ماہ ربیع الاول‘ ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم : تحریر سید رضا

0
519

جشن عید میلاد النبی ﷺ  مبارک

میں ہوں سیدہ رضا فرام دنیا انٹرنیشنل یو ایس اے

اسلام وعلیکم قارئین

-خواتین ایڈیشنز کے علاوہ تمام اسلامی ماہ وتواریخ پر بے شمار کالم لکھے اور مزید لکھنے کا سلسلہ جاری وساری ہے آپ قارئین کی دعاؤں کے سائے میں‘مگر ہادیء عالم‘ رحمت دوجہاں حضرت محمدﷺ  کی بابرکت ذات افضل کی ولادت مبارک کے ماہ ربیع الاول پر لکھنا میرے لئے ہمیشہ سے ہی باعث عزت وشرف کا حامل رہا ہے-تمام اہلیان اسلام کو ”ماہ ربیع الاول“مبارک ہو-اسلامی تاریخ کے کیلنڈر میں تیسرا مہینہ ربیع الاول ہے- یہ وہ بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جس میں حضرت محمدﷺ  اس دنیا میں تشریف لائے اور علم ونور کی ایسی شمعیں روشن کیں جس نے پورے عرب کے جہالت کے اندھیروں کو دور کر کے علم وادب اور تہذیب سے عاری معاشرے میں تہذیب وتمدن‘ اخوت وبھائی چارہ کی بنیاد ڈالی- ماہ ربیع الاول امت مسلمہ کیلئے اس لئے بھی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے کہ اس مہینے میں ہمارے نبی آخرالزماں حضرت محمد اس دنیا میں تشریف لائے بلکہ وہ وجہ ء تخلیق کائنات بھی ہیں کیونکہ آپ  کو دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کیلئے بھیجا گیا تھا-قارئین!بعثت نبوی سے قبل تاریخ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانیت دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی‘ ہر طرف کفریت تھی‘باکردار انسانیت وانسانی زندگی کی پاکیزگی پر اندھیرا چھایا ہوا تھا-انسانی حقوق وفرائض کا کوئی صحیح ضابطہ یا آئین موجود نہ تھا آپ ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جب ہر طرف پستی اور بت پرستی کا دور دورہ تھا- تہذیب وتمدن کا انسانی زندگی کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا- ایسے میں خدا تعالی نے حضور سرور کونین  کو دنیا کو اندھیروں سے نجات دلانے کو بھیجا-آپ  پوری کائنات کیلئے ہادی ء عالم ونمونہ کامل بن کر آئے-آپ کی ہستی انسانیت کا کا مل نمونہ اور اخلاق وتمدن کا گہوارہ تھی-آپ اپنے بچپن میں چچا ودادا کی تربیت کے زیر سایہ رہے اور ہر قسم کی لغویات سے دور اپنا بچپن وجوانی کا دور پاکدامنی‘پاکبازی اور شرافت کے ساتھ گزارا‘کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا کبھی بدلہ نہیں لیا اور حتی کہ ظلم کرنے والوں کو کبھی بدعا بھی نہیں دی خود قرآن مجید نے بھی اس کی شہادت دی ہے کہ ترجمہ”بے شک اے محمد آپ حسن اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہیں“-جب رب کائنات نے رحمت اللعالمین کو فلاح وسعادت کے منصب پر فائز فرمایا تو تمام کائنات امن وچین کا گہوارہ بن گئی-جاہل وسرکش لوگ مطیع ودین واخلاق سے آشنا ہو گئے وہ قوم جو دنیا میں سب سے زیادہ اخلاق میں پست تھی اس قوم کو وہ بلندی حضور سرورکونین   کی بدولت ملی جس پر فرشتوں نے بھی رشک کیاعرض یہ ہے کہ آپ  نے انسانیت کی ہر لحاظ سے اصلاح فرمائی‘ نہ صرف دنیا کے اخلاق درست فرمائے بلکہ عقائد‘مذہب‘ تہذیب‘ معاشرت اور زندگی کے ہر شعبے کیلئے ایک مثال قائم کی اور رشد وہدایت کی شمعیں روشن کیں کلام الہی اور آپ کے فرمودات نے رنگ ونسل کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے انسانیت کو اعلی معراج سے روشناس کروایا اور اقوام اسلام کو ساری دنیا میں اعلی مقام بخشا

