جاپان امیگریشن ایجنسی ملک بدری کے قانون میں تبدیلی کرے گی

0
44

جاپان کی امیگریشن اتھارٹی ملک بدری کے حکم کو مسترد کرنے والے بعض غیر ملکیوں کو مخصوص شرائط پورا کرنے کی صورت میں سرکاری مراکز کے بجائے اپنے اہل خانہ یا کفیل کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دے گی۔امیگریشن سروسز ایجنسی، امیگریشن اور ملک بدری کے قوانین میں ترمیم کے ایک مسودے پر کام کر رہی ہے۔جاپان بدری کے احکام کو مسترد کرنے والے غیر ملکی افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور انہیں حکومتی مراکز میں طویل مدت تک زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔ایجنسی ایسے بعض افراد کو، جن کا اِسکی دانست میں فرار ہونے کا امکان نہیں ہے، ملک چھوڑنے کے وقت تک حراستی مراکز سے باہر اپنے اہل خانہ یا کفیل کے ساتھ رہنے کی اجازت دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔امیگریشن ایجنسی پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کارروائی کے طریقۂ کار میں تبدیلی لانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ مروجہ قانون کے تحت پناہ کے درخواست گزاروں کو درخواست پر کارروائی کے دوران جاپان میں رہنے کی اجازت ہے۔ بار بار درخواستیں دینے کے نتیجے میں عرصہ حراست طویل ہوتا جاتا ہے۔امیگریشن ایجنسی دوسری درخواست مسترد ہونے کے بعد، خواہ تیسری درخواست جمع کرائی جا چکی ہو، ملک بدری مؤخر کرنے کے عمل کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ایجنسی انتشار انگیز رویے کا مظاہرہ کرنے والے زیر حراست افراد کی ملک بدری کے لیے ایک نیا طریقۂ کار اختیار کرے گی۔ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی سزا دی جا سکے گی۔امیگریشن ایجنسی ترامیم پر مشتمل مسودۂ قانون آئندہ سال پارلیمان کے عام اجلاس میں پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here