کوئنز اور فلشنگ کی کمیونٹی اپنے لوگوں کو اعلی عہدوں پر لانے کیلئے ووٹ کی طاقت کا استعمال کریں “ڈاؤ ین

0
400

ڈسٹرکٹ 20سٹی کونسل کی سیٹ کا انتخاب جیت کر ایشیائی امریکیوں بشمول پاکستانیوں لاطینی امریکیوں اور ہر رنگ ونسل پر مبنی کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا‘کوئنز اور فلشنگ کی کمیونٹی کو چاہئے وہ اپنے لوگوں کو اعلی عہدوں پر لانے کیلئے ووٹ کی طاقت کا استعمال کریں
میری انتخابی مہم کی اولین ترجیحات میں پبلک سیفٹی، ایجوکیشن، روز گارکا تحفظ، افورڈ ایبل ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹیشن شامل ہوں گے۔ان مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں سٹی کونسل میں ایک نمائندے کی ضرورت ہے جو بلا خوف اپنا کردار ادا کر سکے‘ایشین امریکن مسٹر ڈاؤ ین کا خطاب
کوئنز‘فلشنگ/نیویارک(منظور حسین سے)فلشنگ کوئنز سے پاکستانیوں کے حمایت یافتہ مضبوط امیدوار اور کوئنزبارو کے سابقہ امیدوار ایشین امریکن مسٹر ڈاؤین کا کہنا ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ 20سٹی کونسل کی کانٹے دار سیٹ کا انتخاب جیت کر ایشیائی امریکیوں بشمول پاکستانیوں لاطینی امریکیوں اور ہر رنگ ونسل پر مبنی کمیونٹی کے جائز مسائل کے حل کیلئے سٹی کونسل میں جدوجہد جاری رکھیں گے-ان کا کہنا تھا کہ سٹی کونسل نے چھوٹے تاجروں کو ہمیشہ نظرانداز کیا‘لوگوں کے مسائل ویسے کے ویسے ہیں -کوئنز اورفلشنگ کی کمیونٹی کو چاہئے کہ اپنے لوگوں کی پشت پناہی کریں اور انہیں اعلی عہدوں پر لانے کیلئے ووٹ کی طاقت کا استعمال کریں تاکہ ان کے دیرینہ مسائل کا حل ہو -ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ دنوں نیویارک سٹی ٹرانسپورٹیشن اور نیو یارک میئر کے خلاف فلشنگ مین سٹریٹ میں شروع کئے جانے والے نئے بس روٹ کے آعاز اور اس بس روٹ سے مقامی تاجر برادری اور لوگوں کو درپیش آنے والے ٹریفک کے مسائل کے پیش نظر ایک ریلی سے خطاب اور پریس کانفرنس کے دوران کیا-ان کا کہنا تھا کہ فلشنگ میں سٹریٹ پر بس روٹ کے آغازمیں مقامی قانون کی دھجیاں آڑائی گئیں اور لوگوں کو دھوکے میں رکھ کر پٹیشنز پر سائن کروائے گئے جسے اعلی عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے -مسٹر ڈاؤ ین کی ریلی میں چائنیز امریکن کمیونٹی کے دیگر مقامی رہنماؤں نے بھی محکمہ ٹرانسپورٹیشن اور نیویارک کے میئر کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف احتجاج کیا- نیویارک کے معروف بزنس مین،کوئنز بارو پریذیڈنٹ کے سابق امیدوار اور چائنیز نژاد امریکن ڈاؤ ین نے کوئنز کے علاقے فلشنگ کے سٹی کونسل ڈسٹرکٹ 20سے سٹی کونسل کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ڈاؤ ین نے یہ اعلان فلشنگ میں واقع کوینز پبلک لائبریری کے سیڑھیوں میں اپنے سپورٹرز کے ساتھ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پاکستانی امریکن امتیاز انور، خورشید الحق، سید ارمغان شاہ سمیت دیگر کمیونٹیز کے سپورٹرز بھی موجو دتھے۔ڈاؤ ین کا کہناہے کہ ڈسٹرکٹ 20کی سٹی کونسل میں نمائندگی کے لئے وہ موزوں ترین امیدوار ہیں۔ڈاؤن ین کا مزید کہنا تھا کہ فلشنگ کا علاقہ نہ صرف کوئنز بلکہ نیویارک سٹی میں ایک ہارٹ بیٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ مختلف رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز کا ایک ڈائیورس ڈسٹرکٹ ہے اور ہم سب کو ملکر ترقی کو یقینی بنانا ہے اور کورونا وائرس وبا جیسے وباء کے چیلنج سے بھی نبرد آزما ہونا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں جب چائنا سے امریکہ آیااور فلشنگ، کوئنز میں آکر آباد ہوا۔ ہم فلشنگ لائبریری، اپنا لائبریری کارڈ بنوانے آتے تھے تاکہ امریکہ جسے اب ہم اپنا گھر کہتے ہیں، کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکیں -تقریب میں موجود ڈاؤ ین کے سپورٹرز نے انہیں اپنی مکمل سپورٹ کا یقین دلایا اور ان کے حق میں نعرہ بازی بھی کی۔ ڈاؤین نے کہا کہ میری انتخابی مہم کی اولین ترجیحات میں پبلک سیفٹی، ایجوکیشن، روز گارکا تحفظ، افورڈ ایبل ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹیشن شامل ہوں گے۔ان مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں سٹی کونسل میں ایک نمائندے کی ضرورت ہے جو بلا خوف اپنا کردار ادا کر سکے اور یہ نمائندگی اور قیادت میں ڈسٹرکٹ 20کے عوام کو فراہم کرونگا۔ڈاؤ ین کا کہنا تھا کہ میں سٹی کونسل کا الیکشن اس لئے بھی لڑ رہا ہوں کہ اب ایک نئی تبدیلی کی ضرورت ہے۔میں فلشنگ کے عوام سے کہوں گا کہ آئیں میرے ساتھ مل کر کام کریں، ہم سب اجتماعی کاوشوں سے اپنے مقاصد کے حصول کو یقینی بنائیں گے۔اس موقع پر ڈاؤ ین نے دیگر کمیونٹی لیڈرز کے ساتھ مل کر فلشنگ کی مین شاہراہ پر 24 گھنٹے کیلئے بس لین کے فیصلے کے خلاف احتجاج میں بھی حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بس لین کو ورکنگ ڈیز اور محدود وقت کے لئے بس لین مختص کیا جائے بصورت دیگر اس علاقے کے کاروبار جو کہ پہلے پہ کورونا کی وجہ سے شدید متاثر ہیں، مزید متاثر ہوں گے۔ڈسٹرکٹ 20سمیت نیویارک سٹی کونسل کی 30 سے زائد نشستوں پر 22جون کو پرائمری الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔فلشنگ، کوینز کے علاقے میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ایک بڑی تعدادآباد ہے اور ڈاؤ ین کا کہنا ہے کہ وہ سٹی کونسل میں ان کی موثرآواز بنیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here