بائیڈن کا مجوزہ امیگریشن” بل لاکھوں تارکین وطن پُرامید

0
80

امریکا میں تارکین وطن کے حقوق کیلئے سرگرم کارکن ایک ایسے بل کی منظوری کی امید کر رہے ہیں جو 11 ملین باشندوں کے لیے امریکی شہریت کے حصول کی راہ ہموار کر دے گا‘تارکین وطن کوامید کی کرن نظرآنے لگی
ٹرمپ کی تارکین وطن کیخلاف پالیسی عرصہ سے احتجاج اور مظاہروں کا سبب بنی ہوئی ہے‘تارکین وطن کے حقوق کیلئے سرگرم عناصر کی طرف سے”امریکا کی امیگریشن پالیسی“میں مثبت تبدیلیوں کی کوشش جاری ہے
اگرچہ اب ڈیموکریٹس کو 100 میں سے 50 سینیٹرز کا ووٹ حاصل ہے اور نائب صدر کاملا ہیرس کا ایک فیصلہ کْن ووٹ بھی اس میں شامل ہونا ہے تاہم بل پاس ہونے کے لیے کم از کم 60 ووٹوں کی ضرورت ہوگی
واشنگٹن (نیوز ڈیسک):___امریکا میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن ایک ایسے بل کی منظوری کی امید کر رہے ہیں جو 11 ملین باشندوں کے لیے امریکی شہریت کے حصول کی راہ ہموار کر دے گا۔امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کے مجوزہ بل کی شکل میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کو ایک خوش امیدی کی کرن نظرآرہی ہے۔کیپیٹل ہل میں ڈیموکریٹک انتظامیہ ایک مجوزہ بل کی منظوری کی کوشش میں ہے۔ نئے صدر جو بائیڈن نے اپنے ابتدائی ایام میں ہی یہ مجوزہ بل پیش کر دیا جس کی منظوری 11 ملین انسانوں کے لیے امریکی شہریت کی حصول کا سبب بن سکتی ہے۔گزشتہ ہفتے نیشنل گروپس نے، جن میں یونائیٹڈ ڈریم اور یونائیٹڈ فارم ورکرز فاؤنڈیشن شامل ہیں، ملٹی ملین ڈالر کی مہم شروع کی تھی۔ اس مہم کا آغاز فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا اشتہارات سے ہوا ہے اور اس کا مقصد قانون دانوں اور با اثر حلقوں تک پہنچنا ہے۔ٹرمپ کی تارکین وطن کے خلاف پالیسی ایک عرصے سے احتجاج اور مظاہروں کا سبب بنی ہوئی ہے۔اس مہم میں شامل پہلی ویڈیو میں ایک نوجوان خاتون اعلان کرتی سنائی دیتی ہیں،ہم اپنے گھر میں ہیں۔ ویڈیو میں تارکین وطن افراد کو صفائی اور صحت جیسے شعبوں میں ضروری ملازمتوں پر فائز دکھایا گیا ہے۔ یہ افراد مزید کہتے سنائی دیتے ہیں، ہم یہ دیکھ بھال کا کام کر رہے، اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ہمارا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم عناصر کی طرف سے”امریکا کی امیگریشن پالیسی“میں مثبت تبدیلیوں کی کوشش ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔یہ معاملہ امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کی تقسیم کا سبب بننے والے اہم اور انتہائی شدید نوعیت کے معاملات میں سے ایک ہے۔اگرچہ اب ڈیموکریٹس کو 100 میں سے 50 سینیٹرز کا ووٹ حاصل ہے اور نائب صدر کاملا ہیرس کا ایک فیصلہ کْن ووٹ بھی اس میں شامل ہونا ہے تاہم بل پاس ہونے کے لیے کم از کم 60 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔دوسری جانب مخالفین نے خود اپنی سوشل میڈیا مہم شروع کرنے اور اس کے لیے ٹی وی اور ریڈیو پر اشتہارات کا سہارا لینے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امیگریشن پالیسی کے سلسلے میں اور اپنی مخالفت جاری رکھتے ہوئے کانگریس کے اراکین کو خط لکھیں گے اور ان سے ورچوئل ملاقات کریں گے۔لیکن بل کو پاس کروانے کے لیے مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نئی انتظامیہ کے جوش و ولولے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور امریکا میں لوگوں کو شہریت حاصل کرنے کا موقع دیے جانے کی ہر ممکن حمایت کریں گے۔وائٹ ہاؤس کے سامنے تارکین وطن کا احتجاج۔ پیرو میں جنم لینے والی لو ریلا پرائیلی کمیونٹی چینج مہم کی شریک صدر ہیں۔ وہ کہتی ہیں،یہ تحریک پختہ ہوگئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس مہم سے وابستہ عناصر تجربہ کار اور زیادہ متنوع ہو گئے ہیں۔پرائیلی، جو اب 28 سال کی ہیں، 10 سال کی عمر میں امریکا آ گئی تھیں۔ انہیں امریکا ایک حادثے میں ٹانگ کھونے کے بعد بہتر علاج معالجہ حاصل کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔ وہ نوعمری میں ہی ایک تارکین وطن کارکن بن گئی تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here