کورونا کی نئی قسم آگئی” دنیا بھر میں خوف وہراس” برطانوی فلائٹوں پر پابندی

0
203

برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں کورونا کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی ہے‘ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم نوجوانوں کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے اور یہ 70 فیصد تک دوسروں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘دنیا بھرمیں خوف وہراس
کورونا کی نئی قسم سے برطانیہ میں شدیدخوف وہراس پھیل گیا،برطانیہ میں کوروناوائرس کی 23نئی اقسام زیادہ تیزی سے پھیلنے لگیں‘بروکلین بارو کے صدر ایرک آدم کا نیویارک میں برطانوی فلائٹوں کی پابندی کا مطالبہ
کوروناوائرس کی وباء کے باعث نئی پابندیوں سے بچنے کے لیے لوگ لندن چھوڑکر جانے لگے‘ لندن سے نکلنے کے لیے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، 40 سے زائد ممالک نے برطانیہ سے فضائی اور زمینی رابطے توڑ لیے
لندن/نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی ہے۔ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم نوجوانوں کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے اور یہ 70 فیصد تک دوسروں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جنوبی افریقہ کے وزیر صحت سویلنی مخیز کا کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیچھے کورونا وائرس کی نئی قسم 501.V2 کارفرما ہو سکتی ہے۔ جنوبی افریقی ڈاکٹروں کے مطابق دوسری لہر نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو متاثر کیا ہے اور متاثرہ نوجوانوں کو بھی سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب برطانیہ میں بھی محققین نے بالکل اسی طرح کی کورونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کورونا وائرس کی اسی نئی قسم کی وجہ سے ہوا ہے۔کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد برطانوی حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ کورونا وائرس کی نئی اقسام آنے کے بعد دنیا بھر میں خوف وہراس پھیل گیا-برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے مطابق کورونا کی نئی قسم70 فیصد تک دوسروں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کورونا وائرس کی نئی قسم سے برطانیہ میں ہر طرف شدید خوف وہراس پھیل گیا،برطانیہ میں کورونا کی 23 نئی اقسام زیادہ تیزی سے پھیلنے لگیں جس کے باعث اموات کی تعداد ساڑھے 67 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔برطانیہ میں ایک ہی دن میں کورونا کے مزید 36 ہزار نئے مریض سامنے آگئے جس کے بعد پچھلے اتوار کے مقابلے میں اس بار 95 فیصد زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے۔کوروناوائرس کے باعث نئی پابندیوں سے بچنے کے لیے لوگ لندن چھوڑکر جانے لگے‘ لندن سے نکلنے کے لیے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، 12 ممالک نے سفری پابندیاں عائد کر دیں۔کورونا وائرس کی نئی قسم نے برطانیہ میں افراتفری پھیلا دی، وائرس کی یہ نئی شکل لندن اور جنوب مشرقی برطانیہ میں تیزی سے پھیل گئی ہے۔برطانیہ میں کورونا وائرس کی سامنے آنے والی تبدیل شدہ نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلنے لگی جس کے باعث پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک نے برطانیہ سے فضائی اور زمینی رابطے توڑ لیے۔سارس کوویڈ وائرس ٹو کی جینیاتی طور پر اس تبدیل شدہ شکل کا نام بی ون ون سیون ہے۔ستمبر میں انگلینڈ میں سامنے آنے والے اس وائرس میں جینیاتی طور پر 23 تبدیلیاں ہیں۔بروکلین بارو کے صدر ایرک آدم نے نیویارک میں برطانویفلائٹوں کی پابندی کا مطالبہ کر دیا‘ماہرینِ صحت کے مطابق کوروناوائرس کی نئی قسم بچوں میں بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہی ہے جس قدر بڑوں میں پھیل رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے سامنے آنے پر برطانیہ کے عہدیداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔برطانیہ میں زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی کورونا کی نئی قسم دریافت ہوئی ہے جس کے بعد لاک ڈاؤن کے چوتھے درجے کی پابندیاں متعارف کرادی گئی ہیں۔اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ برطانیہ کوروناوائرس میں تبدیلیوں کے بارے میں جاری مطالعے سے معلومات شیئر کررہا ہے، وائرس کی مختلف حالتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد رکن ممالک اور عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا کی یہ نئی قسم برطانیہ کے ساتھ ساتھ نیدرلینڈ، ڈنمارک اور آسٹریلیا میں بھی پائی گئی ہے۔ اٹلی میں بھی برطانیہ میں سامنے آنے والے نئی شکل کے کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص ہو گئی۔برطانی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے کہا ہے کہ نیا وائرس قابو سے باہر ہے، شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد لندن چھوڑ رہی ہے۔ ہزاروں افراد ائیر پورٹس، سڑکوں اور ریلوے اسٹیشنز پر پھنس گئے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ائیرپورٹس اور ریلوے اسٹیشنز پر رش ہے۔ جرمنی، فرانس، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرزلینڈ اور بیلجیئم سمیت بارہ ملکوں نے پروازیں معطل کر دیں۔زیادہ تر ممالک کی طرف سے یہ پابندیاں ابتدائی طور پر قلیل مدتی ہیں،فرانس نے برطانیہ کے لیے خوراک کی سپلائی بھی معطل کردی۔ وزیراعظم بورس جانسن نے متاثرہ علاقوں میں پابندیاں نرم کی تھیں جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔برطانیہ کے وزیرصحت میٹ ہینکوک نے کورونا کے باعث پابندیاں مزید اگلے چند ماہ برقرار رہنے کاخدشہ ظاہر کیا۔دوسری جانب میٹ ہینکوک نے لندن سے بھاگنے والوں کو غیر ذمہ دار قرار دیدیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here