تحریک لبیک کا فیض آباد پر دھرنا، فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ

0
275

کشیدہ صورتحال کے باعث فیض آباد کے آس پاس تمام اسکولز اور دکانیں بند ہیں۔ دھرنے کی وجہ سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس اتوار کی صبح 5 بجے سے بند تھی جو آج 31 گھنٹے بعد بحال ہوئی ہے۔

اسلام آباد /  راولپنڈی: تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) کا اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر دھرنا جاری ہے۔ظاہرین نے ناموس رسالت ریلی نکالی اور وہ فرانس میں سرکاری سرپرستی میں توہین رسالت کیے جانے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ٹی ایل پی کارکنوں نے اسلام آباد جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا جس کے باعث مظاہرین نے فیض آباد پر ہی دھرنا دے دیا ہے جس میں بڑی تعداد میں کارکن شریک ہیں۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے شدید شیلنگ کی گئی اور ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں جس کے جواب میں ٹی ایل پی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں، کنٹینر اور خاردار تاریں لگاکر سڑکوں کو بند کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں جڑواں شہروں میں ٹریفک جام ہے اور ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑا جارہا ہے جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند ہے۔کشیدہ صورتحال کے باعث فیض آباد کے آس پاس تمام اسکولز اور دکانیں بند ہیں۔ دھرنے کی وجہ سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس اتوار کی صبح 5 بجے سے بند تھی جو آج 31 گھنٹے بعد بحال ہوئی ہے۔ صورتحال کے باعث عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی اور کئی مقدمات کی سماعت نہیں ہوئی۔

انتظامیہ اور ٹی ایل پی کے درمیان دھرنا ختم کرنے کےلیے مذاکرات کی کوششیں بھی ہورہی ہیں تاہم مظاہرین فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here