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
ربیع الاول کے بابرکت اور مبارک مہینہ کا آغاز ہو چکا ہے-اس بابرکت اور نوری مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی پوری دنیا میں تمام مسلم ممالک میں محافل وعیدمیلادالنبی کا انعقاد کیا جاتا ہےربیع الاول کی آمد جہاں ہمیں خوشیوں سے نوازتی ہے وہاں اس مہینے کی آمد اپنے ساتھ امن وآشتی رحمت وبرکت اور محبت کا ایک عالمگیر پیغام بھی لاتی ہے-الغرض حضورساری دنیا کیلئے باعث رحمت تھے اور ہیں آپ کی سیرت‘پاکیزہ اخلاق وصفات کا جتنا بھی بیان کیا جائے اتنا ہی کم ہے مگر قارئین کیا ہم اور آپ یہ محسوس نہیں کررہے کہ ہم نے اپنے رسول پاک کی تعلیمات کو یکسر فراموش کرتے ہوئے اغیار کے تسلط میں آتے جا رہے ہیں‘اپنی دینی تعلیمات کو بھلاتے ہوئے غیر اقوام کی رسومات بھی اپنے اوپر خول کی طرح چڑھائے چلے جارہے ہیں -جہاں ہم ایک طرف رسول اکرم  کی ولادت کا جشن مناتے ہیں وہیں ہم پر لازم بھی ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہوں -اگر ہم اپنے انفرادی واجتماعی مسائل کو بھول کر عالم اسلام کے حق اور مفاد کیلئے متحد ہو جائیں تو آپ  کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ اور راہ ہدایت بن جائیں اور عالم اسلام کی تمام مشکلات حل ہو جائیں -مگر دیکھا جائے تو ہم صرف دعوی کرنے والے ہی رہ گئے ہیں – ہمارے عقیدے‘ ہمارے عمل اور روایات واسلوب ہی ہمارے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں اور دشمنان اسلام ہم سے پوچھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے خدا اور آقا ومولا کی تعلیمات‘ہدایات اور احکامات اور روایات کو کیوں بھلا دیا اور راہ ہدایت سے کیوں دور ہو کر بھٹکتے پھر رہے ہو؟ لیکن ہمارے پاس جوابدہی کو کچھ بھی نہیں

قارئین! دین اسلام ایک نہایت پرسکون اور زندگی سدھارنے والا مذہب ہے جس میں رشد وہدایت کے تمام سرچشمے موجود ہیں -دیس ہو یا پردیس اگر اللہ ورسول  کے بتائے ہوئے دین پر چلتے ہوئے اور سیرت نبوی کی تعلیمات سے روشنی لیتے ہوئے زندگی استواری جائے تو ہماری آنے والی زندگیوں میں استواری پیدا ہو جائے گی اور شاید اس طرح ہم اپنے خدا ورسول کے آگے سرخرو ہو سکیں آئیے ہم سب مل کر اس بابرکت مہینہ سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے نبی  کے صدقے میں درود پاک کو کثرت سے ورد کریں اور اپنے مالک‘خدا‘آقا ومولا کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر محبت واخوت کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچائیں اور دنیا میں عالم اسلام کا پرچم بلند کریں تاکہ ساری دنیا ہمارے آقا حضرت محمد پردورد وسلام پڑھنے پر راغب ہو جائے
بلغ العلی بکمالہ‘کشف الدوجا بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ‘صلو علیہ وآلہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here