پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن کی جانب سے نیویارک میں مظاہرہ;مسیحی نوعمر بچیوں کا ریپ بند کیا جائے”ولیم شہزاد

0
191

پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کی خواتین خاص کر نوعمر لڑکیوں کی ناجائز اور زبردستی کی شادیوں کیخلاف ٹرائی اسٹیٹ امریکہ میں مسیحی تنظیموں کا نیویارک میں واقع پاکستان قونصلیٹ کے سامنے بھرپور مظاہرہ

پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں مگر پاکستان میں عدلیہ اور حکومت کی ناک کے نیچے مسیحی بچیوں کے ساتھ زبردستی کی شادیوں اور ان نوعمر بچیوں کے اغواء کے واقعات میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے‘مظاہرین کا سخت احتجاج

ہم آرزو بیٹی کیساتھ ہونے والی زیادتی اور ناانصافی کی مذمت کرتے ہیں اوراسکے خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں‘ وزیراعظم پاکستان ایسے مافیا کیخلاف سخت ایکشن لیں جو ہماری بچیوں کو اغواء کر کے مسلمان کرتے ہیں‘ولیم شہزاداور دیگر مقررین کا خطاب

مین ہیٹن‘ نیویارک (منظور حسین سے):___پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن (پی سی اے) کی جانب سے پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کی خواتین خاص کر نوعمر لڑکیوں کی ناجائز اور زبردستی کی شادیوں کے خلاف ٹرائی اسٹیٹ امریکہ میں مسیحی تنظیموں نے نیویارک میں واقع پاکستان قونصلیٹ کے سامنے سخت سردی میں ایک بھرپور مظاہرہ کیا۔مظاہرین جنہوں نے مختلف کتبے اٹھا رکھے تھے اور جن پر پاکستان میں مسیحیوں پر ظلم بند کرو‘ مسیحی بچیوں کا ریپ بند کرو کے نعرے درج تھے نے حکومت پاکستان اور پاکستان کی عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں مگر پاکستان میں عدلیہ اور حکومت کی ناک کے نیچے مسیحی بچیوں کے ساتھ زبردستی کی شادیوں اور ان نوعمر بچیوں کے اغواء کے واقعات میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کی بنیادوں کو قائم کرنے میں وطن عزیز کو بنانے میں مل کر ساتھ دیا مگر آج ایک مافیا مسیحیوں کی بچیوں کو ناجائز طریقے سے اغواء کر کے ان کے ساتھ ریپ کررہا ہے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرسچن ایسوسی ایشن (پی سی اے)امریکہ کے صدر ولیم شہزاد نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج یہاں اس احتجاج میں شامل ہوئے ہیں کہ کراچی میں آرزو بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ناانصافی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور آرزو بیٹی کے خاندان خاص کر اس بچی کی والدہ ریٹا اور والد راجہ مسیح کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنی بیٹی کیلئے انصاف ضرور لیکر رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے آرزو راجہ کو اس کے پڑوسی سید علی اظہر نے اغواء کیا جس کی عمر لگ بھگ 45سال کے قریب ہے اور اس نے آرزو کو مسلمان مذہب قبول کرنے پر زور دیاپاکستانی قانون کے مطابق نابالغ بچیوں کی شادی جرم ہے جبکہ آرزو راجہ کی عمر 13سال ہے نادرا کے فارم ب میں واضح طور پر آرزو کی عمر 13سال ہے جبکہ سکول‘چرچ اور دیگر ریکارڈ کے مطابق بھی بچی کی عمر 13سال ہے اور یہ کیسے ہو گیا کہ اسے دھمکیوں سے اسلام قبول کروایا گیا اور 45سال کے بندے سے اس کی شادی کروائی گئی اور یہ اس ملک میں کیسے ہو گیا۔یہاں یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ اس بندے جس کا نام سید علی اظہر ہے کے دو بھائی پولیس کے محکمے سے ہیں اور جن کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا جاسکتاجس وجہ سے یہ بات کلیئر ہے کہ یہ پولیس والے اپنے بھائی کی ہر ممکن مدد کررہے ہیں جو نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلامی مذہب کے روح سے بھی غیر شرعی ہے۔