طالبان کابل پر قابض ہوگئے تو اپنی سرحدیں بند کردیں گے، عمران خان

0
32

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر اگر طالبان کابل پر قابض ہو گئے تو پاکستان افغانستان سے ملحقہ اپنی سرحدوں کو بند کر دے گا۔تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مہذب تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ نائن الیون کے بعد یہ تعلق یکطرفہ تھا، امریکہ چاہتا تھا کہ پاکستان امداد کے بدلے اس کی بات مانے، افغانستان سے امریکی انخلا کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد طالبان پر ہمارا اثرورسوخ کم ہو گیا۔ طالبان نے اگر فوجی فتح کا راستہ اختیار کیا تو طویل خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے جس سے ہم بھی متاثر ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے معمول کے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز امریکی جریدے ”نیویارک ٹائمز” کو ایک انٹرویو میں کیا۔ پاک امریکہ تعلقات کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے مقابلہ میں امریکہ سے زیادہ قریبی تعلق رہا ہے، نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی، اب جبکہ امریکہ افغانستان سے واپس جا رہا ہے پاکستان ایک مہذب تعلق کا خواہاں ہے، جیسا کہ قوموں کے مابین ہوتا ہے، ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔پاک امریکہ تعلقات کے حوالہ سے مزید وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایسے تعلقات کا خواہاں ہے جیسے امریکہ اور برطانیہ یا امریکہ اور بھارت کے مابین اس وقت قائم ہیں، ہم ایسا تعلق چاہتے ہیں جو برابری کی سطح پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران یہ تعلق برابر کا نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان کو امداد دے رہا ہے اس لئے پاکستان کو امریکہ کی بات ماننا ہو گی اور پاکستان نے امریکہ کیلئے جو کچھ کیا اس کی اسے انسانی جانوں کی صورت میں بھاری قیمت چکانا پڑی، پاکستان نے اس جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ملکی معیشت کو اس سے 150 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے خودکش حملے اور ملک میں جگہ جگہ بم دھماکے ہوئے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہاں سے مسئلے کا آغاز ہوا، امریکہ نے پاکستان سے مزید توقعات وابستہ کئے رکھیں اور بدقسمتی سے پاکستانی حکومتوں نے وہ کرنے کی کوشش کی جس کی وہ صلاحیت نہیں رکھتی تھیں۔ دونوں ملکوں کے مابین اعتماد کا فقدان تھا اور پاکستانی عوام نے یہ سمجھا کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلق کی بڑی بھاری قیمت چکائی ہے اور امریکہ نے یہ سمجھا کہ پاکستان نے کافی کچھ نہیں کیا لہٰذا اس طرح سے یہ ایک یکطرفہ تعلق تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم مستقبل میں ایسا تعلق چاہتے ہیں جس کی بنیاد اعتماد اور مشترکہ مقاصد پر ہو اور اس وقت ایسا ہی ہے یعنی افغانستان میں ہمارے مقاصد آج بالکل ایک جیسے ہیں۔وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کا افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد اس کے ساتھ تزویراتی تعلق جاری رہے گا؟ کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، میں نے اس حوالہ سے اس طرح نہیں سوچا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ کوئی تزویراتی تعلق ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے مابین تعلق مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہوتا ہے، پاکستان زیادہ تر نوجوان آبادی پر مشتمل 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے جو کہ مستقبل کیلئے ایک لحاظ سے تزویراتی مقام کا حامل ہے، اگر ہمارا بھارت کے ساتھ تعلق کسی مرحلہ پر بہتر ہوتا ہے جس کیلئے میں پرامید ہوں کہ ہو گا لہٰذا پاکستان کے ایک طرف سب بڑی مارکیٹوں میں سے ایک مارکیٹ موجود ہے اور دوسری جانب چین ہے، اس طرح ہمارے اطراف میں دو بڑی منڈیاں واقع ہیں اور پھر توانائی راہداریاں بھی موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح پاکستان اقتصادی لحاظ سے مستقبل میں اہم تزویراتی مقام کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور امریکہ کے مابین فوجی اور سلامتی تعلقات کے حوالہ سے سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین فوجی تعلقات کس نوعیت کے ہوں گے لیکن اس وقت یہ تعلقات افغانستان سے امریکی انخلاء سے قبل مسئلہ کے سیاسی حل کے مشترکہ مقصد کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں کیونکہ پاکستان افغانستان میں خونی خانہ جنگی نہیں چاہتا اور مجھے یقین ہے کہ امریکہ بھی افغانستان میں ایک یا 2 کھرب ڈالر خرچ کرنے کے بعد نہیں چاہتا کہ یہ ملک شعلوں میں جلتا رہے اس لئے ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے طالبان پر اپنا زیادہ سے زیادہ اثر و رسوخ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تین ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے 1996ء کے بعد طالبان کو تسلیم کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد طالبان پر ہمارا اثر و رسوخ کم ہو گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہی امریکی انخلاء کی تاریخ کا اعلان ہوا طالبان نے فتح کا دعویٰ کر دیا، وہ سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی لہٰذا اب وہ خود کو مضبوط سمجھتے ہیں اور ان پر ہمارا اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ طالبان بات چیت پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے، ہم نے اپنے اثر و رسوخ سے ان کو امریکہ سے بات چیت پر آمادہ کیا اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے ان پر دبائو ڈالا اور یہ بہت مشکل کام تھا۔