انسانیت کی خدمت کی علمبردار ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی کاوشیں”(قسط 04)تحریر: سیدہ رضا:

0
423


”یوں چلیں گے جیسے چلتا ہے زندگی کا دھارا“
”انسانیت کی خدمت کی علمبردار ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی کاوشیں“
تحریر: سیدہ رضا: دنیا انٹرنیشنل
razasyeda5@gmail.com
اسلام علیکم قارئین
میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے  اور میں ہوں ہم وطنوں کی آواز جو بظاہر تو امریکہ میں آباد مگر ہردم وہرپل اپنے پاکستانیوں اور ان کی قابل قدر خدمات کو نمایاں اور متعارف کروانے میں ہمہ تن مصروف اور پیش قدم بھی۔
سانس اور انسانی زندگی ایک ڈور سے بندھے ہیں اگر سانس چل رہا ہے تو انسان کی زندگی چل رہی ہے اور اگر سانس رک جائے توزندگی رک سکتی ہے۔
قارئین!ہمارے اور آپ کے پاس اور ارد گرد بے شمار واقعات‘مشاہدات اور داستانیں رقم ہوئی ہوں گی۔ذرا سوچئے ہم میں سے بہت سوں کے پاس اختیارات اور وسائل نہ ہوتے ہوئے اور بہت سوں کے پاس ہوتے ہوئے بھی زندگی میں کئی بار ایسے موڑ آئے ہوں گے جب ہم چاہتے ہوئے اپنے پیاروں کو زندگی سے دور جاتے ہوئے‘دیکھتے ہوئے اور ان کیلئے کچھ کرنے سے قاصر ہوں گے‘بے بس اور مجبور ہوئے ہوں گے اور شاید وہ ہماری زندگی کا ایسا لمحہ ہوگا جب ہم قدرت کے آگے بے بس بھی ہوئے ہوں گے۔
مگر کیا وہ ایک لمحہ ہمیں اس وقت کو باور نہیں کراتا کہ اگر ہم اپنے پیاروں کیلئے اس لمحہ زندگی سے لڑ نہیں سکے تو شاید آج ہم اس مقام پر ہوں کہ کسی اور کی زندگی روشنی کی طرف بڑھانے میں اس کیلئے معاون و مددگار بن سکتے ہوں‘آگے آئیے آج وہ وقت ہے کہ کسی ضرورت مند کو ہماری‘آپ کی اور ہم سب کی ضرورت ہے وزٹ کیجئے۔
www.transparenthands.org
جہاں بے شمار ہمارے پاکستانی مستحق ونادار مریض ہماری مدد کے طلب گار ملیں گے۔
قارئین!دنیا انٹرنیشنل کے 18ستمبر‘16اکتوبر اور 27نومبر 2020ء کی خصوصی اشاعت میں بالترتیب 7سالہ حسینہ بتول کی کارڈیک سرجری‘76سالہ رفیق شاہ کی نیوروسرجری اور 52سالہ نیامت بی بی کی

GOITOR

جنرل سرجری کی تفصیلات پڑھ چکے ہیں۔
آج ہم آپ سے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی کاوشوں کے تحت 12سالہ محمد فہیم کی اوپن ہارٹ سرجری کی تفصیلات شیئر کررہے ہیں۔اس سے پہلے اپنے نئے پڑھنے والوں کو ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کا مختصر تعارف کرواتی چلوں ٹرانسپیرنٹ ہینڈز ایک ایسا نان پرافٹ ادارہ ہے جو پاکستان میں غریب ومستحق افراد کی مفت سرجریز‘پروسیجرز اور ٹریٹمنٹس کروانے میں شب وروز مصروف عمل ہے۔ میڈیکل کیمپس کے علاوہ اب ٹیلی ہیلتھ پراجیکٹ کا قیام بھی خوش آئند عمل ہے۔
ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی فاؤنڈر اورCEO رمیزہ معین صاحبہ نے 2014ء میں ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے نام سے پاکستان وامریکہ میں ایک نان پرافٹ آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی اور ہم سب پاکستانیوں کو بھی اس نیک کاوش میں شریک ہونے کے مواقع فراہم کئے۔
ٹرانسپیرنٹ ہینڈز نہ صرف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے بلکہ امریکہ میں بھی رجسٹرڈ ہے۔

