دنیا انٹرنیشنل اشاعت کے 25سال تحریر: سیدہ رضا “دنیا انٹرنیشنل

0
724
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل
razasyeda5@gmail.com
اسلام علیکم قارئین
دنیا انٹرنیشنل کی مسلسل اشاعت کے 25سال مکمل ہونے پر ہمارے بے شمار قارئین کی مبارکباد وتجاویز کے پیغامات ہمیں موصول ہو رہے ہیں۔
ہم اپنے قارئین کا دنیا انٹرنیشنل کی جانب سے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
تمام قارئین کے پیغامات کی جگہ کی قلت کی وجہ سے شامل کرنا مشکل ہے۔چند ایک شائع کئے جارہے ہیں‘باقی آئندہ۔
”قارئین کی رائے“
حاجی محمد افضل‘ واشنگٹن
میری جانب سے دنیا انٹرنیشنل اور زاہد حسین کو 25سال مکمل ہونے پر دلی مبارکباد ہو۔
میں امریکہ 1976ء میں آیا تھا جب میں یہاں آیا تو اردو کے اخبارات
PIA
کے ذریعے آیا کرتے تھے یا جب کوئی پاکستان سے آتا تو وہ اخبارات وغیرہ لے آتا تھا۔ ہم وہ دو دو مہینے رکھ کر خبریں پڑھتے تھے تو پاکستان کی یادآتی تھی۔ اس وقت گروسری سٹور پر بھی نہیں ملتے تھے۔پھر گزرتے وقت اور سالوں کے ساتھ ترقی ہوتی چلی گئی سٹورز وغیرہ کھلتے چلے گئے‘ پاکستان کی چیزیں ملنا شروع ہو گئیں میڈیا کا دور دورہ شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ دنیا انٹرنیشنل کا نیوز پیپر بھی آگیا ہے۔
جب سے میں نے راوی کباب شروع کیا اس وقت سے دنیا انٹرنیشنل کا ہمارا ساتھ ہے۔ ہمارے راوی کباب پر کسٹمر اخباربڑے شوق سے پڑھتے ہیں اور اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔اگرچہ ہر چیز اب انٹرنیٹ پر میسر ہے مگر آج بھی نیوز پیپر کی اپنی اہمیت ہے ہمارے جیسے لوگ جب تک اخبار نہ پڑھیں تشنگی رہتی ہے۔
میرا بھائی پاکستان سے آیا ہوا ہے وہ جب تک رات کو اخبار نہ پڑھ لے اس کو نیند نہیں آتی۔صبح اٹھ کر چائے کی ٹیبل پر جب تک نیوز پیپر نہ ہو پڑھ لے تو اس کا دن شروع نہیں ہوتا۔ میں اس کو دنیا نیوز پیپر لا کر دیتا ہوں تو وہ بڑے شوق سے پڑھتا ہے۔
میں فرنٹ پیج پر ہیڈ لائن‘ایڈیٹوریل پیج‘ بزنس کی نیوز اور پاکستان کی نیوز بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔اللہ اخبار کو مزید ترقی دے۔ آمین
میں زاہد حسین کو دنیا انٹرنیشنل کیلئے چند تجاویز دینا چاہتا ہوں کہ چاہئے آپ کا نیوز پیپرہو یا پھر کوئی اور ہی کیو ں نہ ہو اس میں قرآنی نسخہ نہ لکھا جائے جس سے بے ادبی ہو‘ہماری حدیثوں اور قرآنی آیات کا احترام ہونا چاہئے۔اخبار کے کارنر پر ایک چھوٹا سا نوٹ لگا دیں کہ اس کو پڑھنے کے بعد احترام سے رکھیں بے ادبی نہ کریں۔
دنیا لائبریری بنائی جائے جس میں ارد واخبار اور اردو کتابیں رکھی جائیں۔قرآنی آیات واحادیث کی قدر ہو۔
ممبر شب بنائیں‘ لوگ وہاں آئیں‘ پاکستانی کمیونٹی بچوں کو لے کر آئے‘بچے پڑھیں‘بڑے ان کو پڑھ کر سنائیں‘ وطن سے محبت ہو‘وطن کی باتیں کریں‘ کتابوں اور اخبار پر تبصرہ کریں۔ واشنگٹن میں دنیا لائبریری بنائیں جب بڑے بڑے ہسپتال بن سکتے ہیں‘مسجدیں بن سکتی ہیں تو لائبریریاں بھی بن سکتی ہیں۔
آپ یہاں دیکھیں امریکن لوگ اپنی لائبریریوں میں جاتے ہیں‘ بچوں کو بھی لے کر جاتے ہیں کچھ سیکھتے ہیں کتابوں سے‘ لٹریچر سے‘اخبارات سے اور اپنے بچوں کو علم منتقل کرتے ہیں تو اسی طرح ہماری بھی اردو ادب کی لائبریری ہونی چاہئے جو پاکستانی ورثہ کو اور ثقافت کو فروغ دے سکے اور ہم بھی آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
آخر میں میرا امریکہ میں بسنے والی تمام پاکستانی کمیونٹی کو یہ پیغام ہے کہ دنیا انٹرنیشنل نے 25سال سے اپنی ریگولر اشاعت سے کمیونٹی کی بہت خدمت کی ہے۔ وطن کی خبروں اور عالمی خبروں سے باخبر رکھا۔لوگوں کے بزنس کی پروموشن کی۔خواتین کیلئے خصوصی صفحہ کا اضافہ کیا آپ نے مشہور کالم واشنگٹن کی فضاؤں سے لکھا۔ہم وطنوں کیلئے دنیا انٹرنیشنل اخبار کسی نعمت سے کم نہیں ہے جس سے وطن کی خوشبو آتی ہے اور ہم باقاعدہ ٹائم نکال کر عینکیں لگا کر پڑھتے ہیں۔
