کورونا: 4 ماہ کے دوران ایک روز میں سب سے زیادہ 42 ہلاکتیں ، اپوزیشن رہنما عوام کی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں ، عمران خان

0
179

لاہور،کراچی، اسلام آباد(ہیلتھ رپورٹر،سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک )ملک بھر میں کورونا وائرس سے چوبیس گھنٹے کے دوران 42 افراد چل بسے جو 4 ماہ کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ہیں،نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں 2 ہزار 843 نئے کیسز سامنے آئے اور ایک دن میں کئے گئے ٹیسٹوں میں کورونا مثبت آنے کی شرح 6.6 فیصد رہی، ملک بھر میں اس وبا سے 7603 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں،پاکستان میں اب تک کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 71 ہزار 508 ہے جن میں سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ 28 ہزار 931 ہوگئی ہے ، فعال مصدقہ کیسز کی تعداد 34 ہزار 974 ہے ، جن میں سے 2122 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں اور 246مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں،ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے 564نئے کیسز کے بعد مجموعی تعداد113457 ہو گئی جبکہ لاہور میں 221 نئے مریض سامنے آئے ہیں ،پنجاب میں مزید 15ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد اموات کی کل تعداد2826 ہو چکی ہے ، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف ایم این اے ریاض فتیانہ بھی وائرس کا شکار ہوگئے جس پر انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا، لاہور کے گورنمنٹ سی ڈی جی ایل گرلز ہائی سکول قلعہ گجر سنگھ کی ٹیچر میں بھی کورونا کی تصدیق ہوئی ہے ، وزیر تعلیم سکول مراد راس نے کہاکہ سکول بند کرنے کا فیصلہ کورونا کیسز کی بنیاد پر ہوگا، اپنے ٹویٹ میں شکوہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکول بند کریں تو لوگ خوش نہیں نہ کریں تو لوگ خوش نہیں ہیں، انسانی زندگی سب سے اہم ہے ، مجھ پر کسی قسم کا دبائو نہیں ، اس حوالے سے دانشمندانہ فیصلے کی ضرورت ہے ،تاہم وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ سکولوں سے متعلق پیرکوصوبوں سمیت تمام اکائیوں کاحتمی اجلاس ہوگا ، ہم تجویرلے کرآرہے ہیں کہ 25نومبرسے تعلیمی اداروں پربندش لگانی چاہیے ،اساتذہ سکول آئیں گے بچے بھی رابطے میں رہیں گے تاکہ پڑھائی کاسلسلہ جاری رہے ،تجویزہے کہ بجائے کیمپس کے گھرسے پڑھائی شروع کی جائے ۔دوسری جانب وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہاکہ سندھ میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ باہمی مشاورت اور 23 نومبر کو وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم کے ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا، محکمہ تعلیم سندھ کی سٹیئرنگ کمیٹی کے گزشتہ روز ہونے والے مشاورتی اجلاس میں تمام سٹیک ہولڈرز سے وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پر مشاورت کی گئی ، سعید غنی نے کہا کہ ملک بھر میں کوویڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہورہا ہے تاہم تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے اور اسے مزید سخت کیا جارہا ہے ، اجلاس کے شرکا نے اپنی تجاویز دیتے ہوئے اظہار کیا کہ صرف تعلیمی اداروں کی بندش سے کورونا پر قابو نہیں پایا جاسکتا ،تعلیمی اداروں کی بندش سے پہلے ہی طلبا و طالبات کا تعلیمی نقصان ہوچکا ہے ،سٹیئرنگ کمیٹی نے 13 ستمبر کے اجلاس میں ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اس سال موسم سرما کی تعطیلات نہیں کی جائیں گی اس لئے ہمیں اسی فیصلے پر رہنا چاہئے ، وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہاکہ جو سکول یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم فراہم کرسکتے ہیں ہم انہیں اس بات کی مکمل اجازت دیتے ہیں اور جو والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے اور وہ گھروں پر اپنے بچوں کو آن لائن یا دیگر کسی ذرائع سے تعلیم دینا چاہتے ہیں تو سکولز کو بھی اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ وہ ایسے بچوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیں، ادھر خیبر پختونخوا میں کیسز سامنے آنے کے بعد تاحال 38 کے قریب سرکاری سکول بند کر دیئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں کراچی کے مختلف اضلاع میں 14 روز کیلئے مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، ان اضلاع میں کورنگی، وسطی ، غربی اور جنوبی شامل ہیں، ضلع جنوبی میں خیابان مون، خیابان بدراور خیابان اتحاد ، کورنگی کی 3 یوسیز کے 7 علاقے ، وسطی میں عزیز آباد، علی آباد، کریم آباد، یاسین آباد ، دستگیر، ناظم آباد، اصغر شاہ سٹیڈیم، شادمان ٹاؤن اور ضلع غربی کے کئی علاقوں میں مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا، جس کا نفاذ رات 12 سے شام 7 بجے تک ہوگا،اس کے علاوہ کلفٹن کا سب سے بڑا شاپنگ مال بھی سیل کردیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن اراکین جو پہلے ملک میں سخت ترین لاک ڈاؤن نہ ہونے پر تنقید کرتے تھے اب عدالتی احکامات کی خلاف ورزی میں جلسے کر کے عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں، اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا پی ڈی ایم کے وہ اراکین جو پہلے مجھ پر طنز و تنقید کے نشتر چلایا کرتے تھے آج لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر نہایت عاقبت نا اندیشی کی سیاست کر رہے ہیں، کیفیت یہ ہے کہ کیسز میں نہایت تیز اضافے کے باوجود یہ عدالتی احکامات ہوا میں اڑا کر جلسے کرنے پر مصر ہیں، وزیراعظم عمران خان نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کراچی میں شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کی تصاویر شیئر کیں اور کہا کہ یہ دیکھ کر ان کا دل اس احساس سے سرشار ہے کہ یہ کینسر ہسپتال پاکستان کا سب سے بڑا مرکزشفا ہوگا جو طب و علاج کے جدید ترین سازوسامان سے آراستہ ہو گا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے پر تلی ہوئی ہے ، ان کاجلسے منعقد کرنے پر بضد ہونا ان کی غیر جمہوری سوچ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس ہے ، اپنے ٹویٹ میں شبلی فرازنے کہا کہ عدالتی اور حکومتی احکامات کے بعد جلسے منعقد کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا، ذاتی مفاد کے لئے عوام کی صحت اور زندگیوں سے کھیلنا سب سے بڑی خود غرضی ہے ، خیبر پختونخوا میں کیسز بڑھنے کی صورت میں اپوزیشن رہنماؤں اور جلسوں کے منتظمین پر ایف آئی آر درج کرائی جائے گی،ادھر ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش نے وزیر صحت تیمور جھگڑا اور ہیلتھ ماہرین کے ساتھ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی تشویشناک صورتحال کے باوجود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ عوام دشمنی پر مبنی ہے ، تحریک انصاف نے عوامی مفاد اور قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنا جلسہ منسوخ کیا ورنہ گیارہ جماعتیں مل کر بھی جلسہ کرنے میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتیں،اپوزیشن اپنا ڈرامہ رچانے کیلئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے ، انہوں نے اپوزیشن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جلسے کے بعد اگر کورونا صورتحال ابتر ہوئی تو پی ڈی ایم لیڈرز کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے ، کورونا کی ابتر صورتحال کی وجہ سے اپوزیشن کے ورکرز اور لیڈرز دونوں کیلئے فکرمند ہیں، خیبر پختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشاور میں پی ڈی ایم جلسے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے ، کورونا سے لوگوں کو نقصان پر اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج ہوں گے ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرنے کہا اپوزیشن پشاور میں جلسہ کرکے عوام کی صحت اور روزگار خطرے میں ڈالنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرے گی، انہوں نے ٹو یٹ میں کہا کہ پشاور عمران خان کا شہر ہے ، 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے پشاور کی 4 میں سے 4 اور 2018 میں 5 میں سے 5 نشستیں اپنے نام کیں، اگلے الیکشن میں بھی یہی ہونا ہے ، اپوزیشن جلسہ کرکے عوام کی صحت اور روزگار خطرے میں ڈالنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرے گی ،شاید یہ پشاور کے عوام سے بدلہ لینا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پشاور میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 13.39 فیصد ہوگئی ہے ، مسلم لیگ نواز کی حکومت نے آزاد کشمیر میں 2 ہفتوں کے لئے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر د یا، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے 4 اضلاع میں سمارٹ لاک ڈاؤن کر دیا لیکن دونوں جماعتوں کا اصرار ہے کہ پشاور جلسہ ضرور ہو گا، دوغلے پن کی اس سے واضح مثال نہیں مل سکتی،وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ مسلم لیگ ن کا د ہرا معیار ہے کہ ووٹ کو عزت دو مگر ووٹر کو کورونا سے مرنے دو،انہوں نے کہا کہ کورونا سے ملک کی بنیادیں ہل جائیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کی اولادیں اور رشتے دار ملک سے باہر ہیں، انہیں غریب کا بچہ قربانی کیلئے درکار ہے ،وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کیا اپوزیشن عوام سے شکست کا بدلہ لے رہی ہے یا بوکھلاہٹ کا شکار ہے ؟ کورونا پر قابو پانے اور ملک کو معاشی نقصان سے بچانے کے لئے این سی او سی کی تجاویز پر عمل ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ نجی محفل میں شرکت کے لئے کورونا ٹیسٹ لازمی اور عوام کو کورونا ایس او پیز کے خلاف جلسوں میں شرکت پر اکسانا صرف اور صرف اپنی چوری بچانے کی کوشش ہے ،وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ووٹر کو حفاظت دو ،کورونا مت دو ،اپوزیشن کو جلسوں سے وہی ملے گا جو گلگت بلتستان میں ملا ،اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ ہے اصولی سیاست ،کراچی میں سندھ حکومت کا مائیکرو لاک ڈائون ،آزادکشمیر میں ن لیگ حکومت کا مکمل لاک ڈائون اور پشاو ر میں دونو ں مل کر جلسہ کریں ، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹر پر بختاور بھٹو کی منگنی کے دعوت نامے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ بختاور کی منگنی پروگرام کیلئے کورونا ٹیسٹ رپورٹ بھیجنا لازم ہے ورنہ آپ کو بلاول ہا ؤس آنے نہیں دیا جائے گا،شہباز گل نے سوالیہ انداز میں کہا کہ خلق خدا کوجلسوں میں بلاتے ہو تو کیوں ان کی جانوں کا خیال نہیں رکھتے ، اپنی جانیں تو بہت عزیز ہیں تمہیں؟تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا پی ڈی ایم کے رہنما معصوم لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ،کورونا کی دوسری لہر خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے ،یہ زبردستی اپنے جلسوں میں عوام کو لاتے ہیں اور معصوم لوگوں کی جانوں کوخطرے میں ڈالتے ہیں،جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہوسکتا ایسے اجتماعات سے اجتناب کرناچاہیے ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا اپوزیشن کورونا کی حساسیت کو سمجھے ، اپوزیشن سیاست کی آڑ میں انسانی جانیں داؤ پرنہ لگائے ، حکومت جلسے جلوسوں سے خوفزدہ نہیں، جلسوں سے حکومتیں بنتی ہیں نہ ہی گرتی ہیں،عدالتی احکامات کے بعد جلسے کرنے کا قانونی جوازنہیں بنتا، اپوزیشن مفاد پرستی کی سیاست کررہی ہے ، اپوزیشن ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتی ہے ، اپوزیشن کا جلسے کرنے پربضد ہونا غیرذمہ دارانہ رویہ ہے ،تمام سیاسی جماعتوں کو کورونا ایس اوپیزپرعملدرآمد کرنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here