امریکی الیکٹورل کالج نے بالآخر جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دیدیا

0
148

امریکی الیکٹورل کالج نے بالآخر جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دیدیا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل شکست تسلیم کرنے سے انکار کے باعث 40 دن تک جاری رہنے والے تناؤ کا خاتمہ ہوگیا
تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیئے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، جو بائیڈن کو 306 ووٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے
سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بلکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتی ہے، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو نہیں بجھا سکتا‘جوبائیڈن
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی الیکٹورل کالج نے بالآخر جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دیدیا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل شکست تسلیم کرنے سے انکار کے باعث 40 دن تک جاری رہنے والے تناؤ کا خاتمہ ہوگیا۔تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیئے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو 306 ووٹ ملے جبکہ ان حریف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے۔20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا حارث کے عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔جو بائیڈن جنہیں انتخاب کے روز رات کو اپنی قوم کو فاتح کی حیثیت سے خطاب کرنا تھا، نے الیکٹورل کالج میں اپنی فتح کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی تقریر کی اور اپنے حریف پر زور دیا کہ وہ جمہوریت پر بے مثال حملے کو ختم کرے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بلکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتی ہے، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، نہ ہی وبا اور نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو بجھا سکتا ہے۔مسٹر ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل بل بار کو برطرف کر رہے ہیں جنہوں نے 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ان کے دعووں کی توثیق نہیں کی تھی۔صدر نے اپنے آفیشل ٹویٹر پیج پر بل بار کے استعفے کی ایک کاپی پوسٹ کی اور لکھا کہ خط کے مطابق کرسمس سے قبل بل بار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل جیف روزن، ایک ممتاز شخصیت، قائم مقام اٹارنی جنرل بن جائیں گے اور انتہائی قابل احترام رچرڈ ڈونوگو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ جو عام طور پر سیاسی پیشرفتوں پر رد عمل دینے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرتے تھے، نے الیکٹورل کالج کے فیصلے پر کوئی رائے پیش نہیں کی۔جو بائیڈن نے اپنی قوم کو یہ یقین دلاتے ہوئے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ وہ تمام امریکیوں کے لیے صدر ہوں گے اور انہوں نے گرما گرمی کم کرنے اور ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کے الیکٹورل کالج کے نتائج ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی فتح کے برابر تھے۔انہوں نے کہا ان کے اپنے معیار کے مطابق ان نمبروں نے اس وقت ایک واضح فتح کی نمائندگی کی تھی اور میں احترام کے ساتھ تجویز کرتا ہوں کہ اب وہ ایسا کریں۔جو بائیڈن نے اپنے ریپبلکن حریفوں کو بھی اہم ریاستوں میں ان کے ووٹوں کو کالعدم قرار دینے کی کوشش میں کیے گئے مقدمے واپس لینے پر زور دیا۔تمام چھ اہم ریاستوں نے پیر کے روز ان کو ووٹ دیا جس سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 2016 کے برابر ہوگئے۔جو بائیڈن نے ملک بھر میں دائر درجنوں مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اقدام ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، ایک ایسا اقدام جس نے عوام کی حکمرانی کا احترام کرنے سے انکار کیا، قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے سے انکار کیا اور ہمارے آئین کا احترام کرنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ ایک سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر فوری اس اقدام کو مکمل طور پر مسترد کردیا، عدالتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک واضح اشارہ دیا کہ وہ ہماری جمہوریت پر غیر معمولی حملے کا حصہ نہیں بنیں گے۔پیر کے روز وسکونسن کی سپریم کورٹ نے بھی جو بائیڈن کی ریاست میں کامیابی کو برقرار رکھا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکٹورل ووٹ سے ایک گھنٹہ پہلے ہی ایک اور شکست ملی تھی۔جو بائیڈن نے اپنی تقریر کا اختتام تمام امریکیوں سے اپیل کے ساتھ کیا کہ وہ انتخابی تنازع کو پس پشت چھوڑیں اور اس کورونا وائرس کے خلاف متحد ہوجائیں جو پورے ملک میں جاری ہے۔یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ وائرس سے پہلے ہی 3 لاکھ امریکی ہلاک ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری کی اس تاریک دور میں میرا دل میں آپ سب کا خیال آتا ہے، جہاں آپ تعطیلات اور نئے سال اپنے پیاروں سے دور ہوں گے۔الیکٹورل ووٹ کا اثر کیپیٹل ہل پر بھی پڑا جہاں ریپبلکن قانون سازوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی حمایت کی تھی۔سینیٹ میں ری پبلیکن قانون سازوں کے اس گروپ نے اب جو بائیڈن کی جیت کو عوامی طور پر تسلیم کرلیا ہے۔اس گروہ کی قیادت کرنے والے وپ جون تھون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، تاہم انہوں نے مزید قانونی چارہ جوئی کو مسترد نہیں کیا۔انہوں نے کہا،وہ صدر مملکت ہیں۔ لیکن میں ان جائز، قانونی تنازعات پر رعایت نہیں دینا چاہتا جن کا فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here