ادارہ کی بانی اورچیف ایگزیکٹیو رمیزہ معین صدرپاکستان ممنون حسین سے تمغہ ء امتیاز حاصل کرنے کے علاوہ ویمن چیمبرز آف کامرس‘پاکستان سافٹ ویئر ہاؤس ایسوسی ایشن ایوارڈ اور سوشل میڈیا ایمپاورمنٹ ایوارڈ جودہلی میں ساؤتھ ایشین ممالک کے درمیان ہوا تھا اس کی بھی حقدار ٹھہرائی گئیں۔ رواں سال کے اوائل جنوری میں

CSR

2020

ایوارڈ سے بھی نوازی گئیں جو ان کی انسانیت کی اعلی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

قارئین 30جون 2020 ء کو ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے تعاون سے قصور‘ پاکستان کے 12سالہ محمد فہیم کی اوپن ہارٹ سرجری معروف پیڈیا ٹرک کارڈیک سرجن سید سلمان احمد شاہ نے اتفاق ہسپتال لاہور میں کی۔ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کی تمام ٹیم مریض کی کیس ہسٹری لینے سے سرجری کے آخری مراحل تک ساتھ رہی۔ امریکہ سے دنیا انٹرنیشنل وٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے تعاون سے ہماری خصوصی ٹیلی فونک گفتگو پاکستان میں مریض محمد فہیم اور ان کے بڑے بھائی اور معروف پیڈیاٹرک کارڈیک سرجن سید سلمان احمد شاہ سے ہوئی وہ آپ قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔آئیے پڑھتے ہیں۔
محمد فہیم‘قصور‘پاکستان بارہ سالہ  محمد فہیم جو علی الصبح ہمارے ٹیلی فون کال پر بے حد ہشاش بشاش نظر آئے۔


اسلام علیکم محمد فہیم۔ آپ کی طبیعت اب کیسی ہے؟
وعلیکم السلام‘ میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔
فہیم یہ بتائیے کہ آپ روزانہ جلدی اٹھ جاتے ہیں یا آج ہمارے فون پر بات کرنے کیلئے جلدی اٹھے ہیں؟
نہیں میں روزانہ ہی جلدی اٹھتا ہوں‘اورآپریشن کے بعد میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں۔پہلے مجھے سانس لینے میں تنگی ہوتی تھی اور بھاگنے کھیلنے میں بھی سانس پھول جاتا تھا مگر اب بالکل ایسے نہیں ہے مجھے آپریشن کے بعد اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
محمد فہیم کی ماشاء اللہ زندگی سے بھرپور آواز اس بات کی عکاس تھی کہ وہ صحت مند جسم اور دل کے ساتھ آگے بڑھنے کی امنگ رکھتے ہوئے پرامید ہے جس کا سہرا ڈاکٹر سید سلمان احمد شاہ اور ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے سر ہے۔ محمد فہیم کے بڑے بھائی عثمان نے فہیم کی آپریشن سے پہلے کی کنڈیشن بتائی کہ اس کے دل میں بچپن سے سوراخ تھا اور اب دو‘تین سالوں سے وہ زیادہ تکلیف کا باعث بن رہا تھا مگر ہم لوگ غریب ہیں‘ڈاکٹروں کو دکھایا تو ضرور مگر آپریشن کا خرچہ برداشت کرنا ہماری پہنچ سے باہر تھا‘پھر کسی نے ہمیں ٹرانسپیرنٹ ہینڈز ادارے کے بارے میں بتایا۔ہمارے رابطہ کرنے پر لاہور کے اتفاق ہسپتال میں ڈاکٹر سلمان نے ہمارے بھائی کی جون 2020ء  میں اوپن ہارٹ سرجری کی تھی ۔ہسپتال میں رہنے سے لے کر آپریشن کا خرچہ‘دوائیاں علاج سب کچھٹرانسپیرنٹ ہینڈز ادارے نے کیا ہمارا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا۔ انہوں نے ہمارا بہت خیال رکھا اور سارا عملہ اور ڈاکٹر بہت اچھے تھے۔
ہماری دعا ہے کہ جنہوں نے علاج میں مدد کی ٹرانسپیرنٹ ہینڈز  ادارہ ان کی ٹیم اور ڈاکٹر کو اللہ ہمیشہ خوش رکھے۔


