دنیا انٹرنیشنل کی ”سلور جوبلی“ کے خصوصی موقع پر معروف وممتاز صحافی وچیف ایڈیٹرزاہد حسین سے خصوصی انٹرویو

0
378
معروف وممتاز صحافی وچیف ایڈیٹر زاہد حسین سے خصوصی انٹرویو
انٹرویو:سیدہ رضا
.دنیا انٹرنیشنل
اسلام علیکم قارئین
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل
دنیا انٹرنیشنل کی مسلسل اشاعت کے 25سال مکمل ہونے پر ”سلور جوبلی“ کے خصوصی موقع پر آج ہیں میرے ساتھ معروف وممتاز شخصیت‘صحافی اور دانشور زاہد حسین صاحب جو دنیا انٹرنیشنل کے بانی‘ سرپرست‘پبلشر اور چیف ایڈیٹر ہیں۔
دنیا انٹرنیشنل کی کامیاب اور مسلسل اشاعت کے 25سال مکمل ہونے پر ان سے کیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔
سیدہ رضا:اسلام علیکم زاہد صاحب
زاہد حسین:وعلیکم السلام
سیدہ رضا:سب سے پہلے میں آپ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے انٹرویو کا آغاز کرتی ہوں اور دنیا انٹرنیشنل کی مسلسل اشاعت کے 25سال کامیابی سے مکمل ہونے پر آپ کو مبارکبادپیش کرتی ہوں۔
آپ کے اور تمام ٹیم ممبران کیلئے یہ ایک تاریخی دن بھی ہے کیا کہیں گے اس بارے میں؟
زاہد حسین:سب سے پہلے سیدہ رضا صاحبہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے انٹرویو کے لیے چنا اس مبارک موقع پر۔
میں اور میری تمام ٹیم بھی آپ کی شکر گزار ہے کہ دنیا انٹرنیشنل کی زندگی کے سفر کے اس اہم موقع پر آپ نے ایک خصوصی سلورجوبلی ایڈیشن کا اہتمام کرتے ہوئے میرا انٹرویو بھی لے رہی ہیں۔
میرے صحافت کے سفر کا آغاز دنیا انٹرنیشنل کے 1995ء میں شائع ہونے سے بہت پہلے شروع ہوا تھا۔ میں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم ایس سی کی تو بقول فیض
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
یونیورسٹی مکمل ہونے کے فوری بعدمیں نے مسلم اخبار جوائن کیا اور وہاں جاب شروع کی۔ملیحہ لودھی وہاں مسلم اخبار کی ایڈیٹر ہوا کرتی تھیں۔یہ ایک لیفٹ
ونگ کا اخبار سمجھا جاتا تھا۔پراگریسو اخبار تھا‘ اس میں‘میں نے 9سال کام کیا۔نیوز ڈیسک پر بھی کام کیا‘ رپورٹنگ میں بھی کام کیا‘ایڈیٹوریل میں بھی کام کیا اور پھر 1995ء میں اپنا وینچر لانچ کیا کیونکہ اسلام آباد میں شام کا کوئی اخبار نہیں تھا۔کراچی اور لاہور میں چھپتے تھے لیکن شام کا کوئی اخبار نہیں نکلتا تھا۔
دنیا انٹرنیشنل کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ فیڈرل کیپٹل اسلام آباد سے شائع ہونے والا شام کا پہلا اردو اخبار ہے جوباقاعدہ طور پر وہاں سے نکلنا اور شائع ہونا شروع ہوا اور پھر چلتے چلتے صبح کے اخبار میں تبدیل ہو گیا اور روزنامہ کے طور پر شائع ہوتا رہا حتیٰ کہ میں جب یہاں امریکہ آگیا تو پھر بھی مسلسل شائع ہوتا رہا‘وہاں میرے بھائی اس کوٹیک کیئر کرتے رہے۔ تو یہ ایک ہمارے لیے بڑی خوشی اور خوش قسمتی کی بات ہے کہ اتنا عرصہ ہم اس وینچر کو چلا سکے ہیں اور ہمارے قارئین اور مشتہرین کے تعاون سے یہ چل رہا ہے اور انشاء اللہ آگے بھی چلتا رہے گا۔اب 25سال اور آئندہ آنے والے 50سا ل بھی انشاء اللہ۔
