چینی اسکینڈل؛ شریف فیملی اور جہانگیر ترین کی شوگر ملز کیخلاف نوٹسز کالعدم

0
131

لاہور ہائی کورٹ نے شریف فیملی کی العربیہ شوگر ملز اور جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کو جے آٸی ٹی، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کی جانب سے بھجوا گئے نوٹسز کو کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس شاہد کریم اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شوگر ملز کی درخواستیں جزوی طور پر منظور کرلیں۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایس ای سی پی اپنا کردار قانون کے مطابق ادا کرنے میں ناکام رہا، ایف آٸی اے کو یقینا انکواٸری کا اختیار حاصل ہے  لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انکواٸری کن  قوانین کے تحت  کی جا سکتی ہے، ایف آٸی اے کے اختیار کے حوالے سے تفصیلی فیصلے میں وضاحت کی جاٸے گی۔رواں سال کے اوائل میں ملک میں اچانک چینی مہنگی اور قلت پیدا ہوگئی تھی۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے وفاقی حکومت نے 16 مارچ کو تین رکنی اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔ چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔درخواست گزاران نے موقف اختیار کیا تھا کہ فاروقی پلپ ملز اور العریبیہ شوگر ملز پر کارپوریٹ فراڈ کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے فاروقی پلپ مل اور العریبیہ شوگر ملز کیخلاف انکوائری کرنے کا غیر قانونی حکم دیا ہے، لہذا عدالت العریبیہ شوگر ملز سے ریکارڈ طلبی کے جےآئی ٹی کے نوٹس کو غیر قانونی قرار دے جبکہ العریبیہ شوگر ملز اور فاروقی پلپ ملز کیخلاف وفاقی حکومت کے انکوائری کے احکامات کو کالعدم کیا جائے،  اس کے ساتھ ساتھ طلبی کے نوٹسز معطل کیے جائیں اور ہراساں کرنے سے بھی روکا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here