دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قباء دیکھ

0
490

 

تحریر: منظور حسین
میری پرورش ماں کی نایاب گود کے بعد پاکستان کے خوبصورت سماج میں ہوئی ابتدائی تعلیم پاکستان کے پرائیویٹ سکول سسٹم آئیڈیل کیمبرج پبلک سکول سے لی‘ بعد ازیں راولپنڈی کے گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن‘گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی اور پھر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات عامہ”انٹرنیشنل ریلشینز“ میں پوسٹ گریجویشن کر نے کے ساتھ آرمڈ فورسز کے عظیم بین الاقوامی ادارے ماڈرن انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل لینگویجز سے انگلش زبان میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1990ء میں پاکستان کی صف اول کی نیوز ایجنسی پاکستان انٹرنیشنل پریس (پی پی اے)‘ نیوز نیٹ ورک انٹرنیشنل (این این آئی)‘پاکستان کے صف اول کے قومی اخبار پاکستان آبزرور‘روزنامہ خبریں‘شام کے اخبار روزنامہ دنیا اسلام آباد اور بعد ازیں امریکہ کے صف اول کے ٹی وی چینل فاکس نیوز اور واشنگٹن کے نیوز سروس ادارے (فیچر سٹوری نیوز) سے منسلک رہا
پاکستان میں 1990ء کی دہائی سے صحافت سے منسلک ہونے کی وجہ سے پاکستان کی قومی اسمبلی‘سینیٹ‘ افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر‘ کورٹ کچہریوں اورسفارتخانوں ڈپلومیٹ مشنز کی رپورٹنگ کی‘ اس دور میں پاکستان کے تمام وزراء اعظم‘ وزراء اور بین الاقوامی صدور‘ وزراء اعظم سے خصوصی انٹرویوز بھی کئے- پاکستان میں شیعہ سنی باہمی محبت‘تعزیہ برداری کے جلوسوں میں شیعہ سنی ماتمی اتحاد کی مثالیں بھی دیکھیں اور اس محبت کو قتل عام میں بدلتے ہوئے بھی دیکھا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
اہل سنت والجماعت کے ایک عام انسان اور رکن کی حیثیت سے اپنی کم علمی کی وجہ سے ہمیں صرف امام حسینؓ‘ امام عالی مقامؓ کا نام نامی اور حضرت فاطمہ ؓکانام معلوم تھا-