ڈاکٹر سید سلمان احمد شاہ پیڈیا ٹرک کارڈیک سرجن
قارئین! ڈاکٹر سید سلمان احمد شاہ کا مختصر تعارف کرواتی چلوں۔12سالہ محمد فہیم کی اوپن ہارٹ سرجری کرنے والے معروف کارڈیک سرجن سید سلمان احمد شاہ لاہور کے مشہور چلڈرن ہسپتال میں اپنے فرائض منصبی کے علاوہ پاکستان چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ایڈوائزری بورڈ کے ممبر بھی ہیں۔
آپ نے 1996ء میں لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے گریجویٹ ہونے کے بعد امریکہ میں انڈیانا یونیورسٹی سے جنرل سرجری کی اس کے بعد

UNM

اور

VANDERBILT UNIVERSITY

سے

CARDIOTHORACIC RESIDENCY

اور بچوں کی کارڈیک سرجری میں ٹریننگ لی۔
EMORY UNIVERSITY

سے پیڈیا ٹرک کارڈیک سرجری میں

FURTHER TRAINING

لینے کے بعد وہ واپس 2009 ء میں پاکستان آگئے۔
ٹرانسپیرنٹ ہینڈز کے ساتھ سرجریز کے حوالے سے 2015ء سے منسلک ہیں۔

ڈاکٹر سلمان نے اپنی بے انتہا مصروفیات سے خصوصی وقت نکال کر محمد فہیم کی سرجری کے بارے میں ہمیں تفصیلات فراہم کیں جس کے ہم شکر گزار ہیں۔گفتگو آپ قارئین کی نذر ہے۔

سیدہ رضا:اسلام علیکم۔
ڈاکٹر سلمان:وعلیکم السلام۔
سیدہ رضا:ڈاکٹرسلمان جون 2020ء میں آپ نے 12سالہ محمد فہیم کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کی کچھ اس بارے میں بتائیے کہ جب یہ بچہ آپ کے پاس آیا تو اس وقت کیا کنڈیشن تھی‘ بیماری کی نوعیت کیا تھی؟ ہمارے قارئین کو آسان فہم زبان میں بتائیے؟
ڈاکٹر سلمان:محمد فہیم ٹرانسپیرنٹ ہینڈزکے ریفرنس سے میرے پاس آیا تھا اس کے دل میں سوراخ تھا جو کہ بچپن سے تھا‘ شروع میں تو اس کو اتنا مسئلہ نہیں مگر اب اس کو زیادہ پرابلم ہونا شروع ہو گئی تھی جیسے علامات میں اس کو سانس کا مسئلہ ہوتا تھا‘جیسے کھیلنے کودنے بھاگنے اور نارمل ایکٹوٹیز میں بھی اس کا سانس تیز ہو جاتا‘ سانس چڑھنے لگتا‘ پھیپھڑوں پر بوجھ بڑھنا شروع ہو گیا تھا‘ دل تیز تیز دھڑکتا اور دل کا سائز بڑا ہو گیا تھا‘ تھکان وغیرہ شروع ہو جاتی‘ دل کا وال بہت خراب ہو چکا تھا۔
فہیم کا شمار بھی بدقسمتی سے ان بچوں میں تھا جن کے دل میں بچپن سے سوراخ تھا اور پاکستانی‘انڈین وجاپانی لوگوں میں کچھ سوراخ ایسے ہوتے ہیں جو کہ وال کے بالکل نیچے ہوتے ہیں جو پیڈیاٹرک وال ہوتا ہے اس کے بالکل نیچے سوراخ ہوتا ہے اور وال کی ایک لیف لیٹ یعنی پنکھڑی ہوتی ہے وہ اس سوراخ کے اندر پھنستی ہے تو اس سے سوراخ کا منہ آدھا بند ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بچے کو سوراخ سے ہونے والے نقصان جیسے پھیپھڑوں کا پریشر بڑھنا اور پھیپھڑوں سے خون زیادہ جانا وہ چیز نہیں ہوتی اور بچہ بڑا ہو جاتا ہے یعنی کسی بھی قسم کی تکلیف جیسے سانس کا مسئلہ کے بغیر اس کی گروتھ ہوتی رہتی ہے۔
لیکن وہ وال اللہ نے اس لئے نہیں بنایا کہ وہ سوراخ کے اندر گھس جائے‘وہ وال تباہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔فہیم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جب فہیم ہمارے پاس آیا تو اس کا وال بری طرح تباہ  ہو چکا تھا۔ بیماری کی نوعیت میں اگر شروع میں بچہ ہمارے پاس آجائے تو صرف سوراخ کو اگر بند کر دیا جائے تو اس کے نیچے کا وال بالکل ٹھیک رہتا ہے لیکن فہیم جب ہم تک پہنچا تو اس کا وال اتنا خراب ہو گیا تھا کہ اس کو ریپئر کرنے کی ہم نے کوشش کی مگر وہ نہ ہو سکا تو پھر اس کو تبدیل  کرنا پڑا۔

