معروف فنکار و مزاح نگار فاروق قیصر عرف انکل سرگم انتقال کر گئے

0
53

معروف فنکار و مزاح نگار فاروق قیصر عرف انکل سرگم آج حرکت قلب بند ہونے سے 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔فاروق قیصر کے اہلخانہ نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معروف مزاح نگار کا انتقال آج حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا۔ان کے پوتے حسنین فاروق قیصر نے بتایا کہ قیصر اقبال کافی عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے، آج طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔فاروق قیصر نے سوگواروں میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور نیشنل کالج آف آرٹس سے تعلیم حاصل کی۔وہ کالم نگار، ڈائریکٹر، کٹھ پتلی ساز، اسکرپٹ رائٹر اور وائس ایکٹر بھی تھے جبکہ انہوں نے بہت سی مزاحیہ کتابیں بھی لکھیں۔اپنے استاد شعیب ہاشمی کو مشعل راہ سمجھنے والے فاروق قیصر کو 1970 میں پہلی مرتبہ اکڑ بکڑ کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن پر متعارف کرایا گیا لیکن انہیں اصل شہرت 1976 میں ڈرامہ کلیاں میں اپنے کردار انکل سرگم سے ملی اور وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔انکل سرگم ایک کٹھ پتلی کردار ہے جسے 1976 میں سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے پاکستانی بچوں کے ٹی وی شو کلیاں میں پہلی مربتہ متعارف کرایا گیا اور اس کردار کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ آواز بھی فاروق قیصر نے اپنی ہی دی تھی۔

انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کو پاکستان کی افسانی کٹھ پتلی جوڑی سمجھا جاتا ہے جبکہ کلیاں، پتلی تماشا اور سرگم ٹائم فاروق قیصر کے مشہور پروگرام تھے۔فاروق قیصر کی فنی خدمات کے اعتراف میں 1993 میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ رواں سال یوم پاکستان پر صدر مملکت عارف نے بھی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔انہوں نے اسکالرشپ پر رومانیہ جا کر بھی تعلیم حاصل کی جبکہ یونیسکو کی جانب سے دو سال بھارت جا کر بھی تعلیمی خدمات انجام دیں۔

وزیر اعظم کا اظہار تعزیت

وزیر اعظم عمران خان نے فاروق قیصر کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ سے تعزیت کی۔

انہوں نے کہا کہ فاروق قیصر محض ایک پرفارمر نہیں تھے بلکہ سماجی ناانصافیوں اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے مستقل آگاہی بیدار کرتے رہتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here