پکھراج عباس‘ فلوریڈا
میرا نام پکھراج عباس ہے‘ میں فلوریڈا کے شہر آرلینڈو میں رہتی ہوں۔مجھے یہاں آئے 25سال ہو گئے ہیں سب سے پہلے میں دنیا انٹرنیشنل اخبار کو اس کی سلور جوبلی کے موقع پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔25سال پہلے جب میں یہاں آئی تھی تو ہر طرف انگریزی زبان کے اخبارات ہی نظر آتے تھے اور مجھے اپنی اردو زبان کی کمی بہت محسوس ہوتی تھی۔میرے گھر بھی انگریزی زبان کا اخبار ہی آتا تھا۔مجھے شروع سے ہی اخبار پڑھنے کی عادت تھی سکول کالج کے زمانے سے‘مگر امریکہ آکر مجھے اردو اخبار کی کمی محسوس ہوئی۔ایک دفعہ میں ایک پاکستانی سٹور گئی تو وہاں مجھے اردو ٹائمز اخبار نظر آیا میں بہت خوش ہوئی اور وہ اخبار گھر لے آئی۔وہ اخبار اتوار کے دن آتا تھا لیکن کافی عرصہ سے وہ اخبار بند ہو گیا ہے۔
ہم پاکستانی بہت تشنہ رہتے ہیں اردو اخبار کیلئے پھر میں نے چار سال سے دنیا انٹرنیشنل اخبار پڑھنا شروع کیا ہے مگر وہ فلوریڈا میں نہیں آتا ہے۔ مجھے خواتین کا صفحہ اور خاص طور پر سیدہ رضا کے مضامین بہت پسند ہیں جسے پڑھتے ہوئے پاکستان کا اخبار جہاں اور اخبار خواتین یاد آجاتا ہے جو ہم سہلیاں کالج کے لان میں سر جو ڑ کر فری پیریڈ میں پڑھا کرتی تھیں۔
میری چیف ایڈیٹرزاہد صاحب سے خصوصی درخواست ہے کہ یہ اخبار دنیا انٹرنیشنل فلوریڈا میں بھی آنا چاہئے۔PDF
اپنی جگہ لیکن ہاتھ میں اخبار لے کر پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔
خواتین کے صفحے کو ہاف کی بجائے
FULL
کر دیا جائے جس میں شاعری کا کارنر بھی ہو۔صفحہ کے ایک کارنر میں اوورسیز پاکستانی اپنے مسائل لکھیں اور ان کو حل کرنے کی کوئی اچھی رائے دے سکے۔
حیدرزیدی‘ ٹیکساس
میں دنیا انٹرنیشنل کا ریگولر قاری ہوں۔ دنیا اخبار کو 25سال مکمل ہونے پر سلور جوبلی کی مبارکباد۔ہر ہفتے میں اخبار کے
PDF
کا بے چینی سے انتظار کرتا ہوں کیونکہ یہاں اخبار نہیں آتا۔
زاہد صاحب سے درخواست ہے کہ یہاں پر بھی خصوصی نظر کرم کر دیجئے۔ہم ممنون ہوں گے اور اپنے اخبار کے ٹائٹل کا نام دنیا کی بجائے ”نئی دنیا انٹرنیشنل“ رکھ دیں کیونکہ آپ کا دنیا اخبار نئی دنیا کے حالات سے ہم کو باخبر رکھتا ہے۔ ارد و زبان کی شیرینی اور باوقار لہجے سے اخبار بھرپور ہے۔
تمام کالم کے انداز تحر یر دلچسپ ہیں اور فکر انگیز بھی۔
غرض یہ کہ آپ کا اخبار ہم سب پاکستانیوں کی آرزوؤں کا مرکز ہے جو کورونا جیسے ناگہانی حالات میں بھی ہماری خدمت پر مامور ہے۔
دنیا انٹرنیشنل کیلئے ڈھیروں دعائیں۔
مسزصدیقی‘ پاکستان
جب 40سال پہلے میں امریکہ آئی تھی تو اس وقت اردو کے اخبارات تقریباً ناپید ہی تھے۔پھر گزرتے وقت کے ساتھ کہیں نہ کہیں کوئی اردو اخبارات پاکستان سے لے آتا تھا۔
PIA
سے بھی اخبارات آتے تھے۔
میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے بھی دنیا انٹرنیشنل کا مطالعہ کیا اور اب پاکستان میں بھی
PDF
پڑھتی ہوں۔
اشاعت کے 25سال مکمل ہونے پر زاہد حسین صاحب اور دنیا انٹرنیشنل کو خصوصی مبارک۔
مجھے زاہد صاحب سے گزارش کرنی ہے کہ اخبار میں ایک صفحہ ایسا بنایا جائے جہاں پاکستانی کمیونٹی اپنے مسائل شیئر کریں‘ایک دوسرے کو تجاویز اور حل بھی دیں۔ اس کے علاوہ جو پاکستانی پاکستان آتے ہیں اور ا ن کو جومشکلات کا سامنا ہوتا ہے وہ اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل ایک کارنر بنا کر اس میں دیا جائے اور دنیا انٹرنیشنل کے توسط سے عمران خان کو ایک خصوصی پیغام دیں کہ ہماری پاکستانی ایمبیسی واشنگٹن میں بہت اچھا کام کر رہی ہے وہاں ایک بینک کاؤنٹر بھی بنا دیا جائے تاکہ اوورسیز پاکستانی اپنے پاکستان میں میں بینکوں کے کام امریکہ میں رہتے ہوئے ہی کرواسکیں اور بار بار پاکستان آنے کی زحمت سے بچیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here