عالمی وباء کے دوران بہت سے جُزوقتی کارکنان اپنی آمدنی سے محروم

0
41

جاپان میں ایک نجی تحقیقی ادارے کے جائزے میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ملک میں 14 لاکھ سے زائد جُزوقتی یا عارضی کارکنان نے کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران کم کام کیا لیکن اُنہیں ہرجانہ ادا نہیں کیا گیا۔نومُورا ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے 8 فروری سے پانچ روز کے دوران تقریباً 65 ہزار جُزوقتی یا عارضی کارکنان کا آن لائن سروے کیا۔ مذکورہ تاریخ کو ٹوکیو سمیت 10 پریفیکچروں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔کام کےاوقات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر 34 فیصد مردوں اور 29 فیصد خواتین نے کہا کہ عالمی وباء سے پہلے کی نسبت اُنکی شفٹیں تعداد میں کم تھیں۔مذکورہ دونوں گروپوں کی تقریباً نصف تعداد کا کہنا تھا کہ کام کے گھنٹوں میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔جن لوگوں کے کام کے گھنٹوں میں کمی ہوئی، اُن میں سے 6 ہزار 232 رائے دہندگان سے پوچھا گیا کہ آیا اُنہیں کوئی ہرجانہ ملا یا نہیں۔مردوں کی 79 فیصد تعداد اور 75 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ اُنہیں کوئی اعانت نہیں ملی اور کئی کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ آیا وہ اس کے مستحق تھے۔تحقیق کاروں نے تخمینہ لگایا ہے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 60 ہزار کارکنان کے کام کے گھنٹوں میں نصف سے زیادہ کمی کی گئی اور اُنہیں ہرجانہ ادا نہیں کیا گیا۔ ان کارکنان میں تقریباً 10 لاکھ 30 ہزار مرد اور لگ بھگ 4 لاکھ 30 ہزار خواتین تھیں۔اعلیٰ مشاورت کار ’’تاکیدا کانا‘‘ کے مطابق ایسے بہت سے لوگ ہیں جو حقیقتاً بیروزگار ہو گئے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کے بڑے حصّے سے محروم ہوئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here