سیدہ رضا:آپ نے 1995ء میں ایک بیج بویا تھا جو پروان چڑھا اور پھر دیس پاکستان سے پردیس امریکہ و جاپان تک عوام الناس کی خدمت میں پیش پیش رہا اور آج بھی ہر دن کا چڑھتا سورج آپ کی کاوش‘ محنت اور لگن کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے تو 25سال مکمل ہونے پر آج کیسا محسوس کرتے ہیں آپ؟
زاہد حسین:آج ایک سینس آف ریلیف ہے اور
ACCOMPLISHMENT
بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑی توفیق دی کہ ہم نے اسے نبھایا۔اخبار کا کام مشکل بھی ہے کہ روزانہ کا اخبار چھاپنا اور پھر ہفت روزہ چھاپنا۔یہ ایک انتہائی کٹھن لمحات سے گزرنے والا کام ہے اور انسان کواس سے گزرنا پڑتا ہے۔جیسے خبریں اکٹھی کرنا پھر ان کو ترتیب دینا‘ پیج میکنگ کرنا‘ڈیزائن کرنا وغیرہ۔
جب اخبار شروع کیا تھا تو اس وقت کمپیوٹر زیادہ عام نہیں تھے۔کمپیوٹر پر کام تو ہوتا تھا خطاطی بھی ہوتی تھی قلم سے اس کی شہ سرخی نکلا کرتی تھی اور پیج بننے کے بعد اس کی فلم بنتی تھی پھر پریس میں کاغذ پر اخبار کی صورت میں چھپتا تھا۔
مگراب تو جدید دور اور ماڈرن زمانہ کے ساتھ سارا کچھ کمپیوٹر میں ہی ہو جاتا ہے اور پریس میں چھپ جاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ ہم اتنا عرصہ اس کو چلاسکے اور آئندہ بھی انشاء اللہ چلاتے رہیں گے۔
سیدہ رضا:آپ نے 1995ء میں اخبار دنیا انٹرنیشنل شروع کیا تو اس وقت کی صحافت اور آج کی صحافت میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
زاہد حسین:صحافت کو چیلنجز پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں بلکہ اب تو کچھ زیادہ ہی ہیں۔پہلے لوگ اخبار سے‘رپورٹرز سے‘ جرنلسٹ سے ڈرتے تھے مگر اب رپورٹرز کا قتل عام ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔بڑے بڑے مہذب ملکوں میں بھی رپورٹرز محفوظ نہیں ہیں اور رپورٹرز کو بھی اپنے مالکان کی طرف دیکھنا پڑتا ہے کہ ان کی کیا مرضی ہے؟کونسی کارپوریشن کے بارے میں لکھنا ہے اور کونسی کے بارے میں نہیں۔
توصحافت میں قدغن پہلے بھی رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔پاکستان میں بھی صحافت زنجیروں میں ہے۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب آپ نے پاکستان میں رہتے ہوئے بھی صحافت میں اہم کردار ادا کیا اور آج امریکہ میں بھی سفر صحافت رواں دواں ہے تو کیا سمجھتے ہیں کہ دونوں جگہ فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کا تضاد ملا یا ایک ہی طرح سے ہے؟
زاہد حسین:پاکستان میں جب ہم صحافت کرتے تھے تو بڑا اچھا ماحول تھا۔ بہت کم حکومتی مداخلت  ہوا کرتی تھی۔مداخلت تو ہوتی تھی مگر وہ اتنا زیادہ پریشر نہیں ڈالتے تھے کہ آپ کو پریشر کے نیچے چکنا چور ہی کر دیا جائے جیسے میں نے بھی ایک مرتبہ شریف خاندان کے خفیہ اثاثوں کے نام سے ایک خبر شائع کرنا چاہی تھی تو کہیں سے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسر
PIO
کو پتل چل گیا کہ یہ ٹرانسلیشن چھاپ رہے ہیں۔
THE INDEPENDENT
اخبار میں ایک خبر چھپی تھی ہم اس کا ترجمہ چھاپنے والے تھے تو انہوں نے ہمیں
