انڈونیشیا میں خوفناک زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی، لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری

0
63

جکارتہ: انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں جمعے کے روز آنے والے 6.2 شدت کے زلزلے سے منہدم ہونے والی عمارتوں میں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 56 ہوگئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے  سولاویسی میں امدادی کاموں کے دوران عمارتوں کے ملبے سے مزید 8 لاشیں ملنے کے بعد جمعے کے روز آنے والے 6.2 شدت کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 56 ہوگئی ہے۔خوفناک زلزلے میں 820 افراد شدید زخمی ہوئے تھے جب کہ معمولی زخمیوں کی تعداد 2 ہزار کے قریب تھی جب کہ 15 ہزار افراد بے گھر ہوگئے اور تباہ ہونے والی عمارتوں میں ایک اسپتال اور ایک شاپنگ مال بھی شامل ہے۔خیال رہے کہ جمعے کے روز کے آنے والے زلزلے کا مرکز مازن شہر سے شمال مشرق میں 6 کلومیٹر کی دوری پر تھا  اس کی گہرائی 10کلومیٹر تھی۔ زلزلے سے ایک لاکھ 10 ہزار کے آبادی والے شہر میں ہر طرف تباہی پھیل گئی تھی۔خوفناک زلزلے میں درجنوں رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جس میں سیکڑوں افراد دب گئے۔ صرف جمعے کے روز ہی امدادی کاموں کے دوران ریسکیو اداروں نے 34 لاشیں نکالی ہیں جب کہ 600 سے زائد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا تھا۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ 600 سے زائد زخمیوں میں سے 18 کی ہلاکت نازک ہے جب کہ 200 سے زائد زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے اور باقی کو معمولی طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

Indonesia earth quake buildings collaspse 1

سب سے زیادہ ہلاکتیں ماموجو کے علاقے میں ہوئی جہاں 26 اموات ہوئیں جب کہ دیگر ہلاکتیں سولاویسی کے مغربی علاقوں میں ہوئی ہیں۔ کئی سڑکیں اور دو پلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

Indonesia earth quake buildings collaspse

محکمہ موسمیات نے زلزلے کے فوری بعد سونامی کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا جس کے بعد ہزاروں لوگوں کو پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے جب کہ متاثرہ افراد کے لیے ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور بلاجواز گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے جب کہ ماہی گیروں کو سمندر سے پہلے واپس بلا لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ انڈونیشیا کے اسی جزیرے سولاویسی میں 2 اکتوبر 2018 میں بھی زلزلہ اور خوفناک سونامی میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here