کورونا وائرس: احتیاط نہ کی سردیاں گزارنا بہت مشکل ہوگا، وزیراعظم

0
218

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی بڑھتی لہر کے پیش نظر کہا ہے کہ اگر ہم نے صحیح معنوں میں احتیاط نہیں کی تو یہ سردیاں ہمارے لیے بہت مشکل ہوں گی۔سیالکوٹ میں نجی ایئرلائن ایئرسیال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سیالکوٹ میں کاروباری برادری سے ملنے آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایئرسیال کا افتتاح تو ایک بہانہ ہے اصل میں میں یہاں کی کاروباری برادری سے ملنا چاہتا تھا، سب سے پہلے تو انہوں نے یہ ایئرپورٹ بنایا جو بہت شانداد ایئرپورٹ ہے جبکہ اپنی ایئرلائن بنانے کا اقدام بہت اچھا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ ایک مثالی ایئرلائن بنے گی۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ایئرلائن سے سیالکوٹ سمیت پاکستان کا ہر طرح سے فائدہ ہے اور آنے والے دنوں میں میرے خیال سے سیالکوٹ برآمدات کا مرکز بننے جارہا ہے اور اس کے لیے ایئرلائن کی ضرورت پڑنی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح آپ نے ایئرپورٹ چلایا آپ اسی طرح ایئرلائن چلائیں گے اور پی آئی اے کے لیے بھی مقابلہ پیدا کریں گے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا جب پھیلی تو یہ مشکل وقت تھا اور پوری دنیا نے ایک مشکل فیصلہ کرنا تھا کیونکہ اس وائرس کو روکنے کا بہترین طریقہ لاک ڈاؤن ہے۔لوگوں کو ماسک پہننے کی تاکید کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمارے پر بہت کرم کیا اور پہلی لہر میں پاکستان جس طرح کورونا وائرس سے نکلا ہے، اس میں عوام نے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے 7 ممالک کے بارے میں بتایا جنہوں نے کورونا وائرس کے دوران سب سے بہترین طریقے سے نمٹا اور اپنے لوگوں کا روزگار، کاروبار بچایا اور لوگوں کو کورونا وائرس سے بھی بچا لیا جو ایک مشکل کام تھا۔کورونا وائرس سے متعلق بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے جو اپوزشین مجھ پر مکمل لاک ڈاؤن نہ کرنے پر تنقید کررہی تھی اور بھارت کی مثال دیتی تھی کہ نریندر مودی نے بھارت میں کس طرح لاک ڈاؤن کیا، وہی آج جلسے، جلوس کرتے پھرتے ہیں جبکہ کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے صحیح معنوں میں احتیاط نہیں کی تو یہ سردیاں ہمارے لیے بہت مشکل ہوں گی، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں ہر 4 دنوں میں اتنے لوگ مرتے ہیں جتنے ہمارے یہاں 7 روز میں نہیں مرے یعنی اتنی تیزی سے وہا وبا پھیل رہی ہے، انگلینڈ اور اٹلی میں بھی سخت لاک ڈاؤن ہے، تاہم اگر ہم ابھی سے احتیاط کریں تو سردی میں ہم اپنے ملک، صنعت اور لوگوں کو بچا سکتے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو ماسک پہننے کی تاکید کی۔دوران خطاب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیر حماد اظہر اور مشیر رزاق داؤد نے تاجر برادری سے مسلسل رابطہ رکھا ہے، یہ مجھ سے رابطے میں رہتے ہیں اور کاروباری برادری کے مسائل سے مجھے آگاہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کاروباری برادری کو مکمل سہولت فراہم کی جائے تاکہ پاکستان میں پھر سے صنعت کاری (انڈسٹریلائزیشن) شروع ہو، 60 کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پیداوار کئی ایشین ٹائگرز سے زیادہ تھی، تاہم اگر 70 کی دہائی میں کاروبار اور صنعت مخالف پالیسز نہ ہوتیں تو پاکستان کی صنعت کاری کہاں سے کہاں پہنچ جاتی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی پالیسی ہے ملک کو صنعت کاری کی طرف لے جانا، کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے۔انہوں نے کہا کہ میری حکومت کا سب سے بڑا مقصد ہے کہ لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور پیچھے رہ جانے والے علاقوں پر خاص توجہ دی جائے، گلگت بلتستان، بلوچستان، سابق قبائلی علاقے، پنجاب کے کچھ ضلع پیچھے رہ گئے ہیں۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی ہمیشہ وسیع پیمانے پر ہوتی ہے، اگر آپ ایک چھوٹے علاقے کو ترقی دیں اور باقی ملک پیچھے رہ جائے تو ملک ترقی نہیں کرسکتا نہ ہی وہ ملک ترقی کرسکتا ہے جہاں چھوٹا سا طبقہ امیر ہوجائے اور باقی ملک غریب ہو۔جدید دور میں چین کے ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے 30 سے 35 برسوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے اور اب ان علاقوں میں مدد کر رہے جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، سی پیک کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مغربی چین جو پیچھے رہ گیا ہے اس کی تجارت سمندر سے جوڑنا چاہتے ہیں، تاہم اب ہم نے بھی پوری کوشش کرنے ہے کہ اپنے ان علاقوں کو اوپر اٹھائیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سب کے لیے دولت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہمارے ملک کی دولت نہیں بڑھے گی ہم ملک کے لوگوں کو غربت سے نہیں نکال سکتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیالکوٹ کی صنعت کی پوری مدد کریں کیونکہ جتنی آپ صنعت کاری کریں گے اور برآمدات بڑھائیں گے اس سے پاکستان کا فائدہ ہوگا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں مسلسل یہ مسئلہ آتا ہے کہ جیسے ہی ہماری ترقی شروع ہوتی ہے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے، ہم دنیا کو برآمدات کم کرتے ہیں اور درآمدات زیادہ کرتے ہیں اور روپے پر دباؤ پڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور مہنگائی بڑھتی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی ضرورت ہے کہ ہم سیالکوٹ کی مدد کریں، یہی نہیں بلکہ گجرات، گوجرانوالہ، وزیرآباد، کراچی، فیصل آباد برآمدات کے لیے سب سے بہترین علاقہ ہے اور اگر ہم ان کی مدد کریں گے تو ملک کا فائدہ ہوگا۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ کاروبار سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتی ہیں، ہماری سب سے زیادہ نوجوان آبادی ہے جن کے لیے ہم نے نوکریاں پیدا کرنی ہے جو صنعتوں سے ہوتی ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو جو جو مشکلات ہیں اسے وزیراعظم ہاؤس، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر دور کریں گے۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہم پوری طرح اپنی صنعتوں کی مدد کریں گے اور کاروباری برادری کی ہر طرح کی مدد دیں گے اور مجھ سے ملاقات میں آپ کے وہ تمام مسائل جو ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور یوٹیلیز سے ہیں انہیں حل کریں گے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہم جو بلدیاتی نظام لارہے ہیں اس میں جو شہری حکومت بنے گی وہ براہ راست منتخب ہوگی اور پوری شہری حکومت ایک ہی جگہ ہوگی جبکہ اور اس میں آپ کو سیالکوٹ کو جدید شہر بنانے میں مدد ملے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here