REQUEST
کی کہ آپ نے یہ نہیں چھاپنی‘انہوں نے ہمیں کافی لالچ وغیرہ بھی دیئے کہ ہم اشتہار بھی دیں گے مگر پھر بھی الحمد اللہ ہم نے وہ خبر چھاپی۔
پھر بھی وہ ہم سے ناراض نہیں ہوئے اور ہمارا ان سے تعلق رہا پہلے کی طرح۔ آج بھی وہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کررہے ہیں اشفاق گوندل صاحب اللہ تعالیٰ ان کو صحت وتندرستی عطاء کرے کہ انہوں نے شفقت ومحبت کا سلوک روا رکھا لیکن دیکھا جائے تو اب زیادہ پریشر ہوتا ہے اور پاکستان وامریکہ کا فرق یہ ہے کہ
پاکستان میں ایک
CRUDE
طریقے سے سٹور ی کو دبایا جاتا ہے اور جابرانہ انداز سے دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں حتیٰ کہ رپورٹرز کو قتل بھی کروا دیا جاتا ہے لیکن امریکہ میں منظم انداز میں کام ہوتا ہے اتنا
CRUDE
انداز میں نہیں ہوتا۔یہاں بھی بعض اوقات رپورٹرز کو آگے نہیں آنے دیا جاتا اور جو رپورٹرز اسٹبلشمنٹ کے خلاف لکھنا چاہیں تو ان کے لئے پریشانیاں یہاں بھی ہیں۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب دنیا انٹرنیشنل جاپان نے پچھلے چند ماہ میں جاپان میں رہنے والے پاکستانیوں کو
COVID-19
کے حوالے سے بے حد رہنمائی فراہم کی اور نہ صرف رہنمائی بلکہ پاکستان میں پھنسے پاکستانیوں کو ان کی ویزہ پرابلمز حل کرواتے ہوئے جاپان واپس لانے میں خصوصی معاونت بھی کی جو کسی تاریخی کارنامہ سے کم نہیں‘ آپ دنیا جاپان کی کاوشوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟
زاہد حسین:میں سمجھتا ہوں کہ اخبار کمیونٹی کا ایک ماؤتھ پیس ہوتا ہے۔کمیونٹی کی آواز ہوتی ہے تو ایسے کاموں میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چاہے کوئی قدرتی آفات ہی کیوں نہ ہو یہ ایک فریضہ ہے جسے انجام دینا فرض ہوتا ہے جیسے ماضی میں بھی سیلاب آئے‘ زلزلے آئے ہم نے آگے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا اور عوام کی رہنمائی کی‘اطلاعات بہم پہنچائیں اور سروس کرنے والے جو ادارے ہیں ان کو عوام تک ملانے میں بھرپور کردار ادا کیا اور مدد کی۔اسی طرح دنیا جاپان کو جاپان میں جب
SITUATION  COVID
 نظر آئی کہ جاپان حکومت نے پاکستان اور دیگر ممالک میں گئے پاکستانیوں کو پابند کر دیا کہ وہ جاپان دوبارہ داخل نہیں ہو سکتے تو پاکستان جو لوگ گئے ہوئے تھے وہ پھنس گئے‘ کچھ کے ویزے ایکسپائر ہو رہے تھے اور کچھ کے کئی اور مسئلے مسائل تھے جاب کے مسائل تھے تو ہمارے بھائی طاہر حسین جو دنیا انٹرنیشنل جاپان کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں‘انہوں نے دن رات ایک کر کے کمبائنڈ گروپ قائم کیا اور سب کو معلومات ومشورے بہم پہنچائے۔فارن آفس وجاپان کے محکمہ خارجہ کے ساتھ کنٹیکٹ میں رہتے ہوئے پاکستانیوں کی نمائندگی کی اور مسئلے شیئر کئے جس کی بدولت پاکستان میں
COVID
کی وجہ سے پھنسے لوگوں کے دوبارہ ویزے لگے اور ان کو جاپان واپس آنے میں آسانی پیدا ہو سکی اور اب تمام پاکستانی واپس جاپان آچکے ہیں تو یہ ایک کاوش تھی جو ہم نے کی اور آئندہ بھی انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔
سیدہ رضا:کورونا
(COVID-19)
کے پینڈیمک میں آج تک ایک دن بھی دنیا انٹرنیشنل کی مسلسل اشاعت نہ رکی اور آپ کا اخبار یو ایس اے کے کونے کونے میں پہنچا اور قارئین مستفید ہوتے رہے ہیں‘زاہد صاحب جب ناگہانی حالات آڑے آتے ہیں تو پھر آپ کیسے نبردآزما ہوتے ہیں؟ دوسرے لوگوں کیلئے کوئی مشورہ دیں گے؟
زاہد حسین:کورونا جب یو ایس اے میں آیا اور پھیلا تو خاصی خطرناک
SITUATION
اختیار کرگیا جیسا کہ ہم نیویارک سے اخبار شائع کرتے ہیں تو نیویارک پوری دنیا کا سب سے برا متاثرہ علاقہ وشہر تھا۔
COVID
کے حوالے سے لیکن دوسری آرگنائزیشن کی طرح ہم نے بھی اپنے سٹاف کو پروٹیکٹ کیا اور
EXPOSURE
کم کر کے کمیونٹی کو اخبار پہنچاتے رہے اور عوام الناس کو حالات وخبروں سے باخبر رکھا۔
دنیا انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کی مشترکہ کاوشوں سے اخبار ایک دن بھی چھپنے سے نہ رکا۔یہ میرے خیال میں ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
سیدہ رضا:امریکہ ہو یا پاکستان اخبار ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو جہالت کو کم کرتا ہے‘کچھ کہیں گے اس بارے میں؟
زاہد حسین:اخبار ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے عوام تک خبریں پہنچانے کا ورنہ تو حکومتیں نہیں چاہتیں کہ عوام تک خبریں و حقائق پہنچیں۔ وہ عوام کو اندھیرے میں رکھنا چاہتی ہیں لیکن آزاد اخبار اور آزادصحافت اس کا یہ بنیادی فرض ہے کہ اپنے عوام‘اپنے ریڈرز/قارئین کو سچ اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کرے۔اسی لیے ہم من گھڑت کی بجائے من وعن خبر شائع کرتے ہیں یہی وہ واحد وجہ ہے کہ ہمارے قارئین ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور ہمارا اخبار دنیا انٹرنیشنل امریکہ کے نامور صفحہ اول کے اخباروں میں شمار ہوتا ہے۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب جدید تقاضوں کے تحت آج کا اخبار اور اخباری صحافت کس نہج پر ہے؟ آپ کی رائے  میں۔
زاہد حسین:آج کل سب سے بڑا چیلنج ریڈر شپ کا ہے جو نوجوان طبقہ ہے وہ پڑھنے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ ان کو ان کے سیل فون پر سب چیز مل جاتی ہے نہ
صرف اخبار بلکہ کتاب کی ریڈرشپ بھی کم ہوئی ہے جو کہ خطرناک بات ہے مگر اخبار کی اہمیت کو بھی کم نہیں کیا جاسکتا۔اخبار ہمیشہ چھپتے رہیں گے اور اس کی اہمیت برقرار رہے گی۔
سیدہ رضا:اخبار کا مقصد باخبر کرنا‘ علم بانٹنا اور تفریح بہم پہنچانا بھی ہے‘ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ 25سال پہلے اور آج کے اخبار میں کوئی خاص تبدیلی یا فرق پڑا ہے اس حوالے سے؟
زاہد حسین:بہت فرق پڑا ہے۔پہلے اخبار اور ریڈیو ہی وہ ذریعہ تھے جو عوا م کو باخبر رکھتے تھے 24گھنٹے ٹی وی بھی لوگوں کو کم میسر تھا مگر اب جدید دور میں ٹی وی‘ انٹرنیٹ‘ یو ٹیوب اور واٹس ایپ پر
PICK UP THE BUTTON