سیدہ رضا:ڈاکٹر سلمان آفٹر سرجری اب فہیم کیسا ہے‘ 6 ماہ گزرنے کے بعد؟
ڈاکٹر سلمان:اب ماشاء اللہ وہ بہتری کی طرف جارہا ہے‘ابھی

MEDICATIONS

پر رہے گا‘مجھے ریگولر چیک اپ کرواتا رہتا ہے۔
سیدہ رضا:آپ کو فہیم کی سرجری کرنے میں کتنا وقت لگا تھا؟
ڈاکٹر سلمان:تقریبا تین سے چار گھنٹے۔
سیدہ رضا:زیادہ مرض کن میں پایا جاتا ہے عورتوں میں یا مردوں میں‘ مطلب بچوں میں دیکھیں تو لڑکوں اور لڑکیوں میں کس میں تناسب زیادہ ہے۔
ڈاکٹر سلمان:

OVER ALL

دیکھا جائے تو برابر ہی ہے‘طبقاتی طور پر تو اتنا فرق نہیں ہے۔غریب لوگوں میں زیادہ یوں ہوتا ہے کہ ماؤں کو پریگننسی میں اچھی خوراک واچھی کیئر نہ ملنے پر شک یہ ہی ہے کہ شرح زیادہ ہے۔
سیدہ رضا:ڈاکٹر سلمان اگر اب بھی فہیم علاج کیلئے آپ تک نہ پہنچ پاتا تو اس کو کیا خطرات ہو سکتے تھے؟
ڈاکٹر سلمان:اس کا ہارٹ فیلئر ہو جانا تھا۔بڑھتے ہوئے وقت کے ساتھ پیچیدگیاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اگر ہم وال تبدیل کر بھی دیں تو دل اتنا ڈیمیج ہو چکا ہوتا ہے کہ اس کے پھٹے صحیح کام نہیں کر سکتے پھر آپریشن کا رسک بھی بڑھ جاتا ہے ایک عام بیماری پھر پیچیدہ بن جاتی ہے۔
سیدہ رضا:ڈاکٹر سلمان یہ بیماری قدرتی ہوتی ہے یا پھر موروثی یا کوئی خاص وجوہات ہوتی ہیں؟

