پاکستانی امریکی نوجوانوں کی ابھرتی تنظیم امریکن پاکستانی ایڈووکیسی گروپ کا مئیر کی امیدوار کیتھرائن گارسیا کی حمایت کا اعلان

0
303

یویارک شہر میں بسنے والے مسلمانوں کو نہ صرف اپنی انتظامیہ کا حصہ بناؤں گی بلکہ ان کے مسائل دیگر کمیونٹیز کی طرح ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گی‘کیتھرائن گارسیا

کیتھرائن گارسیاایک قابل خاتون ہونے کے علاوہ نیویارک شہر کے مالی‘ معاشی اور دیگر معاملات کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں‘علی راشد

کیتھرائن گارسیاواحد امیدوار ہیں جو ہماری کمیونٹی کیساتھ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہماری کمیونٹی کیلئے آواز اٹھائی اور آج وقت ہے ہم ان کا ساتھ دیں‘نوید چوہدری

کوئنز‘ نیویارک (منظور حسین سے)پاکستانی امریکن ایڈووکیسی گروپ(اے پیگ) نے نیو یارک شہر کی سابق کمشنر برائے ڈیپارٹمنٹ آف سینی ٹیشن اور میئر آف نیویارک کیلئے ٹاپ تھری امیدواروں میں شامل کیتھرائن گارسیا کی حمایت کا اعلان کر دیا۔گزشتہ روز جیکسن ہائٹس کوئنز میں واقع ڈائیور سٹی پلازہ میں انڈورسمنٹ کی ایک پرہجوم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی امریکن ایڈووکیسی گروپ کے صدر علی راشد کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے کیتھرائن گارسیا کی ٹیم کے بارے میں اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کے بعد ان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیتھرائن گارسیا ایک قابل خاتون ہونے کے علاوہ نیویارک شہر کے مالی‘ معاشی اور دیگر معاملات کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔انہوں نے اسرائیل فلسطین جنگ میں ایک بہترین انسان ہونے کا کردار ادا کرتے ہوئے فلسطینی بچوں کی شہادت پر مذمت کی۔مسلمانوں کی اکثریت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہیں امید ہے کہ وہ کامیاب ہوں گی۔ نوید چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ میئر کے انتخابات میں کیتھرائن گارسیا واحد امیدوار ہیں جو ہماری کمیونٹی کے ساتھ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہماری کمیونٹی کیلئے آواز اٹھائی اور آج وقت ہے کہ ہم ان کا ساتھ دیں۔مجھے یقین ہے کہ کیتھرائن گارسیا میئر منتخب ہو کر ہماری کمیونٹی کی آواز بنیں گی اور ہمارے مسائل جن میں صحت عامہ‘ انشورنس‘ فوڈ جیسے دیگر مسائل شامل ہیں پر خصوصی توجہ دیں گی۔اس موقع پرکیتھرائن گارسیا کا کہنا تھا کہ وہ نیویارک شہر میں بسنے والے مسلمانوں کو نہ صرف اپنی انتظامیہ کا حصہ بنائیں گی بلکہ ان کے مسائل دیگر کمیونٹیز کی طرح ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گی۔تقریب میں (اے پیگ) کے ممبران شیر خان‘امین غنی‘ارم جاوید اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here