پر آپ سب کچھ معلوم کر سکتے ہیں جس سے اخبارات کو چیلنجز کا سامنا تو ہے مگر اخبارات نے بھی اپنے آپ کو چینج کیا ہے اور وہ ڈیجیٹل وآن لائن ایڈیشنز کر رہے ہیں اور اپنے قارئین کو اخبارات آن لائن پہنچا رہے ہیں۔
سیدہ رضا:خواتین کو بطور صحافی آپ کیسے دیکھتے ہیں مطلب کہ ان میں قابلیت کا گراف کتنا پایا جاتا ہے؟
زاہد حسین:خواتین نے صحافت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے جن میں ڈاکٹر ملیحہ لوچھی جو امریکہ میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں‘میری ایڈیٹر بھی رہی ہیں۔مجھے اللہ کے فضل سے بہت اہم شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے جن میں ملیحہ لودھی‘ الطاف گوہر اور اے بی ایس جعفری ہیں۔الطاف گوہر شاید آپ کو یاد ہو گا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پریس سیکرٹری ہوا کرتے تھے‘ سیکرٹری انفارمیشن تھے اور انہوں نے ان کی کتاب لکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
خواتین آج بھی جیسے عروسہ عالم‘ صاصمہ شیرازی اور دوسری خواتین بہت اچھا کام کررہی ہیں اور صحافت میں بہت اچھے طریقے سے صحافیانہ کام انجام دے رہی ہیں۔
سیدہ رضا:امریکہ میں تمام اردو اخبارات میں خواتین کا صفحہ سب سے پہلے آپ نے متعارف کروایا جبکہ کسی اور نے اس طرف توجہ مبذول نہیں کی۔آپ کو کیسے خیال آیا اور ضرورت محسوس کی؟
زاہد حسین:خواتین ہماری آبادی کا اہم اور نصف حصہ ہیں مگر ان کو ہمیشہ اگنور کیا جاتا ہے سب طرف سے۔ حتی کہ مہذب معاشرہ جنہیں ہم ویسٹرن سوسائٹی کہتے ہیں اس میں بھی ان کی تنخواہیں عام لوگوں سے یا مردوں سے کم ہوتی ہیں اور مواقع بھی کم ملتے ہیں‘ اسی لیے ہم نے سوچا کہ ان کو اہمیت دیتے ہوئے ان کیلئے بھی ہمارے اخبار میں جگہ ہونی چاہئے تو ہم نے دنیا انٹرنیشنل میں خواتین کا صفحہ متعارف کروایا جس میں آپ کی کاوشیں بہت زیادہ ہیں اور قابل ستائش ہیں۔اللہ تعالی آپ کو مزید کامیاب کرے۔
سیدہ رضا:خواتین صحافیوں کو سوشلی امپاور کرنے میں مرد صحافیوں کا بہت اہم کردار اور مقام ہونا چاہئے یا نہیں اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
زاہد حسین:جہاں تک دیکھا جائے ہر طرف
MALE DOMINATE SOCIALY
ہے۔اگر خواتین کے کام کرنے کی جگہ پر  پروٹیکشن اور آزادی نہ ملے تو پھر ان کو کام کرنے میں دقت پیش آتی ہے تو ایڈیٹرز اور ہائی اتھارٹیز پر بڑا فرض عائد ہوتا ہے کہ انہیں عزت دی جائے اور ان کا خیال رکھا جائے اور خصوصا عزت نفس کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ ان کو بے جا پریشانیوں کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔یہ بڑا فرص بنتا ہے مرد کو لیگ پر کہ خواتین صحافیوں کی حفاظت کی جائے اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ٹی وی‘ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تو ہیں ہی ضروری مگر کچھ لوگ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
BEING A JOURNALIST
مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اخبار کے بارے میں لوگوں کی اس رائے  پر۔آپ ایسی رائے رکھنے والوں کیلئے کیسے سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح رائے رکھتے ہیں یا غلط؟ کیونکہ اخباری صحافت کا اپنا الگ ہی مقام ہے۔
