ضمنی انتخاب: الیکشن کمیشن نے این اے 75 کا نتیجہ روک دیا

0
46

قومی اسمبلی کے حلقہ 75 (سیالکوٹ 4) میں ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ملک کے 4 حلقوں 2 قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔انہیں 4 میں سے ایک حلقہ این اے 75 ڈسکہ کا تھا جہاں کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی صاحبزدہ سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔یہاں یہ مدنظر رہے کہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کی ایک تحصیل ہے۔اس حلقے میں 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار اور پی ٹی آئی کے علی اسجد ملہی کے درمیان تھا۔تاہم اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی اور فائرنگ کے نتیجے میں گزشتہ روز 2 افراد جاں بحق بھی ہوگئے تھے، مزید یہ کہ انتخابی نتائج پر بھی جیتے کے دعوے سامنے آئے تھے۔

الیکشن کمیشن کا اعلامیہ

الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق این اے 75 سیالکوٹ کے نتائج غیرضروری تاخیر سے موصول ہوئے اور اس دوران متعدد مرتبہ پریزائڈنگ افسران سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔اعلامیہ کے مطابق ان افسران کا پتا لگانے کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر کی اطلاع پر چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب پولیس، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے رابطے کی کوشش کی لیکن اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔الیکشن کمیشن کے بیان میں کہا گیا کہ چیف سیکریٹری سے رات 3 بجے ایک مرتبہ رابطہ ہوا، جس پر انہوں نے گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کو تلاش کرکے نتائج کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی مگر پھر وہ بھی معاملے پر دستیاب نہیں رہے، بعد ازاں کافی کوششوں کے بعد صبح 6 بجے پریزائڈنگ افسران بمعہ پولنگ بیگز واپس آگئے۔اعلامیہ کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر حلقہ این اے 75 نے آگاہ کیا ہے کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے، لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقہ کا غیرحتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے، مزید یہ کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھیج رہے ہیں۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر کو این اے 75 سیالکوٹ کے غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا ہے اور مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایات کی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر اور جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ریکارڈ مکمل محفوظ کرلیا جائے۔اپنے اعلامیہ میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ مذکورہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔

تحریک انصاف کا جیت کا دعویٰ

دوسری جانب این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف اپنی جیت کا دعویٰ کر رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہزاد گل نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’اللہ کا شکر مریم (نواز) اور ان کے پاپا (نواز شریف) کے بیانیے کو شکست ہوئی (اور) پی ٹی آئی این اے 75 کا الیکشن 7 ہزار 827 ووٹوں سے جیت چکی، جب آپ ریاست مخالف بیانیہ دیں گے، کرپشن کرین گے تو ہار آپ کا مقدر ہوگی‘۔

ساتھ ہی انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ این اے 75 کا نتیجہ صبح 5 بجکر 40 منٹ پر آچکا لیکن آر او نارووال کا رہنے والا ہے اور احسن اقبال کے دباؤ کی وجہ سے نتیجہ روک کر بیٹھے ہیں، جیت جائیں تو نواز کے بیانیے کی جیت ہار جائیں تو نہتی لڑکی۔

مسلم لیگ (ن) کا مؤقف

ادھر مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ میں اس وقت ڈسکہ میں موجود ہوں اور یہاں پر مسلم لیگ (ن) کی امیدوار انتخاب میں جیت رہی ہیں اور 337 پولنگ اسٹیشن کے نتائج ریٹرننگ افسران کے پاس آچکا ہے۔انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کی جیت کو دیکھتے ہوئے 23 پولنگ اسٹیشنز کا عملہ پریزائدنگ افسر اور ریکارڈ کو غائب کردیا گیا ہے جب اس معاملے پر ریٹرننگ افسران سے پوچھتے ہیں تو وہ بے بسی کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ یہ عملہ کہاں غائب ہوگیا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 23 پولنگ اسٹیشنز کے عملے کے ریکارڈ کے ساتھ غائب ہونے سے یہاں کا نتیجہ مشکوک ہوگیا ہے اور ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان 23 پولنگ اسٹیشنز کا جو بھی نتیجہ آتا ہے اسے حتمی گنتی سے الگ کیا جائے، اس کا فرانزک آڈٹ ہو یا ان پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا حکم دیا جائے تاکہ شفافیت کے تقاضے پورے ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ دھاندلی ہے جو انتخاب ہارنے کے بعد اپنی عزت بچانے کے لیے اس حلقے کے نتیجے کو روک کر بیٹھے ہوئے ہیں، ان لوگوں نے کس نے یرغمال بنایا ہم اس کا جواب چاہتے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس کا نوٹس لیں۔قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حلقے کے کُل 360 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار ایک لاکھ 58 ہزار 791 ووٹس لے کر کامیاب رہی تھیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اسجد ملہی کو ایک لاکھ 42 ہزار 311 ووٹس مل سکے تھے۔

ضمنی انتخاب کشیدگی

واضح رہے کہ گزشتہ روز این اے 75 ڈسکہ میں پورا دن کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم، فائرنگ اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ 3 بجے تک پولنگ پرامن طریقے سے جاری تھی کہ جب کچھ ملزمان نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گوئنڈ کی بمبان والا میں قائم پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ شروع ہوئی تھی۔جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹس ماجد اور ذیشان پولنگ اسٹیشن کے اندر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 2 حمایتی ساجد اور فہد شدید زخمی ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد دونوں جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے پر دونوں سیاسی کارکنان کے قتل کا الزام لگایا تھا۔سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر حسن اسد علوی کا کہنا تھا کہ بمبان والا پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے تھے۔علاوہ ازیں 10 موٹرسائیکلوں پر مشتمل ایک گروپ نے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ڈسکہ، گورنمنٹ جناح ایمنٹری اسکول، میاں بازار ڈسکہ اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ڈسکہ کلاں میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوائی فائرنگ کی تھی۔مذکورہ واقعہ کی وجہ سے وہاں صورتحال کشیدہ ہوئی تھی جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے پولنگ بھی معطل کرنا پڑی تھی جبکہ ان فائرنگ کے واقعات کی ویڈیو کلپس آن لائن وائرل ہوگئی تھیں۔مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے پی ٹی آئی کے لوگوں کو فائرنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ تھا پولنگ شروع ہونے سے قبل مختلف پولنگ اسٹیشنز پر بیلٹ باکسز بغیر سیل پائے گئے تھے۔وہیں پنجاب کے وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے فائرنگ اور 2 سیاسی کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کو ٹھہرا دیا تھا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here