بائیڈن نے آرمینیاکے قتل عام کونسل کشی قراردیدیا

0
38

امریکاکایہ فیصلہ تاریخ دوبارہ لکھنے کی کوشش،ترکی کی جانب سے مذمت ، ترک باشندوں کاامریکی صدر کے نسل کشی کے بیان پرواشنگٹن میں مظاہرہ

واشنگٹن(دنیا مانیٹرنگ)امریکی صدر جو بائیڈن نے 1915 میں سلطنت عثمانیہ کی طرف سے آرمینیا میں قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرلیا ہے ۔ جو بائیڈن پہلے ایسے امریکی صدر ہیں جنہوں نے آرمینیا کے اس قتل عام کی برسی کے موقع پر جاری کردہ بیان میں اس کیلئے نسل کشی کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ بائیڈن کے مطابق امریکا سلطنت عثمانیہ کے دور میں آرمینیا میں نسل کشی کے دوران مارے جانے والوں کو یاد کرتا ہے اور اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس طرح کی سفاکی کو آئندہ کبھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران آرمینیا میں 1915 سے 1917 کے دوران قریب 15 لاکھ آرمینیائی باشندے مارے گئے تھے ۔ انقرہ نے امریکا کے اس فیصلے کو تاریخ دوبارہ لکھنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔ ادھر واشنگٹن میں بڑی تعداد میں ترکوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی 1915 کے واقعات کو “نسل کشی” قرار دیئے جانے کے بیان پر احتجاج کیا ہے ۔ واشنگٹن میں ترک سفیر کی رہائش گاہ کے سامنے جمع ہونے والے ترک باشندوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور ترکی اور آذربائیجان کے پرچم اٹھائے اور بائیڈن کے بیان کی مذمت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here