توچیگی کے بعد اوساکا اور آئچی پریفکچرمیں ہنگامی صورتحال کے جلد خاتمے کا امکان ، نئے کیسز میں نمایاں کمی

0
415
@‘åãEƒ~ƒiƒ~‚ðƒ}ƒXƒNŽp‚Å•à‚­l‚½‚¿‚Q“úŒßŒã

تویاما(طاہرحسین سے)حکومت نے ماہ رواں کے اوائل  میں اعلان کیا تھا کہ 7 فروری سے10 صوبوں کے لئے ہنگامی حالت ایک ماہ تک بڑھا دی جائے گی ، لیکن گزشتہ شب نشرہونے والی ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق کچھ گورنر حکومت سے ہنگامی صورتحال پہلےہی ختم کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گورنرز ایسوسی ایشن آف جاپان کا ہفتہ کے روز ایک  اجلاس منعقدہوا جس میں اوساکا کے گورنر ہیروفومی یوشی مُورا نےکہا کہ وہ منگل کے روز ماہرینصحت سے ایک خصوصی ملاقات کریں گے اور ہنگامی صورتحال کو ختم کرنے کیدرخواست کرنے کیلئے تمام شرائط اور ترجیحی معیارات پورے ہوگئے تو مرکزی حکومتکو اوساکا کے لئے ہنگامی حالت منسوخ کرنے کے لئے کہا جائے گا ۔

 مرکزیحکومت سے ہنگامی صورتحال ختم کرنے کی درخواست کے لئے اوساکا کے لئےدیگرشرائط اورمعیارات میں سے ایک یہ ہے کہ پچھلے سات دنوں میں روزانہ اوسطا نئےکیسز  300 سے نیچے رہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ کے روز اوساکا صوبے میں کل 188 نئے کیس درج ہوئے اور گذشتہ ایک ہفتہ میں نئے کیسز کی تعداد اوسطا 207 رہی۔

گورنر ایسوسی ایشن آف جاپان کے ہفتہ کے روز ہونے والے اجلاس میں ، آئچی پریفکچرکے گورنر ہِیدے آکی اومورا نے بھی صوبے میں ہنگامی صورتحال ختم کرنے کے امکانکا اظہار کیا ہے ، ان کا کہنا تھا توسیع کی مدت شروع ہونے سے پہلے ہی آئچی پریفکچر میںنئے کیسز کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

اجلاس میں کیوٹو کے گورنر تھاکا توشی نِشی واکی اور  ہیوگو کے گورنر تھوشیزو ای دو سمیتدیگر صوبوں کے گورنرز نے کہا کہ ہم کسی بھی طرح ایسی حالت میں نہیں ہیں کہ ہنگامیصورتحال ختم کرنے کی درخواست کرسکیں ، ہئوگو کے گورنر کا کہنا تھا کہ ہیوگو پریفکچر میںاب بھی بڑی تعداد میں لوگ گھروں میں خود کو الگ تھلگ کر رہے ہیں یا اسپتالوں میں انکی دیکھ بھال کی جارہی ہے ، ٹوکیو ، کاناگاوا ، سائتاما اور چیبا کے گورنرز نے بھی اسبارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا کہ آیا وہ ایمرجنسی کے خاتمے کی درخواست کرسکتےہیں۔ واضح رہے مرکزی حکومت کے معیارات کے تحت ٹوکیو میں ہنگامی حالت کو ختمکرنے کیلئے ایک ہفتے کے عرصے کے دوران ایک دن میں نئے کیسز کا اندراج اوسطا 500 سے کم ہونا چاہئے ۔  جبکہ گزشتہ سات روزکے دوران اوسطا یومیہ تعداد 601.1 تھی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here