طلاق کا باعث بنے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب ان پر کیسز بنائے گئے تو جو حالات وہاں چل رہے تھے اس بناء پر کورٹ نے انہیں حکم دے رکھا تھا کہ آپ امریکی کورٹ کی حدود سے باہر نہیں جا سکتیں۔

Beth Ain Smith

کا کہنا تھا کہ فرزانہ راجہ پر پاکستان میں بننے والے مقدمات کے حوالے سے انہیں کوئی پیپرزنہیں بھیجے گئے جس پر وہ بات نہیں کرنا چاہتیں۔فرزانہ راجہ پر تو کب کے کیسز بنائے گئے ہمارا مقصد ان کے بچوں اور ان کی فلاح وبہبود ہے اسی وجہ سے ہم انہیں امریکہ سے کہیں بھی نہ جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ڈاکٹر فرزانہ راجہ کی پریس کانفرنس کے لئے زوم میٹنگ کا انعقاد امریکی سرزمین پر پاکستان پیپلزپارٹی یو ایس اے کے سینئر رہنماء بے نظیر بھٹو کے دست راست ڈیموکریٹ چوہدری سرور نے کیا‘ پریس کانفرنس میں پاکستان کے صف اول کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے مکمل شرکت کی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سابقہ ہیڈ محترمہ ڈاکٹر فرزانہ راجہ کو دھواں دار سوالات کئے جن کا انہوں نے تسلی بخش جواب دیا‘ کانفرنس میں فرزانہ راجہ کی اٹارنی

Beth Ain Smith

نے بھی شرکت کی اور امریکہ میں ڈاکٹر فرزانہ راجہ کی قانونی حیثیت اور ان پر کئے جانے والے مقدمے کے حوالے سے روشنی ڈالی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here