زاہد حسین:جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اخبار حقائق پر مبنی خبر پہنچانے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ٹی وی وغیرہ بھی اخبارات سے اور ان کی مختلف نیوز ایجنسیز سے خبریں لیتے ہیں۔ٹی وی بنیادی ذریعہ نہیں ہے اخبار بنیادی ذریعہ ہے۔ ٹی وی سے ا یک منٹ میں خبر نشر کرنی ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد دوسری خبر جبکہ
اخبار میں سپیس اور ٹائم ہوتا ہے اور ہر انسان کبھی بھی کسی بھی وقت بیٹھ کر اخبار کو آسانی سے پڑھ سکتا ہے ٹائم کی قید نہیں ہوتی۔ اس لیے اخبار کی اہمیت ہمیشہ رہے گی  لوگوں کو چاہئے کہ اخبار پڑھیں اور اس کی سرپرستی کریں۔
سیدہ رضا:کہا جاتا ہے کہ اچھا انسان اور اچھا صحافی بہت سے تجزیوں کو خود تخلیق کرتا ہے تو کیا آپ نے بھی اس راستے کو اپنایا؟
زاہد حسین:اچھا انسان تو پتہ نہیں میں ہوں یا نہیں مگر اچھے صحافی کو حق وصداقت کی آواز ہمیشہ بلند رکھنی چاہئے اور معاشرے کی خطرناک صورتحال کی ہمیشہ نشاندہی کرنی چاہئے حق وصداقت کو پھیلانا اور برائی کو روکنا سچی اور صحیح صحافت کا اصول ہونا چاہئے۔
سیدہ رضا:دنیا انٹرنیشنل کی 25سالہ اشاعت میں کبھی مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑا اور کب؟
زاہد حسین:بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اخبار شروع کیا جاتا ہے تو اشتہارات کی بارش نہیں ہو جاتی‘شروع میں تو سب اشتہارات وغیرہ دے دیتے ہیں مگر جب اخبار چل پڑتا ہے تو پھر مارکیٹ میں کمپیٹیشن ہوتا ہے۔ہمیں بھی بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا شروع میں ایک وقت تو ایسا آیا کہ برتن اور بیگم کا زیور بھی بیچنا پڑا اخبار کا کاغذ خریدنے کیلئے مگر پھر اللہ نے سب کچھ ٹھیک کردیا۔ایک جھٹکا تو آیا جس میں ایسا لگا کہ اخبار بند ہو جائے گا مگر ہماری مسلسل محنت اور اللہ تعالی کی مدد سے ہم آگے بڑھتے رہے اور اللہ نے برکت ڈال دی اور اشتہارات ملتے رہے اور ہم نے تنخواہیں وقت پر دینی شروع کر دیں۔ہمارا واحد اخبار ہے جو ابھی بھی ٹائم پر تنخواہیں دیتا ہے اور اپنے ورکرز کو بہت احترام سے رکھا ہوا ہے‘ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کو مالی بحران سے بچانے کی ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب دنیا انٹرنیشنل کی مسلسل اشاعت کے 25سال مکمل ہونے کے بعد مزید ترقی کیلئے آپ نے کیا خواب دیکھ رکھے ہیں‘شیئر کرنا پسند کریں گے؟
زاہد حسین:خواب یہی ہے کہ اردو زبان کو زندہ رکھنے کیلئے اخبار کو گھر گھر پہنچائیں۔وطن سے محبت کا رحجان قائم کریں۔لوگوں سے یہی درخواست ہے کہ اپنے بچوں کو اردو سکھائیں اور اخبار پڑھنا سکھائیں تاکہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں۔
ملک سے اور جڑوں سے رابطہ قائم رہے اور ہم یہ کوشش بھی کررہے ہیں کہ ہم اپنی آن لائن
PRESENCE
