رب راضی تے جگ راضی” تحریر : خدیجہ حسینی

    0
    567
    امام ابن الجوزي فرماتے ہیں مجھے ایسے شخص پہ تعجب ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کی امید میں بناوٹ سے کام لیتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ لوگوں کے دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں.
    دل تو اللہ کا گھر ہے.بچپن میں ہم کہتے تھے
    لڑائ لڑائ معاف کرو اللہ کا گھر صاف کرو.
    اس کا مطلب تو اب سمجھ میں  آیا کہ اللہ کا گھر کو نسا ہے اور اس کی صفائ کیسے کی جائے؟
    اللہ. کا گھر، ہمارا دل ہے  اس کو ہم نے حسد، کینہ، بغض منافقت,ریاکاری, تعصب,نفرت اور انتقام لینے کے جذبے ہر برائ سے پاک کرنا ہے.یہی میرے رب کا گھر ہے اور ہمیں ہی  اس گھر کی صفائی کرنی ہے.  جس طرح ہر گھر کی صفائی ضروری ہے  اسی طرح دل (اللہ کے گھر) کی صفائ  سب گھروں کی صفائی سے مقدم ہےدل کی پاکیزگی اللہ کا خاص انعام ہے.
    دل پاک نہیں تو  انسان کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی ہے اس لیے دل کی صفائی ضروری ہے دل بظاہر تو  ایک گوشت کا ٹکڑا  اور خون پمپ کرنے کا آلہ ہےلیکن معنوی اعتبار سے معرفت الہی کا حسیں مرکز ہے. اللہ نہ کرے کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جن کے لئے اللہ نے قرآن میں فرمایا
    “ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی”
    کیونکہ جس دل پر ہدایت کے دروازے رب العالمین  کی طرف سے بند کر دے جائیں اس دل میں خیر کی بات نہیں جاتی اور جس دل میں خیر کی بات نہ جائے پھر یہ دل دل نہیں رہتا یہ پھر یہ خون کے ایک لوتھڑے  یا دوسرے لفظوں میں  پتھر کے ایک ٹکڑے سے بھڑ کر کچھ نہیں ہوتا
    ہماری تمام تر کامیابیوں اور  عزّتوں کا ما لک اللہ تعالی ہے لیکن ہم نے اس دل میں اللہ تعالی اور اس کے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی بجائے دنیا کی محبت بسا لی ہے آج ہم نے اپنے دلوں میں  قرآن محفوظ کرنے کی بجائے دنیا کی محبت بسا لی ہے  کاش ایسا ہو جائے کہ  اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے…
    میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے
    ہواحرس والا دل بدل دے…
    ہم اگر اپنے دل میں  اللہ کی یاد کو بسا لیں تو خود بخود  دنیا کے معا ملات آسان لگنے لگیں گے
    ہم اگر اللہ تعالی سے محبت کریں گے تو اللہ کی مخلوق ہم  سے محبت کرے گی اور ہمیں دنیا آسان اور خو بصورت لگنے لگتی ہے.جب ہمارے دل سے یہ دعا نکلے کہ اے اللہ ہمیں اپنی رضا میں راضی رکھنا اور پھر ہمارا ایمان یہ ہو  کہ جب تک اللہ نہ چائے ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا، جب تک اللہ کی اجازت نہ ہو پوری روح زمین سے عرش تک ایک ذرہ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہو سکتامیرا یقین ہے اگر کوئ مجھے پتھر بھی مارے گا تو اس وقت  تک مجھے نہیں لگے گا جب تک میرا ربّ نہ چاہئے.جب میں ڈپریشن  میں تھی تو لگتا تھا. لوگ میرے بارے میں غلط پلان کر رہے ہوں گے. یہ سوچ کر میں اکثر خوفزدہ رہتی تھی.کیونکہ ڈپریشن  ہوتا ہی تب ہے جب انسان کو اپنے رب پہ یقین نہ ہو.شاید اس وقت میرا ایمان کا لیول بھی بہت جا چکا تھا.جب اللہ نے مجھے اس سے نمٹنے کی ہمت دی. تو یقین جانئے سارے خوف ختم ہو گئے.کیونکہ اب مجھے خود سے سارے رشتوں، ساری دنیا سے زیادہ یقین ربّ پہ ہے جو ہم. سب کا خالق ہے.لوگوں کے برے رویہ اب بھی میرے سامنے آتے ہیں.میں خاموش رہتی ہوں.یہ آیت میں  اپنی زندگی میں بڑی محسوس کرتی ہوں.
    ومکرو ومکر الله، والله خيرالمکرین.
    لوگوں کے ہمارے لئے برے پلان  اس وقت تک ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے، جب تک اللہ نہ چاہے.
    میرا ایمان ہے میرا یقین ہے، کہ اگر پوری دنیا مجھے نقصان پہنچانے کیلئے اکٹھی ہو جائے تو ذرہ برابر نقصان نہیں پہنچا سکتی، اگر اللہ کا حکم نہ ہو تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہے  اور اسی طرح  اگر ساری دنیا مجھے نفع دینے کے لئے اکٹھی ہو جائے تو ذرو برابر نفع نہیں دی سکتی اگر  ربّ ذواجلال والاکرام کا حکم نہ ہو تو,”رضی اللہ عنهم ورضو عنه”میرے  ربّ ہمیں ایسے حال میں موت آئے کہ آپ ہم سے راضی ہوں اور ہم آپ سے راضی ہوں
    “ورضوان من اللہ اکبر”
    اللہ ہمیں ایسا بنائیے کہ  ہمارے لئے  آپ کی رضا، ہماری خوشیوں سے بڑھ کر ہو.
    جو رب کو قبول ہوں
    وہی میرے اصول ہوں
    وہی صبر وہی گفتگو
    وہی سادگی وہی عاجزی
    اے ابن آدم!
    ایک تیری چاہت ہے
    اور ایک میری چاہت ہے
    پس اگر تو راضی ہو گیا اس پر
    جو میری چاہت ہے.
    تو میں بخش دوں گا تجھ کو وہ بھی
    جو تیری چاہت ہے
    لیکن اگر تو نے نا فرمانی کی اسکی
    جو میری چاہت ہے
    تو میں تھکا دونگا تجھ کو اس میں
    جو تیری چاہت ہے
    پھر ہوگا وہی
    جو میری چاہت ہے.
    اللہ کا تھکانا بھی، عام تھکن جیسا تو نہیں ہوگانا.
    حضرت شیخ ابن عطار رح فرماتے ہیں.
    رضا یہ ہے کہ اللہ نے بندے کیلئے جو کچھ مقرر کر دیا ہے، اس پر قلب پُر سکون رہے، اس لئے کہ جو کچھ اللہ نے اس کے لئے انتخاب کیا ہے سے بہتر اور کیا انتخاب ہو سکتا ہے.لہذا اس پر راضی رہنا اور نا گواری کو ترک کرنا  رضا ہے.اللہ ہم راضی ہیں، اللہ ہمیں ہماری دنیا کی چاہتوں میں نہ تھکانا.
    اللہ ہمیں تھام لیجئے.اللہ ہم سب کے دلوں کہ اپنی محبت سے آراستہ فرمائیں.
    یا مصرف القلوب صرف قلبی علی طاعتك.

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here