سن 2003ء میں امریکہ آگیا-اوائل میں میری لینڈ میں رہائش اختیار کی مگر بعد ازیں 2008 میں نیویارک جسے عروس البلاد کہا جاتا ہے رہائش اختیار کی- امریکی سرزمین پر پہلے دن سے صحافت کا کام کیا اس دوران بروکلین میں واقع المہدی سنٹر جانے کا اتفاق ہوا شاہد یہ سن 2008ء یا 2009ء ہی تھا وہاں ایک عالم دین سے ملاقات ہوئی جو سر پر عمامہ شریف پہنے نظر آئے ہم نے آج تک انہیں عمامہ شریف اور ٹوپی کے بغیر ننگے سر کم ہی دیکھا-میں نے بذات خود 14سال تک انہیں اپنے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر رپورٹ کیا- پاکستان کے اس عظیم فرزند جن کا نام آیت اللہ ڈاکٹر علامہ سخاوت حسین سندرالوی ہے کو ان 14سالوں میں ہمیشہ شیعہ سنی اتحاد کا درس اور پرچار کرتے دیکھا اور سنا -آپ کاا نداز بیاں جلالی اور حق پر مبنی ہوتا ہے-علامہ سخاوت حسین سندرالوی نے ممبر رسول سے کبھی متنازع بات نہیں کی-اہل سنت والجماعت کے عید میلادالنبی کے جلوسوں میں ہمیشہ نہ صرف شرکت کی بلکہ بروکلین میں واقع المہدی سنٹر میں انہیں خوش آمدید کہا-ان میں شامل پاکستان کے صف اول کی اہل سنت والجماعت کے علماء کو پھولوں کے ہار پہناتے بھی دیکھا‘یہی نہیں جب پاکستان سے کوئی سنی عالم دین تشریف لائے تو اس عالم دین کو ہمیشہ المہدی سنٹر میں دعوت دی اور ان کے اعزاز میں ظہرانے کا بندوبست کیا-آیت اللہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی کا ایک رخ اور بھی ہے آج سے دس سال قبل امریکہ کی بڑی بڑی ریاستوں میں امام حسین عالی مقام کا پیغام پہنچانے کیلئے ہزاروں میل کا سفر کیا خود اکیلے اور کبھی اپنے رفقاء کے ساتھ-آپ کی ان ذاتی کاوشوں اور یزیدیت پر کاری ضرب کے طور پر آج امریکہ کے کونے کونے میں امام عالی مقام کا نہ صرف نام ہر زبان اور امریکہ کے کونے کونے پر لیا جا رہا ہے بلکہ تعزیہ کے جلوس امریکہ بھر میں رواں دواں ہیں جہاں یہ پاکستان سے محبت اور ہمیشہ شیعہ سنی اتحاد کی بات کرتے نظر آتے ہیں -گزشتہ دنوں جب پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد میں دراڑیں پڑتی نظر آئیں تو ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی نے نیویارک میں کئی ایک پریس کانفرنسیں کر ڈالیں اور جلتی پر تیل کا نہیں بلکہ محبت وآشتی اور باہمی بھائی چارے کالازوال درس دیا- کئی ایک کانفرنسز میں اہل سنت کے علماء نے بھی شرکت کی آپ نے پاکستان میں مسلکی اور مذہبی بنیادوں پر لگنے والی آگ کو بجھانے کیلئے اپنی عقل وشعور اور ایک سچے محب وطن امریکی پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا -آپ کے واعظ کا نتیجہ رہا کہ راقم الحروف کو اہل بیت اطہار کے ایک ایک فرد سے شناسائی ہوئی-آیت اللہ ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی کو سنتے سنتے اور پھر اسے لکھتے لکھتے میرے دل میں اہل بیت اطہار کی محبت میں مزید اضافہ ہوا جو مرتے دم تک نہیں مٹے گی-آپ نے ہمیشہ ہمیں یہی سبق دیا کہ اہل بیت اطہار ہی دین کی اصل روح ہیں ان ہستیوں کے بغیر دین نامکمل ہے یہ شمع ہمارے دلوں میں تاقیامت روشن رہے گی-یہی وجہ ہے کہ ہم بھی شاعر کے اس قول کے حامی ہیں کہ
قرآن وہ کتاب ہے جو درس انقلاب ہے
ہماری زندگی ہے سیدھا راستہ کربلا کربلا
علامہ سخاوت حسین سندرالوی کو 14سالوں میں جب بھی ذاتی حیثیت اور ان کے خطابات کے دوران ملا تو ایک عظیم انسان پایا- آپ اخلاق کے اعلی اصولوں کی زندہ مثال ہیں -چہرے پر ہمیشہ متانت اور ملنے والے کو نہ صرف قد رکی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ کسی کو بھی خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹاتے-اہل تشیع کے علاوہ اہل سنت والجماعت کے علماء سے انتہائی احترام اور ان کی قدر ومنزلت آپ کا خاصہ ہے-افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کے اس عظیم عالم دین جس نے امریکی سرزمین پر دین اسلام اور شیعہ مسلک کی ساری زندگی ترجمانی کی آج کچھ ناعاقبت اندیش جنہیں ہم جانتے تک نہیں اورجن کا امریکی سرزمین پر 17سال صحافت کا کام کرنے کے بعد ہمیں ان شرپسند حضرات کا علم تک نہیں کہ یہ لوگ کہاں کہاں موجود ہیں اور ان کی پاکستانی امریکی کمیونٹی اور شیعہ مسلک کے افراد اور گھرانوں کیلئے کیا خدمات ہیں آج آیت اللہ علامہ سخاوت حسین پر دشنام درازی کرتے ہیں -میری ان افراد سے گزارش ہے کہ وہ میرے ادارے ہفت روز دنیا انٹرنیشنل اور گلو بل ٹی وی کے پلیٹ فارم پر آ کراپنی پاکستانی کمیونٹی اور شیعہ مسلک کیلئے کی جانے والی اپنی خدمات کے حوالے سے بات کریں تاکہ معلوم ہو کہ پاکستان کے عظیم فرزندآیت اللہ ڈاکٹر علامہ سخاوت حسین سندرالوی اور ان شرپسند افراد میں کون سچا‘ کون جھوٹا ہے

____________________________

ادارہ اپنے دفتر

825

سٹریٹ

E15

پر انہیں دعوت دیتا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here