وزیراعظم سے استفسار کیا گیا کہ کیا پاکستان اب طالبان پر مزید اثر و رسوخ نہیں رکھتا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان طالبان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ فوجی فتح کا راستہ اختیار نہ کریں یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اپنی پوری قوت استعمال کرکے فوجی فتح کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے ایک طویل خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے اور افغانستان کے بعد جو ملک اس صورتحال سے سب زیادہ متاثر ہو گا وہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان میں افغانستان سے بھی زیادہ پشتون آباد ہیں اور طالبان چونکہ بنیادی طور پر ایک پشتون تحریک ہے تو اس کے دو اثرات مرتب ہوں گے، ہمیں خدشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں پاکستان میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد آئے گی جبکہ پاکستان کو پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے مسئلے کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کیلئے ہمارا وژن اپنی معیشت کو اٹھانا اور افغانستان کے ذریعے وسط ایشیا تک تجارت کو فروغ دینا ہے، ہم نے وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کیلئے معاہدے کئے ہیں لیکن ہم وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی صرف افغانستان کے ذریعے ہی حاصل کر سکتے ہیں اور افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں یہ سب بیکار ہو جائے گا۔افغانستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس سال کے اوائل میں انہوں نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لئے افغانستان کا دورہ کیا اور افغان حکومت کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور انہیں بتایا کہ ہم امن تصفیہ کے لئے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیز، ہمارے آرمی چیف، افغان صدر اور ان کے آرمی چیف کے درمیان متواتر ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، اس لئے ہمارے درمیان مستقل رابطے جاری رہتے ہیں، بدقسمتی سے افغان حکومت میں ابھی تک یہ تاثر ہے کہ پاکستان مزید اقدامات کرسکتا ہے جس کے بارے میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ ہمارے لئے بہت مایوس کن ہے، وہ کئی سال کے بعد ہم پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں اور یہ کہ وہ خود کسی تصفیہ پر نہیں پہنچے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ طالبان کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کے سوا ہم ہر اقدام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے کے تمام طبقات نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم فوجی کارروائی سے گریز کریں گے، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں فوجی کارروائی کا مخالف ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ تورابورا کی لڑائی کے بعد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے چند سو القاعدہ جنگجوئوں کو نکال باہر کرنے کے لئے امریکا نے پاکستان پر دبائو ڈالا کہ وہ اپنے فوجی قبائلی علاقوں میں بھیجے ، پوری سرحد مکمل طورپر کھلی ہوئی تھی۔ پاک افغان بارڈر کبھی کوئی سرحد نہیں تھی بلکہ اسے ڈیورنڈ لائن سے جانا جاتا ہے لیکن اب ہم اس پر باڑ لگا رہے ہیں جو 90 فیصدمکمل ہوچکی ہے لیکن اگر طالبان طاقت سے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس صورت میں ہم سرحد کو سیل کریں گے کیونکہ ہم اس وقت یہ کرسکتے ہیں، اس لئے کہ ہم نے سرحد پر باڑ لگائی ہے جو ماضی میں کھلی تھی۔ پاکستان تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتا اور ہم پناہ گزینوں کی ایک اور بار آمد نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف افغان عوام کی منتخب کردہ حکومت کو تسلیم کرے گا۔ بھارت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کے برعکس میں بھارت کو زیادہ جانتا ہوں،کرکٹ جو ایک بڑا کھیل ہے اس کی وجہ سے میں نے بھارت سے محبت اور احترام پایا ہے، میں نے جب وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو میں نے سب سے پہلے بھارتی وزیراعظم مودی کو کہاکہ اقتدار میں میرے آنے کا میرا بڑا مقصد پاکستان سے غربت کاخاتمہ ہے اور اس کے لئے بہتر راستہ یہ ہوگا کہ بھارت اور پاکستان معمول کے تجارتی تعلقات قائم کریں جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا، ہم نے اس کے لئے کوشش کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہندو قوم پرست آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس سے نریندر مودی تعلق رکھتے ہیں جو اس کی راہ میں ایک دیوار بن کر کھڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت میں کوئی اور قیادت ہوتی تو وہ اس کے ساتھ ایک اچھا تعلق قائم ہوگیا ہوتا اور ہم نے تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرلیا ہوتا۔کشمیر کی جوں کی توں حالت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھارت کے لئے تباہ کن ہوگا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ تنازعہ برقرار رہے گا اور جتنا عرصہ کشمیر کا تنازعہ تصفیہ طلب رہتا ہے، یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات میں رکاوٹ رہے گا۔بھارت امریکا تعلقات اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ کہناچاہتا ہوں کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ امریکا اور چین ایک دوسرے کے حریف کیوں بنیں گے، اگر یہ دونوں بڑی طاقتیں، دونوں بڑی اقتصادی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتی ہیں تو اس کا دنیاکو فائدہ ہوگا اور اس کا ہم سب کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چین اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، چین پاکستان کا ایک اچھا دوست ہے، چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کا ساتھ دیا، جب ہمارے قرضے بڑھ گئے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک ملک حالت جنگ میں ہو، تجارتی سرگرمیاں منجمد ہوگئیں، صوبے اور قبائلی علاقے جنگ سے تباہ ہوئے اور ایسے موقع پر چین پاکستان کی مدد کو آیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کیوں یہ سوچے گا کہ بھارت چین کے خلاف اس کے دفاع کے لئے ڈھانچے کے طور پرکرداراداکرے گا،اگر بھارت اپنے لئے کوئی ایسا کردار چنتا ہے تو یہ اس کے لئے نقصان دہ ہو گا کیونکہ بھارت کی چین کے ساتھ تجارت دونوں بھارت اور چین کے لئے فائدہ مند ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here