کو مضبوط کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ٹی وی چینل بھی شروع کیا ہوا ہے‘ یو ٹیوب چینل ہے۔نیویارک سے ہمارے بھائی منظورحسین صاحب اور عبدالصمد صاحب دونوں بڑی محنت سے کمیونٹی کے پروگرامز کی کوریجز کررہے ہیں۔
ہماری یہی خواہش ہو گی کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں بھی ہماری
PRESENCE
مضبوط سے مضبوط تر ہو اور ہم آگے بڑھیں۔
سیدہ رضا:صحافت اور سیاست ایک دوسرے کے ساتھ باہم مربوط ہیں‘ آپ کا نقطہ نظر کیا ہے اس بارے میں؟
زاہد حسین:صحافی کو صحافی ہونا چاہئے اور سیاست کو سیاستدانوں کیلئے چھور دینا چاہئے۔صحافی کا کام ہے بے لاگ تجزیہ کرنا‘ تبصرہ کرنا‘ اچھائی کو اجاگر کرنا اور برائی کو پھیلنے سے روکنا اور عوام کے سامنے لے کر آنا کہ یہ قوم کیلئے نقصان کا باعث ہے اس سے دور رہا جائے۔
پاکستان میں بڑا ٹرینڈ ہے کہ صحافی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل جاتے ہیں‘سارے تو نہیں بلکہ چند ایک ایسا کرتے ہیں جو صحافت کی آڑ میں سیاست کرتے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب آپ کا موقف کیا ہے ”نیا پاکستان“ کے حوالے سے؟ اور اگر آپ کو پاکستان کا وزیراعظم بنادیا جائے؟
زاہد حسین:میں وزیراعظم میٹریل تو نہیں ہوں بلکہ ایک قلم نویس ہوں‘قلم کار ہوں جس کا کام اچھائیوں کو سامنے لانا اور دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
نیا پاکستان میں لوگ بہت پریشان ہیں نئے پاکستان کا وعدہ تو کیا گیا تھا مگر عملدرآمد ہوتا کہیں نظر نہیں آرہا۔نئے پاکستان اور پرانے پاکستان میں کوئی خاص
فرق نظر نہیں آرہا ہے۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب ہم صحافیوں کیلئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے کہ ہم اپنی زندگی میں اچھی اور پائیدار صحافت کو پھولوں کی مانند کیسے جگہ دے سکتے ہیں؟ مطلب کہ نامساعد حالات وناگہانی آفات میں رہتے ہوئے بھی اچھی ومعیاری صحافت کا دامن کیسے پکڑے رہیں؟
زاہد حسین:صحافت تو کہتے ہیں
یہ شہادت ہے الفت میں قدم رکھنا
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
صحافت ایک مشکل کام ہے اس کیلئے بہت زیادہ لگن اور قربانی درکار ہے اور اس میں اتنا پیسہ نہیں ہے۔الیکٹرانک میڈیا میں اچھی تنخواہیں ہیں مگر پرنٹ میڈیا میں اچھی تنخواہیں نہیں ہیں۔اس کے باوجود بھی لوگ اپنی ان تھک لگن کے ساتھ اس کو جاری رکھتے ہیں اور یہی ان کا فرض وذمہ داری بنتی ہے کہ حق وصدارت کی بات کریں اور یہی میرا پیغام ہے اور یہی میرا مشن بھی ہے۔میں خود بھی اس پر چلتا ہوں اور دوسروں کو بھی چلنے کیلئے کہتا ہوں۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب آپ کے بارے میں سنا ہے کہ اپنے سٹاف ممبران کو بہت شفقت کا رویہ رکھتے ہوئے اور ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں‘کیا یہ صحیح ہے؟
زاہد حسین:میرے پاس ابھی بھی ایسے دوست کام کرہے ہیں جو میرے بچوں کی طرح ہیں جن کی داڑھی مونچھیں بھی نہیں تھیں جب وہ میرے پاس آئے تھے اور 25سال سے میرے ساتھ کام کررہے ہیں۔
اس کے علاوہ تقریبا 500سے لگ بھگ لوگ میرے اخبار سے ٹرینڈ ہو کر یا تربیت یافتہ ہو کر دوسرے اخبار اور ڈویژن میں گئے ہیں۔
میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں پیار ومحبت سے دوستوں کو سکھاؤں اور ان کو اس قابل بناؤں کہ وہ اپنے لیے روزگار کما سکیں تو میں نے بہت سارے لوگوں کو ٹرینڈ کیا ہے جس کا مجھے بہت فخرہے اور آج پاکستان کا کوئی ٹی وی چینل‘اخبار یا ریڈیو ایسا نہیں ہو گا جہاں دنیا اسلام آباد یا میرا ٹرینڈ کیاہوا نہیں ہو گا۔
میرا چھوٹا اخبار ہے میں بڑاتونہیں کہوں گا۔چھوٹے اخبار نرسریز ہوتے ہیں صحافیوں کی اسی لیے تو میرے تربیت یافتہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں ان سے محبت کرتا ہوں۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب امریکہ‘جاپان اور پاکستان میں آپ کا تمام سٹاف وٹیم ممبران آپ کے ساتھ دنیا انٹرنیشنل کی ترویج واشاعت میں پیش پیش ہیں‘امریکہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ آپ کے بازو بنتے ہوئے کافی محنت کرتے دکھائی دے رہے ہیں‘ کیا کہیں گے ان کے بارے میں؟
زاہد حسین:میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری بڑی خوش قسمتی ہے کہ مجھے میرے
TALENTED
بھائیوں کا ساتھ ملا ہے۔اگر یہ لوگ ساتھ نہ ہوتے تو اس اخبار کو یہاں تک پہنچانا مجھ اکیلے کے بس کی بات نہ تھی۔جاپان میں میرے بھائی اور سینئر وائس پریذیڈنٹ طاہر حسین اور امریکہ میں ایگزیکٹو ایڈیٹر منظور حسین اور ڈپٹی منیجنگ ایڈیٹر عبدالصمد خان‘پاکستان میں سینئر وائس پریذیڈنٹ ومنیجنگ ایڈیٹر صفدر حسین اور میرے بھتیجے نیوزایڈیٹر سجاد حسین کا ساتھ انتہائی اہم ہے اور یہ سب میرے بھائی اپنی اپنی جگہ دنیا انٹرنیشنل کی ترقی اور کامیابی میں اپنا اپنا رول پلے کررہے ہیں اور میں ان کی کاوشوں پر ان کا شکر گزار ہوں۔
ان کے علاوہ ہمارے 22سال کے دیرینہ ساتھی سینئر نیوز ایڈیٹر سردار شجاعت حسین خان، سینئر کریئٹو ایڈیٹر انوار عباسی،ڈئیزائن ایڈیٹر فیضان شہباز اور آپ سیدہ رضا سینئر سٹاف کوریسپونڈنٹ وایڈیٹر لیڈیز ایڈیشن کی خدمات دنیا انٹرنیشنل کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
سیدہ رضا:زاہد صاحب ایک آخری سوال کر کے اپنے انٹرویو کا اختتام کرنا چاہوں گی کہ دنیا انٹرنیشنل کی 25سالہ اشاعت کے اہم مواقع پر مجھے اور دنیا انٹرنیشنل کی تمام ٹیم کو کوئی خاص نصیحت آموز پیغام دینا چاہیں گے؟
زاہد حسین:آپ سب کیلئے یہی پیغام ہے کہ اپنا مشن کلیئر رکھیں‘اپنی منزل کو سامنے رکھیں تو راستہ خود بخود ہموار ہوتا جائے گا۔
آپ ذہن کو کھلا رکھیں اور بے لاگ تجزیہ کریں۔تنقید بھی مثبت کریں۔بے جا ومنفی تنقید نہ کریں اور اپنے صحافیانہ ذمہ داریوں کو کسی دوسرے لالچ میں قربان نہ کریں یہی میرا مشن ہے اور یہی میرا پیغام ہے آپ سب کیلئے۔
(زاہد صاحب ہمیں انٹرویو کیلئے ٹائم دینے کا آپ کا بے حد شکریہ)
قارئین! ہماری دعا ہے کہ زاہد صاحب کی زندگی‘ صحت و تندرستی کے سائے میں دنیا انٹرنیشنل مزید کامیابیوں کی جانب گامزن رہے۔
زاہد صاحب آپ کا بہت شکریہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here