آزادکشمیر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ، راولاکوٹ میں آٹے کی سپلائی روک دی گئی

0
139

راولاکوٹ :___ آزادکشمیر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف یکے بعد دیگرے دو مرتبہ ہونے والی شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کا”صلہ” صدر آزادکشمیر مسعود خان، ممبرپاکستان قومی اسمبلی نورین ابراہیم ، ممبران آزادکشمیر اسمبلی حسن ابراہیم ،صغیر چغتائی ،چیرمین انوسٹمنٹ بورڈ پنجاب تنویر الیاس چغتائی کے آبائی علاقے راولاکوٹ میں لوگ آٹے کو ترسنے کو مجبور آزادکشمیر میں آٹے کی سپلائی ایک عشرے کے لیے روک دی گئی ۔آٹے کا بندش کا خوف ناک بحران پیدا ہو چلا صارفین درآمد شدہ میدے والا آٹا کھانے کے باعث بیماریوں میں مبتلا ہونا شروع ہوگئے ۔آزادکشمیر میں ملز مالکان نے وزیر خوراک اور سیکرٹری خوراک کے ساتھ مل کر گزشتہ دنوں آٹے کی قیمتوں میں کیے گئے ناجائز اضافے کے خلاف تاریخی ہڑتال کا خوفناک انتقام لیا ہے ۔اولاکوٹ جہاں آٹے کی ضرورت 500 ٹن ماہانہ ہے ۔لیکن نئے سال کا پہلا تحفہ نصف کٹوتی کرکے دو سو ستر ٹن ماہانہ کے طور پر دی گئی ۔ جو دوسرے عشرے ہی ختم ہوگئی۔ جس کے باعث بڑا غذائی بحران پیداہوگیا پاکستان سے آنے والا آٹا انتہائی مضر صحت ہے جس سے پسوائی کے دوران تمام اجزاء نکال لیے جاتے ہیں ۔ میدہ طرز کا یہ آٹا راولاکوٹ کا پانی ناقص اور غیر میعاری ہونے کے باعث لوگوں کے لیے ہضم کرنا اس آٹے کی روٹی کا مشکل تر ہے تو دوسری طرف یہ آٹا فی بیگ ۴ سو سے ۵ سو روپے تک مہنگا ہے ۔جو عام آدمی خرید نہیں سکتا واضح رہے کہ آزادکشمیر میں گند م کی خریداری کا سالانہ ٹھیکہ ہوتا ہے۔ جو مارچ میں جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں گندم بحران کی وجہ سے آزادکشمیر کے فلور ملز مالکان نے پاکستان میں جا کر مہنگے داموں یہ گندم فروخت کی اور اب مہنگی اور ناکارہ گندم خرید کر لوگوں کو دی جارہی تھی جس کے رد عمل میں پونچھ کے علاقے بنجونسہ چھوٹا گلہ سے عوامی تحریک چلی جس نے پورے پونچھ ڈویژن سمیت کوٹلی کے علاقے سہنسہ تک خوفناک روپ دھارا لیکن سیاسی لیڈر شپ کی عدم دلچسپی کے باعث یہ تحریک بری طرح ناکام ہوئی حتی کہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے بجائے اس کے کہ ہڑتال کا نوٹس لیتے یہ موقف اپنایا کہ آٹے کی قیمتیں کم کروانے کا مطالبہ کرنے والے کون ہیں اور ساتھ ہی راولاکوٹ بیٹھ کر انتظامیہ کو ہڑتال کرنے والوں کو سختی سے Crash کرنے کا حکم دیا لیکن اس ہڑتال کا سامنہ نہ کرسکے ۔اور رات راولاکوٹ قیام کے بجائے اندھیر ے میں باغ چلے گئے اور جب ہڑتال ایک کے بجائے دو دن ہو چلی تو محکمہ خوراک کی وزارت اور بیورکریسی کے بہکاوے میں آکر اس ہڑتال پر کوئی توجہ نہ دی جس طرح ماضی کے حکمران نے Trap ہوکر سبسڈی ختم کی تھی اسی طرح فاروق حیدر نے بھی ملز مالکان اور محکمہ خوراک کو مکمل تخفظ دیا ان سے یہ پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا کہ آزادکشمیر کی گندم کا کوٹہ انہوںنے پاکستان جا کر کیوں فروخت کیا اور اب جو مہنگی گندم اس کوٹے کی جگہ واپس خریدی اس کا معیار ناقص کیوں اور اضافی قیمت غریب صارفین پر کس لیے ڈالی گئی وزیر اعظم کی اس خاموشی اور مصلحت پسندی سے فائدہ اٹھا کر ہڑتا ل کے محض ایک ہفتہ بعد سپلائی روک دی گئی ہے۔ شدید غذائی بحران پیدا ہو چلا ہے ۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here