قصیدہ

0
547

نتیجۂ فکر : نبیغؔ شبّیر

نکتہ چینی کی ادا ذوقِ طبیعت ہےمجھے
یعنی تنقیدِ جہاں، لذتِ طینت ہے مجھے

ناخنِ وزن نے فرہنگ کا ترشا ہے بدن
شعر گوئی کا جنوں عرصئہ وسعت ہے مجھے

فصلِ ماضی کے ثمر ، نخلِ مضامیں پہ ابھر
حاصلِ تلخئ جاں ، جانِ حلاوت ہے مجھے

نو گرفتارِ جفا رہ گئے محرومِ رموز
شدتِ ہجر تو جذبوں کی طہارت ہے مجھے

خصلتیں خوب تھیں نیرنگئ جاناں کی مگر
ذکرِ اسبابِ فراق ، آتشِ غیبت ہے مجھے

دشتِ عشرت کے زقوموں میں کشش ہے لیکن
نرگسِ گلشنِ اندوہ سے نسبت ہےمجھے

منزلِ عشق کے آگے ہیں مقامات کئی
کثرتِ راہ مگر جادۂ وحدت ہے مجھے

ارمغاں حشر کا ہے فرصتِ تفریحِ ارم
یعنی فردوس کی خواہش ہی قیامت ہے مجھے

زورِ تعبیر پہ اتری ہے حماقت لیکن
جشنِ رویائے ہوس ، وجہِ مذلّت ہے مجھے

منبرِ زعم کبھی مسکنِ عاشق نہ ہوا
خطبئہ عشق سدا خدشئہ ضربت ہے مجھے

تنگئ فکر نے جس کو زنِ پسماندہ کہا
پیکرِ شرم وہ شہزادئ جنّت ہے مجھے

خواہشِ نقشِ بقا ، راہِ تقدّس پہ پلٹ
مثلِ الہامِ تغیّر ، یہ عبارت ہے مجھے

اب درودوں کا دیا ، خانۂ ظلمت میں جلا
غارِ دل ! مثلِ وحی ، آمدِ حضرت ہے مجھے

مطلعِ نورِ جہاں ، وجہِ شفاعت ہے مجھے
مقطعِ پیکِ خدا ، بابِ ہدایت ہے مجھے

دشنۂ علم سے کاٹی ہے ابو جہل کی رگ
امّی ظاہر میں ہے جو ، روحِ بلاغت ہے مجھے

زیرِ سجدہ ہے زمیں ، راہ گزر عرشِ بریں
بندگی آپ کی تو رمزِ عبادت ہے مجھے

تا قیامت نہیں ڈوبینگے عبادت کے شموس
میرے مولا کی دعا ، دائمی رجعت ہے مجھے

لبِ افلاک نے چومے ہیں قدم ان کے مگر
بوسۂ خاکِ مدینہ بھی غنیمت ہے مجھے

شقِ مہتاب ہے انگشت رسائی کی دلیل
قدرتِ عبد تو اللہ کی قدرت ہے مجھے

شرحِ قرآن ہوئی ، زیست کی تفسیر ملی
وجہِ کن کی وہ جھلک ، عیدِ قیامت ہے مجھے

عہدِ دیدار اگر کرتے ہیں تربت کی سحر
پھر تو تابوتِ اجل ، بسترِ ہجرت ہے مجھے

نبضِ میعاد تھمی ، دیکھ کے رفتارِ نبیﷺ
عرصۂ سیرِ فلک ، وقت کی لکنت ہے مجھے

نفسِ لوّامہ کی یہ شعبدہ بازی ہے نبیغؔ
وقتِ رفتہ پہ جو ہر وقت ندامت ہے مجھے

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here