ویکسینیں ٹوکیو میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر نہیں روک سکیں گی: جاپانی محققین

0
46

ایک جاپانی تحقیقی ٹیم نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین لگائے جانے کے جاری عمل سے آنے والے مہینوں میں دارالحکومت ٹوکیو میں انفیکشن کے ایک اور ممکنہ تیز اضافے پر قابو پانے میں مدد کیلئے مرتب ہونے والے اثرات ممکنہ طور پر صرف محدود ہی ہوں گے۔تسُوکُوبا یونیورسٹی کے محققین نے مصنوعی ذہانت استعمال کر کے اندازہ لگایا ہے کہ 21 مارچ کو ہنگامی حالت کے خاتمے کے بعد ٹوکیو میں انفیکشن کیسے پھیلیں گے۔انہوں نے اس مفروضے پر اندازہ لگایا کہ اضافے کی شرح گزشتہ موسم گرما میں پہلی ہنگامی حالت اُٹھائے جانے کے بعد کی شرح کے مساوی ہے۔اس جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسین کے ٹیکے لگائے بغیر دارالحکومت میں وسط مئی میں نئے متاثرین کی یومیہ تعداد 1 ہزار 850 کے ساتھ چوتھی لہر عروج پر ہو گی۔ اگر ٹوکیو تقریباً 35 ہزار عمر رسیدہ افراد یا اپنی پوری آبادی کے 0.3 فیصد کو روزانہ ٹیکے لگانا شروع کر دے تو مئی میں اس کی یومیہ تعداد اپنے عروج پر 1 ہزار 650 ہوگی۔ یہ تعداد ٹیکے بالکل نہ لگائے جانے کے فرضی منظر نامے سے صرف 10.8 فیصد کی کمی ہے۔اگر ٹیکے لگانے کا عمل تیز کر کے روزانہ تقریباً 1 لاکھ 15 ہزار افراد یا ٹوکیو کی ایک فیصد آبادی کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں تو یومیہ نئے متاثرین کی بلند ترین تعداد 1 ہزار 540 ہوگی۔ یہ 16.8 فیصد کی کمی ہے۔اس فرضی منظر نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین کے ٹیکوں سے چوتھی لہر کو روک سکنے کا زیادہ امکان نہیں ہے۔یونیورسٹی آف تسُوکُوبا، کے پروفیسر کُراہاشی سیتسُویا کا کہنا ہے کہ ٹیکے لگائے جانے کا عمل ہموار انداز میں انجام دیے جانے کے باوجود مذکورہ حفاظتی ٹیکے جولائی سے پہلے انفیکشنز کو روکنے میں مدد دینا شروع نہیں کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here