ابراہیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب

0
83

ایران کے صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج کا اعلان ہونے میں قدرے تاخیر ہے لیکن غیرسرکاری نتائج کے مطابق صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی نے دیگر تین امیدواروں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق صدارتی انتخاب کے دیگر تینوں امیدواروں نے ابراہیم رئیسی کو ایران کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی پیش کردی۔سبکدوش ہونے والے اعتدال پسند صدر حسن روحانی نے ابراہیم رئیسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘میں لوگوں کو ان کی پسند پر مبارکباد دیتا ہوں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘میری سرکاری مبارکباد پر مبنی پیغام بعد میں جاری کرے گی لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس انتخاب میں کس کو کافی ووٹ ملے اور آج عوام نے کس کو منتخب کیا’۔60 سالہ ابراہیم رئیسی رواں برس اگست میں صدارتی منصب سنبھالیں گے جنہیں امریکا سے جوہری معاہدے جسے اہم معاملات کا سامنا ہوگا تاکہ ایران پر عالمی پابندیوں ختم ہوں اور ملک میں معاشی بحران پر کنٹرول پایا جاسکے۔50 فیصد یا اس سے کم ٹرن آؤٹ کے پیش نظر گزشتہ روز شروع ہونے والی ووٹنگ مقررہ وقت سے 2 گھنٹے تک توسیع کردی گئی تھی۔رات کو ہی ووٹوں کی گنتی کی گئیں اور حکام کی جانب سے باضابطہ نتیجہ یا ٹرن آؤٹ کے اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے۔خیال رہے کہ ایران کی گارجین کونسل نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو صدارتی انتخاب کی دوڑ سے الگ کردیا تھا۔بعدازاں انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے، ‘میں اس گناہ میں حصہ نہیں لینا چاہتا’۔صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ سے متعلق حتمی اعداد وشمار آنے باقی ہیں تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر 6 کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ایران میں 12 رکنی گارجین کونسل نے سیکڑوں امیدواروں سمیت اصلاح پسندوں اور حسن روحانی کے ساتھ اتحاد کرنے والوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس سے قبل ریاست سے منسلک رائے شماری اور تجزیہ کاروں کے مطابق 60 سالہ قدامت پسند ابراہیم رئیسی کو غیر متنازع امیدوار دیکھ رہے تھے۔ڈپلو ہاؤس تھنک ٹینک کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) حامد رضا نے امید ظاہر کی تھی کہ ابراہیم رئیسی کے انتخابات میں کامیابی ہوگی۔خیال رہے کہ 60 سالہ ابراہیم رئیسی انقلاب ایران کے بعد اہم عہدوں پر فائر رہے جبکہ محض 20 سال کی عمر میں ہمدان صوبے میں بطور پراسیکیوٹر مقرر ہوئے تھے جس کے بعد انہیں جلد ہی نائب پراسیکیوٹر پر ترقی دے دی گئی۔ان پر مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے 1988 میں نسل کشی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جبکہ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں ابراہیم رئیسی مختلف مراحلے میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور 2019 میں عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے منصب پر فائز ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here