جب یہ کیس عدالت میں جاتا ہے تو اس 13سالہ معصوم بچی کے والدین کو نہ سنا جاتا ہے اور نہ بولنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ولیم شہزاد نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے کیسز میں عدلیہ کو بہت سوچ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جس میں پاکستان کے اندر کوئی مسلم بچی ہو یا کرسچن‘ یا ہندو ہو یا سکھ جب اتنی چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ اس قسم کی بھیانک زیادتیاں ہوں تو عدلیہ کو از خود نوٹس لیکر فیصلہ کرنا چاہئے اور جس بچے یا بچی کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہوتی ہو تو اس کے والدین‘ان کے لواحقین کو بھی سنا جائے‘احتجاج کے مقررین جن میں پی سی اے کی نائب صدر وحامہ شاہ‘ صدر پرویز اقبال‘ کیرول نورین‘ البانے سے ابرٹ جارج‘سٹونے حق سے پاسٹر ڈیرک محبوب‘ شمالی امریکہ میں مسیحیوں کے مذہبی پیشوا فادر الیاس گل‘ عارف مسیحی‘ طارق رحمت‘ پی سی اے کے جنرل سیکرٹری جیمز سپرین‘ ایلوس نقوی نے اپنے خطابات میں کہا کہ پاکستان میں جن افراد کا اثر ورسوخ نہیں ہے ان کیلئے قانون نہیں ہے۔انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ آرزو جو ہماری بیٹی ہے جس کی عمر 13ہے کو چیزوں کو لالچ دے کر ورغلا کر ایک 44سالہ شخص یہ حرکت کررہا ہے ہمیں یہ بتایا جائے کہ کیا وہ اسے مذہب اسلام کیلئے اسے لیکر گیا یا صرف اپنی ہوس کیلئے اسے لیکر گیا۔آربری ہوپ پراسکیوشن تنظیم کے نمائندے نے کہا کہ آرزو راجہ کی ماں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ مجھے میری بیٹی کے ساتھ ملنے دیا جائے مگر ایسا نہیں ہونے دیاگیا جس وجہ سے آج ہم احتجاج کیلئے آئے ہیں اور ہم پاکستان کے اس نظام کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جس میں پولیس اور رینجرز کا اہم کردار ہے۔پی سی اے کے چیئرمین ولیم شہزاد نے وزیراعظم پاکستان سے کہا کہ میں اپیل کرتا ہوں کہ ایسے مافیا کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے جو ہماری بچیوں کو اغواء کر کے مسلمان کرتے ہیں اور پھر بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ان کی شادیاں کردیتے ہیں میں ان افراد کو مافیا کا نام دیتا ہوں۔میں بحیثیت پی سی اے چیئرمین اعلان کرتا ہوں کہ اس سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے اور نوعمر بچیوں کی شادیاں بڑی عمر کے لوگوں سے بند کی جائیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پی سی اے اور پاکستان میں بسنے والی کرسچن کمیونٹی بھوک ہڑتال میں جائے گی۔احتجاج کے دوران ہی اعلان کیا گیا کہ ہماری بچی آرزو کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اوراسے دارالامان بھیج دیا گیا ہے اب ہمارا تقاضا ہے پاکستانی عدلیہ سے‘چیف جسٹس آف پاکستان سے کہ فوری طور پر اس سانحہ پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں انسانی حقوق کی تنظیموں‘ صحافی برادری‘ ریٹائرڈ جج صاحبان اور سیاستدان کو شامل کیا جائے او ردیکھا جائے کہ 13سالہ بچی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے یا جبراً یا لالچ دیکر مذہب تبدیل کیاگیا ہے۔ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ مجھے امریکہ میں رہتے ہوئے تیس سال ہو گئے ہیں اور آج تک میں نے کسی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی اور جب بھی کی ہے پاکستان کیخلاف بولنے والوں سے کی ہے۔تیس سال تک میرا رویہ اپنے ملک پاکستان کیلئے‘اپنی قوم کیلئے ایسا ہی رہا ہے جیسے میں اپنے گھر کے بارے میں بات کررہا ہوں لیکن آج مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ اس سانحہ کے بعد میں نے سمجھ لیا کہ میں مینارٹی ہوں‘ میں مینارٹی کی سوچ کا حامل نہیں رہا میں ہمیشہ میجارٹی سوچ کا حامل ہوں لیکن آج میرے ہی وطن میں میری بیٹیوں کے ساتھ ناروا سلوک اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہم اس ملک میں اقلیتی ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان بھر کی مسیحی برادری بھی آرزو راجہ کے انصاف کیلئے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کررہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here