آئی جی کے اغواء کی رپورٹ پبلک ہونا چاہیئے: شاہد خاقان عباسی

0
82

مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ آئی جی کے اغواء کی رپورٹ کو پبلک ہونا چاہیئے، ورنہ ابہام رہے گا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت کے سلسلے میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ نہیں آئی، ایک خلاصہ آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ کچھ افسران نے جذبات میں آ کر آئی جی سندھ کو اغواء کر لیا۔سابق وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ جذبات میں آئی جی کو اغواء کیا جاسکتا ہے، تو عوامی تکلیف دور کرنے کو جذبات میں اختیارات سے تجاوز بھی کیا جا سکتا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں، اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے، آئی جی کے اغواء کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی جی کے اغواء کی رپورٹ کو پبلک ہونا چاہیئے، ورنہ ابہام رہے گا۔سابق وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے قتل کا بھی اب تک پتہ نہیں چل سکا۔

عدالت کی نیب کو اعتراضات دور کرنے کی ہدایت

دوسری جانب احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے ایل این جی ریفرنس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللّٰہ نے ریفرنس کی دستاویز پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں نیب نے مطلوبہ دستاویز فراہم نہیں کیں۔انہوں نے احتساب عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پہلے ہمارے اعتراضات پر فیصلہ کرے۔احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کی۔احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے حکم دیا کہ نیب اور ملزمان کے وکلاء بیٹھ کر ان اعتراضات کو دور کریں، نیب ایک دن کے اندر اعتراضات دور کرے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here