ڈاکٹر سلمان:قدرتی ہوتی ہیں زیادہ تر اور جن میں ہو ان کے آنے والے بچوں میں دس فیصد ہو سکتا ہے چانس ہونے کا۔
سیدہ رضا:یہ بیماری کیا قابل علاج ہے ہر سٹیج پر؟
ڈاکٹر سلمان:اگر بروقت ڈاکٹر سے رابطہ کرلیا جائے تو قابل علاج ہے۔
سیدہ رضا:پاکستان میں اس نوعیت کے اندازا ًکتنے مریض ہیں اور کارڈیک سرجن کتنے ہو ں گے اندازاً؟
ڈاکٹر سلمان:اندازاً اگر صرف چلڈرن ہسپتال کا ڈیٹا دیکھا جائے تو ہماری سرجیکل ویٹنگ لسٹ 15ہزار مریضوں سے زیادہ ہے۔
انفینٹس کارڈیک سرجری کیلئے بلوچستان کے پی کے‘آزاد کشمیر اور گلگت ہزارہ سے مریض لاہور آ رہے ہیں۔1300سے 1400 آپریشن ہم سال کے کرتے ہیں جبکہ چلڈرن ہسپتال میں ہم چار پیڈیا ٹرک کارڈیک سرجن ہیں۔
سیدہ رضا:ڈاکٹر سلمان ایک بار سرجری ہو جانے کے بعد وال میںسوراخ  ہونے کے دوبارہ چانسز تو نہیں ہوتے۔
ڈاکٹر سلمان:ایک بار اگر وال بند کر دیا جائے تو اس میں چانس کم ہوتا ہے دوبارہ ہونے کا اگر اس میں کوئی انفیکشن وغیرہ نہ ہو۔
جن کے وال ہممرمت کر دیتے ہیں ان میں چانس ہو سکتا ہے مگر ایک بار تبدیل ہو جائے تو پھر چانس نہیں ہوتا۔

سیدہ رضا:ڈاکٹر سلمان میرے اور”دنیا انٹرنیشنل“کی وساطت سے اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
ڈاکٹر سلمان:میرا کمیونٹی کو یہ ہی پیغام ہے کہ جیسے ٹرانسپیرنٹ ہینڈز غریب لوگوں کی مدد کررہی ہے اور علا ج معالجہ میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے شفاف طریقے سے تو بڑھ چڑھ کر اس کا ساتھ دیں اور میں تو چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن کے ساتھ کیونکہ شروع سے ہی انوالوڈ رہا ہوں اور اس آرگنائزیشن کے اندر جب یہ بنائی گئی تھی تو ہم نے مقصد یہ ہی رکھا تھا کہ ہر ایک کو علاج معیاری فراہم کیا جائے تو وہ کرنے کیلئے چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا ہسپتال بنایا جائے جو DEDICATED

ہو ان بچوں کیلئے جن کو دل کی پیدائشی بیماریاں ہیں تو ہمارا منصوبہ زیر تکمیل ہے۔تمام اوورسیز پاکستانی بچوں کے دل کی پیدائشی بیماریوں کے علاج کیلئے پاکستان چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن کو ڈونیٹ کریں اور مخلوق خدا کی بھلائی کریں۔
(ڈاکٹر سلمان آپ کا بہت شکریہ)

قارئین کرام! دوسروں کی چھوٹی چھوٹی محرومیوں اور ضرورتوں کا خیال رکھنے سے بڑی بڑی محبتیں جنم لیتی ہیں۔ہم پردیس میں رہنے والوں پر وطن کی مٹی کا کچھ قرض باقی ہے‘اگر آپ کو اللہ نے صاحب استطاعت بنایا ہے تو اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے علاج معالجہ پر صرف کردیجئے اور میرے ساتھ مل کر رمیزہ معین وٹرانسپیرنٹ ہینڈز کا بھرپور ساتھ دیجئے۔
رابطہ کیجئے:
www.transparenthands.org
3100 Clarendon BIVd. Suit 200
Arlington VA 22201. Contact: +1(703)270 8387

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here