بلاجواز حراستوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر جاپان کا اعتراض

0
72

جاپانی امیگریشن حکام نے اقوام متحدہ کے ایک پینل کی رپورٹ پر اعتراض جمع کروا دیا ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بدری سے انکار کرنے والے غیر ملکیوں کی جاپان کی جانب سے طویل مدتی حراست ایک بین الاقوامی سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے۔بلا جواز حراست پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے عملی گروپ نے دو غیرملکیوں کے معاملے کا جائزہ لیا جنہیں جاپان میں پناہ گزین کی حیثیت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ ایک ایرانی اور کرد نژاد ایک ترک شہری نے اپنے ملک میں ایذا رسانی کے خوف سے پناہ کی درخواست دی تھی۔ ملک سے بے دخل کیے جانے سے انکار کے بعد انہیں طویل مدتی حراست میں رکھا گیا۔مذکورہ عملی گروپ اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگوں کی ایسی غیر معینہ حراست، بلاجواز تھی اور سیول و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی سمجھوتے کی کئی دفعات کی خلاف ورزی تھی۔اس گروپ نے گزشتہ ستمبر میں حکومت جاپان پر زور دیا تھا کہ غیر ملکیوں سے پیش آنے سے متعلق قانونی تبدیلیاں یا نظر ثانی کرے۔امیگریشن خدمات کے جاپانی ادارے نے ورکنگ گروپ کے خلاف 27 مارچ کو اعتراض جمع کروا دیا ہے۔ اس ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اخذ کردہ نتائج قطعی ناقابل قبول ہیں کیونکہ ان کی بنیاد جاپان کے قانونی نظام اور اس پر عملدرآمد سے متعلق حقائق کی واضح غلط فہمی پر ہے۔مذکورہ ادارے کا کہنا ہے کہ دونوں غیر ملکی شہریوں کے پاس عدالتی نظر ثانی اور مدد کیلئے مواقعے تھے اور یہ کہ ان کی حراست نہ تو امتیازی تھی اور نہ ہی اس کا مقصد انہیں پناہ گزین کی حیثیت کیلئے درخواست دینے پر سزا دینا تھا۔جاپان کی وزیر انصاف کامی کاوا یوکو نے منگل کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکام نے عملی گروپ کو اس کی غلط فہمیوں اور ملک کے امیگریشن کنٹرول نظام کے غیر منصفانہ تجزیے کو درست کرنے کی غرض سے حقائق اور جاپان کے مؤقف سے مطلع کر دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here